پاکستان کی پہچان بے نظیر بھٹو / اطہر شریف

جس معاشرے میں عورت کو پاوں کی جوتی سمجھا جاتا ہے اس معاشرہ میں بے نظیر بھٹو کا دو بار وزیر اعظم منتخب ہونا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔بینظیر بھٹو پاکستان کی واحد سیاستدان جسے آکسفورڈ یونیورسٹی میں یاد کیا جاتا ہے۔

بینظیر بھٹو پاکستان کا روشن چہرہ اور وفاق کی علامت اور عوام کی امنگوں کی مظہر تھی-وہ واقعی ہی اپنے نام کی طرح بے نظیر لیڈر، بے نظیر بیٹی ،بے نظیر ماں، بیوی اور بے نظیر بہن تھی -واقعی ہی آئرن لیڈی پاکستان تھی-وہ تہذیبوں کے تصادم کو فروغ نہیں دینا چاہتی تھی وہ تہذیبوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینا چاہتی تھی -وہ سیاست دان سے زیادہ ایک مدبر رہنما اور روشن خیال دماغ رکھنے والی لیڈر تھی -بے نظیر بھٹو نے اپنے عظیم والد اور بھٹو ازم کا پرچم تھا ما اور دنیا کو یہ دکھایا کہ نظریہ زندگی اور موت سے بلند ہوتا ہے-بینظیر بھٹو کا ایک نعرہ تھا جب تک بھوک اور ننگ رہے گی اپنی جنگ رہے گی-بھٹو ازم کو پاکستا ن کے قریہ قریہ گلی گلی تک پہنچانے کے لئے اس نو عمر نو زائیدہ سیاست دان بینظیربھٹو نے سیاست کے پر خطر میدان میں قدم رکھتے ہوئے اپنا رخت سفر باندھا راستے کی مشکلات آڑے آئیں ۔اپنے مشن کی تکمیل اور کانٹوں میں سے راحت کے پھول چننے میں واقعی دشواری آئی لیکن عظیم باپ کی عظیم بیٹی کے قدم نہ ڈگمگائے ۔وہ آہستہ آہستہ ملکی حالات کے تناظر میں اپنے تجربات اور مشاہدات کو گھتی میں لئے قدم بڑ ھاتی رہیں عوام کا جم غفیر انکے قافلے میں رواں دواں رہا کئی مرتبہ نشیب و فراز بھی آئے عوام کی بھر پور تائید و حمایت سے یہ نوجوان لیڈر پاکستان کے بڑے بڑے جاگیرداروں ،وڈیروں اور پیشہ ور سیاست دانوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی رہی وہ بینظیر تھی۔لیکن آج جب وہ ہم میں نہیں تو ہر پاکستانی ان کی کمی شدت سے محسوس کررہا ہے۔ بینظیر بھٹو نے اپنی شخصیت، باوقار سراپے، مضبوط کردار، حوصلہ مندی، چیلینجوں سے نمٹنے کی صلاحیت، دوراندیشی اور ایسی ہی دیگر صلاحیتوں کے بل بوتے پر دنیا کے تقریباً ہر حصے میں پاکستان کی پہچان کرائی۔ آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ بینظیر بھٹو کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔نام کی طرح اُن کی زندگی بھی بے نظیر تھی۔

سکتا ہوں۔1988 میں بینظیر بھٹو کو انسانی حقوق کی خدمات پر BRUND KROISKY ایوارڈ سے نوازا گیا – 1989 میں لبرل انٹرنیشنل ادارے نےایس فریڈم ایوارڈ دیا ۔1989 میں ریڈ کلف کی طرف سے PHIBEFA ایوارڈ دیا گیا۔مراکش کا سب سے بڑا GRAND CORDON DE WISSAL ALAOUI ایوارڈ 1989
مں دیا گیا -انیس سو پچانوے 1995 میں لاس اینجلس امریکہ کے میر کی طرف سے سے شہر کی اعزازی چابی محترمہ بینظیر بھٹو کو دی گئی-THE GALLU SHUIN HONORARY AWARD ٹوکیو میں 1996 میں دیا گیا۔ 1990 ميں یونی فحیم کی طرف سے THE NOVEL FOUNDATION AWARD دیا گیا۔

1996 میں بوسینا کے صدر کی طرف سے GOLDEN MEDAL DRAGON OF BOSNIA AWARD دیا گیا۔

اکسفورڈ یونین کی پہلی خاتون پاکستانی سٹوڈنٹ جس نے یہ اعزاز 1976 میں حاصل کیا۔گینیز بک آف دی ورلڈ کارڈ 1996 میں بینظیر بھٹو کو دنیا کی پہلی 50 اہم خواتین میں شامل کیا گیا۔

اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور دنیا کی سب سے کم عمر وزیر اعظم 35 سال کی عمر میں وزیراعظم

بینظیر بھٹو نہ صرف بے نظیر لیڈر ایک دانشور بھی تھیں انہوں نے مختلف کتابیں لکھیں

بینظیر بھٹو نے جو کتب لکھیں ان کے نام

1-دی گیدرنگ سٹارم 1983 the gathering Storm

2-ڈاٹر آف ڈیسٹنی 1988 daughter of destiny

3-ڈاٹر آف ایسٹ 1989 daughter of East

4-Reconciliation: Islam, Democracy, and the west

15 February 2008

بی بی شہید کی سیاست اور انداز سیاست کی بات بھی نرالی تھی وہ آج بھی مقبولیت کے اس درجے پر ہیں جہاں تک پہنچنے میں طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔ آج بھی پاکستانی سیاست بھٹوز کے انداز سیاست کے گرد گھوم رہی ہے،لیکن وہ ایک بہادر قوم پرست باپ کی بہادر قوم پرست انتہاہی نڈر بیٹی تھی۔محترمہ نے زندگی میں بہت عروج و زوال دیکھا ای بینظیر بھٹو واقعی ہی چاروں صوبوں کی زنجیر وفاق کی علامت تھی روشنی کی کرن تھی اپنی شہادت سے صرف چند روز پہلے بےنظیر بھٹو نے کہا کہ گیدڑ کی طرح جی کر لمبی عمر حاصل کرنے کی بجائے شیر کی کی طرح سینہ تان کا آگے پڑھتے ہوئے ،جان دینا میرے لیے باعث فخر ہوگا بینظیر کی شہادت پاکستان کے بہت بڑے المیوں میں سے ایک ہے- اپنے باپ کے پھانسی گھاٹ سے کوئی دو کلومیٹر دور بھٹو کی بیٹی کو شہید کر دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہادت کا رتبہ پانے کے بعد ایک افسانوی کردار کی شکل اختیار کر گئی ۔

julia rana solicitors london

محترمہ بینظیر بھٹو روزانہ اپنے قاتلوں کوللکارتی تھی -قاتلوں کو اپنی بندوق کی طاقت پر اسے اپنی قربانی کی طاقت پر ناز تھا۔ بھٹوز ظلم کو نہیں مانتے – بینظیر بھٹو کی 54 سالہ زندگی کے ابتدائی 24 سال چھوڑ کر کر باقی تیس سالوں میں دو مرتبہ کا اقتدار کے سوا سیاسی اور  ذاتی دکھوں کی داستان مسلسل ہی ہے مجموعی طور پر اسے ایک دکھ بھری زندگی کہا جاسکتا   ہے جسں نے اپنے ملک اور اپنی عوام کے لیے لئے قربانی دی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply