وی آئی پی کلچر: ایک لعنت/ علی عباس کاظمی

پاکستانی معاشرے میں شادی بیاہ اور فوتگی جیسے مواقع کبھی سادگی، باہمی احترام اور دکھ سکھ کے سچے اظہار کی علامت سمجھے جاتے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان پاکیزہ مواقع پر خود ساختہ رسومات، نمائش اور فضول خرچی نے ایسی جڑ پکڑ لی ہے کہ اصل مقصد کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ آج یہ تقاریب کم اور طبقاتی نمائش زیادہ بن چکی ہیں، جہاں انسان کی عزت اس کی حیثیت، لباس، گاڑی اور تعلقات کے ترازو میں تولی جاتی ہے، نہ کہ اس کی انسانیت کے وزن سے۔
سب سے تکلیف دہ پہلو وہ دوہرا معیار ہے جو شادی ہالوں اور بڑی تقریبات میں کھلے عام دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی تقریب میں انسانوں کو دو درجوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ ایک طرف وی آئی پی مہمان جن کے لیے نرم و گداز صوفے، الگ میزیں، ایئرکنڈیشنڈ گوشے اور دسترخوان پر سجا ہوا کھانا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب عام یا غریب مہمانوں کے لیے عام سی کرسیاں، بوفے کی نہ ختم ہونے والی قطاریں، کھڑے ہو کر پلیٹ میں کھانا اور کبھی کبھار ایسا رویہ بھی جھیلنا پڑتا ہے جو عزت سے زیادہ بے قدری کا احساس دلاتا ہے۔ یہ فرق صرف سہولت کا نہیں، یہ عزت اور بے عزتی کے درمیان کھینچی گئی ایک واضح لکیر ہے۔
سفید پوش طبقہ اس سارے منظرنامے کا سب سے خاموش مگر سب سے زیادہ زخمی کردار ہے۔ وہ لوگ جو نہ تو وی آئی پی کہلانے کے لائق سمجھے جاتے ہیں اور نہ ہی اپنی تنگ دستی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ وہ بوفے کی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، نظریں جھکائے، دل میں ایک بوجھ لیے کہ کہیں کوئی جان پہچان والا دیکھ نہ لے۔ وہ پلیٹ ہاتھ میں لیے کھڑے رہتے ہیں کیونکہ ان کے لیے میز مخصوص نہیں۔ یہ صرف جسمانی تکلیف نہیں، یہ روح کی تذلیل ہے، وہ تذلیل جو انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے مگر وہ مسکرا کر سہہ لیتا ہے۔
اکثر شادی ہالز میں ایک عجیب مگر مانوس منظر دیکھنے کو ملتا ہے، پورا ہال مہمانوں سے بھرا ہوتا ہے، بچے بھوک سے نڈھال، بزرگ کرسیوں پر بے چین، مگر کھانے پر جیسے کسی نے تالا لگا رکھا ہو۔ اعلان یہی ہوتا ہے کہ بس فلاں وی آئی پی صاحب آ رہے ہیں، ان کے آتے ہی کھانا کھلے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے دعوت ولیمہ نہیں بلکہ کسی سرکاری فائل کی منظوری کا انتظار ہو رہا ہو۔ مہمان انسان کم اور پس منظر کا حصہ زیادہ محسوس ہوتے ہیں، اصل اہمیت اس شخصیت کی ہوتی ہے جس کی آمد سے سالن کو بھی اجازت نامہ ملتا ہے۔ اس دوران غریب آدمی پلیٹ سنبھالے صبر کا روزہ رکھتا ہے جبکہ امیر طبقہ اندرون خانہ مسکراہٹوں کے ساتھ خاص انتظامات سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ رویہ دراصل اس معاشرتی اصول کا اعلان ہے کہ یہاں وقار انسان ہونے سے نہیں، مقام رکھنے سے ملتا ہے۔ اصلاح کا تقاضا یہی ہے کہ شادی کی خوشی کو نمائش کا ذریعہ بنانے کے بجائے برابری، وقت کی قدر اور مہمانوں کے احترام کو ترجیح دی جائے۔ اگر سب مدعو ہیں تو سب کا حق ایک سا ہونا چاہیے، کیونکہ بھوک نہ وی آئی پی دیکھتی ہے اور نہ عام آدمی، وہ تو صرف انسان دیکھتی ہے۔
یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا عزت صرف امیر کی جاگیر ہے؟ کیا ایک دعوت میں کھانا سب کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا؟ اگر سب ایک ہی ہال میں مدعو ہیں تو پھر نشست، پیشکش اور رویہ الگ کیوں؟ کیا کسی کی مالی حیثیت اسے کمتر انسان بنا دیتی ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سماجی رویوں نے عملی طور پر اسی بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔
شادی بیاہ میں فضول خرچی اور نمائش اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اصل خوشی دب کر رہ گئی ہے۔ قرض لے کر شادیاں کی جا رہی ہیں، دکھاوے کے لیے مہنگے ہال، بھاری بھرکم مینیو، روشنیوں کی بھرمار اور وی آئی پی انتظامات کیے جاتے ہیں، صرف اس خوف سے کہ کہیں لوگ کیا کہیں گے۔ اس دوڑ میں سب سے پہلے انسانیت ہارتی ہے پھر سادگی، پھر خلوص اور آخر میں وہ خاندان جو برسوں تک ان قرضوں کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔
فوتگی جیسے غمگین مواقع پر بھی یہی طبقاتی رویہ سر اٹھائے نظر آتا ہے۔ تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے الگ الگ انتظام، کسی کو کرسی، کسی کو فرش، کہیں چائے بسکٹ، کہیں مکمل ضیافت۔ حالانکہ موت انسان کو برابر کر دیتی ہے، مگر ہم نے وہاں بھی برابری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دکھ کے لمحے بھی نمائش کی نذر ہو چکے ہیں اور انسانیت خاموش تماشائی بنی کھڑی ہے۔
یہ وی آئی پی کلچر صرف سہولت نہیں مانگتا، یہ انا کی تسکین چاہتا ہے۔ چند مخصوص لوگوں کو خصوصی بنا کر باقی سب کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ کم تر ہیں۔ یہی احساس معاشرے میں نفرت، حسد اور بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ ایک ہی تقریب کسی کے لیے عزت کا باعث بنتی ہے، تو کسی کے حصے میں دل آزاری اور احساسِ محرومی آتا ہے۔
شادی ہالوں اور اجتماعی تقریبات میں اس کلچر سے چھٹکارا حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ کام صرف ہال مالکان کا نہیںبلکہ میزبانوں، خاندانوں اور پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر دعوت ہے تو سب کے لیے ایک جیسی، اگر نشست ہے تو سب کے لیے یکساں، اگر کھانا ہے تو عزت کے ساتھ سب کے سامنے پیش کیا جائے۔ بوفے ہو تو سب کے لیے ہو، میز پر سروس ہو تو سب کے لیے ہو، درمیان میں دیوار نہ کھڑی کی جائے۔
یہ کہنا کہ وی آئی پی مہمان الگ ہوتے ہیں، ایک کمزور دلیل ہے۔ اصل وی آئی پی وہ ہوتا ہے جو انسان ہونے کا احترام کرے، نہ کہ وہ جس کے پاس دولت یا اختیار ہو۔ جب تک ہم دولت کو عزت کا معیار بنائے رکھیں گے، تب تک یہ دوہرا معیار ختم نہیں ہو گا۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم نئی نسل کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ وہ بچے جو یہ مناظر دیکھتے ہیں، وہ سیکھتے ہیں کہ انسان کی قدر اس کے پیسے سے ہوتی ہے، کردار سے نہیں۔
سادگی کوئی شرمندگی نہیں، اصل شرمندگی انسان کو انسان سے کمتر سمجھنا ہے۔ حقیقی فضول خرچی مہنگے دسترخوان نہیں، بلکہ وہ رویّے ہیں جو انسان کی عزت نفس روند دیتے ہیں۔بہتر معاشرہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ان خاموش مگر ظالمانہ روایتوں پر سوال اٹھائیں، اور برابری کی بات کہنے کا حوصلہ رکھیں، چاہے ردعمل کچھ بھی ہو۔
یہ تحریر کسی فرد یا کسی تقریب کے خلاف نہیں، بلکہ اُس سوچ کے خلاف ہے جو انسان کو طبقوں میں بانٹ دیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عزت کا سودا نہیں ہوتا، یہ بانٹی جاتی ہےسب کے ساتھ، برابر۔ شاید تب ہی ہماری تقریبات پھر سے مسکراہٹوں اور خلوص کی پہچان بن سکیں، نہ کہ آنکھوں میں چھپے آنسوؤں کی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply