گلگت بلتستان میں الیکشن 2026 کی تیاریاں عروج پر ہے الیکشن کمیشن نے تاریخ کا اعلان کرنے کے بعد تاریخ ملتوی کرکے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ، دیکھا جائے تو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاست وفاقی حکومت کے گرد گھومتی ہے ، سوائے 1994 کے آج تک کی تاریخ میں اسلام آباد میں جس کی حکومت ہے وہ جماعت ان دونوں ریجن میں الیکشن جیتے رہے ہیں ، اس بار چونکہ اسلام آباد مخلوط حکومت ہے لہذا گلگت بلتستان میں بھی کچھ اسطرح کا سیاسی منظر نامہ نظر آئے گا ، لیکن ہمارا موضوع بحث تصویر کا دوسرا رخ ہے کیونکہ گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ تاریک اور دھندلی رہی ہے۔ بدقسمتی سے، اس خطے میں قومی سیاست کو کبھی پروان نہیں چڑھنے دیا گیا۔ یا تو سیاست دان خود اپنی نادانیوں اور انا پرستی کا شکار ہوئے، یا انہیں ایسا ہونے نہیں دیا گیا۔ گلگت لیگ سے لے کر گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ تک سیاسی تاریخ میں مقامی سیاسی جماعتوں کے پاس خطے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت اور مسلہ کشمیر کے تناظر میں ریاست پاکستان کے اصولی موقف کی روشنی میں واضح اور مضبوط بیانیہ ہونے کے باوجود، عوام نے ہمیشہ گندم سبسڈی، چپڑاسی کی نوکری اور ٹھیکوں کیلئے ہی ووٹ دیے۔ یعنی پورے خطے کا انتخابی عمل لین دین پر مبنی رہی ہے ۔
میر غضنفر علی خان سے فدا محمد ناشاد تک کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو یہی نظر آتا ہے کہ انہوں نے کبھی عوام سے نظریے کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار پارٹیاں تبدیل کرنے کے باوجود کامیاب ہوتے رہے، کیونکہ ان کے پاس ووٹ لینے کا ذریعہ ٹھیکیداروں کی سرمایہ کاری اور پھر انہی پر مزید انکا انویسٹمنٹ ٹھیکوں کی شکل میں رہا ہے۔ ان کا قومی بیانیے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہا۔ ایسے میں اس قوم سے شکوہ ہی کیا کیا جائے، جس کی کوئی سیاسی تربیت ہی نہیں ہوئی ہو۔
گلگت میں مرحوم کرنل حسن خان کی کامیابی کو شکست میں بدل کر، نواز خان کی مسلسل کامیابی اور شہزاد آغا کی شکست کے بعد اقتدار تک پہنچنے کا سفر، نظریے سے ہٹ کر طاقت کے حصول کی ایک مثال ہے۔ مرحوم کرنل مرزا حسن خان نے قومی سیاست کے تحت انتخابات میں حصہ لیا، اور جب وہ کامیاب ہونے لگے تو ان کا حلقہ ہی تقسیم کر دیا گیا۔ مگر عوام نے اس پر مزاحمت نہیں کی بلکہ عوام کو بہکائے گئے اور وہ پس ہشت چلا گیا ۔
ایڈوکیٹ جوہر علی خان مرحوم نے جب قومی سیاست کا بیڑا اٹھایا تو انکو صوبے کی بیماری پر لگا دیا اور انہوں اپنی مرضی سے اس بیماری کو قبول کرکے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی لیکن گلگت بلتستان صوبہ نہیں بن سکے البتہ انکا انجام قابل افسوس ناقابل یقین طریقے سے ہوا ۔ مرحوم امان اللہ خان کو بھی بھٹو نے صوبائی نشے پر لگانے کی مذموم کوشش کی لیکن انکا ایک جواب ، آپ مسلہ کشمیر کا کیا کریں گے، نے بھٹو لاجواب کردیا ۔ آج بدقسمتی سے نواز خان ناجی کی کامیابی کو اس کے عقیدے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ اگر عقیدہ ہی معیار ہوتا تو شہزاد آغا بھی نظریۂ قوم پرستی کے ساتھ کامیاب ہو جاتے۔ دراصل، ناجی خوش قسمت ہیں کہ وہ باشعور عوام کے حلقے سے الیکشن لڑتے ہیں، جہاں اسماعیلی خلیفہ پیر کرم علی شاہ اور انکا بیٹا بھی الیکشن لڑ چکے ہیں، مگر عوام نے میڈیٹ نواز خان ناجی کو ہی دیا۔ یہ باشعور ہونے کی علامت ہے کہ عوام نے جذباتی تقریروں کے بجائے شعور پر مبنی قیادت کا انتخاب کیا۔
اسی طرح مرحوم سید حیدر شاہ نے بھی قومی سیاست کے تحت الیکشن میں حصہ لیا، لیکن انہیں محض چند ووٹ ملے، حالانکہ وہ علاقے کے میر واعظ بھی تھے۔ یہاں بھی عوام کی لاشعوری اور سیاسی تربیت کی کمی نمایاں ہے۔
اگر آج کی صورت حال کا جائزہ لیں، تو وہ تمام قوانین جو گلگت بلتستان کے مفاد میں نہیں، انہی نمائندوں کے ذریعے منظور کروائے جا رہے ہیں، جنہیں عوام نے ووٹ دے کر اسمبلی میں پہنچایا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام کے لیے یہ مسئلہ ہی نہیں کہ ان کے نمائندے خطے کے خلاف فیصلے کر رہے ہیں۔ یہی نمائندے دوبارہ ووٹ لے کر اسمبلی پہنچ جاتے ہیں۔
البتہ گندم سبسڈی عوام کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور پاکستان سے رشتہ ناطہ توڑنے کیلئے تیار ہوتے حالانکہ اس سبسڈی نے عوام کو محنت، کاشتکاری اور زراعت سے دور رکھا ہوا ہے، زراعت گلگت بلتستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن جب لوگ اس سستی زندگی سے محروم ہونے لگتے ہیں، تو سڑکوں پر آ جاتے ہیں اور ایسے احتجاج کو “انقلاب” کا نام دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا حقیقی انقلاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان احتجاجوں میں انجمن تاجران، مذہبی مولوی وغیرہ شامل ہوتے ہیں، اور مطالبات کی منظوری کے بعد بلوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔
اس کی تازہ مثال گرین ٹورزم کی یلغار ، لینڈ ریفارم بل اور مائننگ اینڈ منرل پالیسی کی منظوری اور عوامی ایکشن کمیٹی کی پوری قیادت کی گرفتاری ہے۔ عوام کی خاموشی اور تماش بینی اس بات کا ثبوت ہے کہ 2026 میں بھی گلگت بلتستان کے عوام کو یہ شعور نہیں کہ ان کا مستقبل تاریکی کی طرف جا رہا ہے۔ ان کے وسائل، معدنیات اور جنگلات پر انہی کے ووٹ سے منتخب نمائندے قبضہ کروا رہے ہیں۔
معاشرہ اس قدر فکری جہالت کا شکار ہو چکا ہے کہ پیپلز پارٹی کی رہنما سعدیہ دانش نے یہ دعویٰ کر دیا کہ ان کی جماعت نے لینڈ ریفارم کے ذریعے عوام کو 28 ہزار مربع میل زمین کا مالک بنا دیا۔ اس سوچ کی پستی کو بیان کرنا مشکل ہے، کیونکہ ایک ذی شعور انسان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حالاںکہ یہ وہی جماعت ہے جنہوں نے آج تک کراچی کو حق ملکیت نہیں دی اس وجہ سے کراچی کا شمار دنیا کی تںاہ حال شہروں میں ہوتا ہے ۔
آرڈر 2009 سے لے کر آج تک، گلگت بلتستان کے حقوق مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔ قوم پرستوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا، شناختی کارڈ بلاک کیے گئے، غداری کے مقدمات بنائے گئے، مگر عوام کی آنکھیں اب بھی بند ہیں۔
لہٰذا وقت کی اشد ضرورت ہے کہ تمام قوم پرست، لال سلام کامریڈز، واقعی میں اگر گلگت بلتستان کے لیے سنجیدہ ہیں، تو سوشل میڈیا سے نکل کر عوامی سطح پر شعور اجاگر کریں۔ انفرادی طور پر اسپیکر لے کر ہر گلی میں آواز بلند کریں کہ اپنے حق کے لیے نکلو، ورنہ تمہاری تاریخ، ثقافت، زمین، زبان اور چراگاہیں سب کچھ ختم ہو جائیں گی۔
دوسرے مرحلے میں انہیں چاہیے کہ ہر حلقے سے 3 سے 4 امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوں، اور الیکشن کے بعد تمام ووٹوں کو اکٹھا کر کے صرف ایک امیدوار کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ یہ طریقہ کار جمہوری معاشروں میں رائج ہے اور سہولت کاروں کا راستہ روکنے میں مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتا ہے۔
لہٰذا پارلیمانی سیاست میں شمولیت کے لیے قوم پرستوں کو ایک گرینڈ الائنس کے ذریعے حکمت عملی طے کرنی چاہیے، کیونکہ یہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے جس میں گلگت بلتستان کا بھلا اور اگلی نسل کی بقاء ہے۔
تحریر ۔ شیر علی انجم

وما علینا الاالبلاغ
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں