منٹورشپ، مرشد اور شخصیت تراشی کا فن/محمد امین اسد

زندگی کے سب سے مشکل لمحے وہ نہیں ہوتے جہاں راستہ بند ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جہاں کئی راستے سامنے ہوں اور انسان کو معلوم نہ ہو کہ کس سمت قدم بڑھایا جائے۔ ایسے لمحوں میں انسان عموماً یا تو خود پر حد سے زیادہ اعتماد کر بیٹھتا ہے، یا پھر مکمل طور پر کنفیوژن کے سپرد ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک درست رہنما، ایک سمجھ دار مربی، مرشدیا ایک باخبر منٹور انسان کی زندگی میں خاموشی سے داخل ہوتا ہے، نعرے لگائے بغیر، حکم چلائے بغیر، اور صرف اتنا کرتا ہے کہ سمت واضح کر دیتا ہے۔ یہی عمل منٹورشپ کہلاتا ہے، اور یہی عمل آج کی زندگی میں سب سے زیادہ نایاب ہوتا جا رہا ہے۔

منٹورشپ کو اگر محض نصیحت، سختی یا بالا دستی سمجھ لیا جائے تو یہ اپنی اصل روح کھو بیٹھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منٹورشپ کوئی زبردستی کا تعلق نہیں۔ یہ ایسا رشتہ ہے جو منٹی اپنی مرضی اور شعور سے اس شخص کے ساتھ قائم کرنا چاہتا ہے جس پر اسے اعتماد ہو کہ وہ زندگی کے اس مخصوص میدان یا اس خاص سفر میں دیانت داری سے اس کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ اسی طرح منٹور کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اس رشتے کو دل سے قبول کرے، یہ جانچ لے کہ آیا وہ واقعی اس میدان میں رہنمائی کی اہلیت، وقت اور ظرف رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ محض نام، عہدے یا اخلاقی دباؤ کے تحت منٹور بنے، تو یہ رشتہ ابتدا ہی میں کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

منٹورشپ کا مقصد کسی کو تابع بنانا نہیں بلکہ خود مختار بنانا ہے۔ ایک اچھا منٹور منٹی کو اپنی نقل یعنی کاپی نہیں بناتا، بلکہ اسے اپنی اصل پہچان تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ جواب کم دیتا ہے، سوال زیادہ پیدا کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ “یہ کرو”، بلکہ یہ سمجھاتا ہے کہ “یہ کیوں اور کیسے بہتر ہو سکتا ہے”۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بڑے اذہان ہمیشہ کسی نہ کسی صحبت میں پروان چڑھے، سقراط اور افلاطون ہوں یا امام ابو حنیفہؒ اور ان کے علمی حلقے، کہیں بھی اصل تعلق حکم اور اطاعت کا نہیں، مکالمہ اور تربیت کا تھا۔

زندگی کو اگر ایک خام پتھر کہا جائے تو منٹورشپ اس فن کا نام ہے جو اس پتھر کو تراشتا ہے۔ مشکل حالات، ناکامیاں اور دباؤ اسی تراش کا حصہ ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان درد سے گھبرا کر رک جاتا ہے، جبکہ منٹور اسے یہ سمجھاتا ہے کہ یہ ضرب توڑنے کے لیے نہیں، نکھارنے کے لیے ہے۔ درد اگر سمجھ لیا جائے تو انسان کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، اور یہی حوصلہ آگے بڑھنے کی اصل طاقت بنتا ہے۔

منٹورشپ کی بنیاد اعتماد، احترام اور مکالمہ ہے، نہ کہ حکم اور کنٹرول۔ اسی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ منٹور اور منٹی کے درمیان ایک غیر تحریری مگر واضح معاہدہ ہو۔ اس معاہدے میں یہ طے ہو کہ دونوں اس رشتے کو سنجیدگی سے لیں گے، ایک دوسرے کے وقت کا احترام کریں گے، اور مہینے کے کسی مخصوص حصے میں، جس پر دونوں راضی ہوں، باقاعدہ ملاقات یا گفتگو کے لیے وقت نکالیں گے۔ منٹورشپ وقتی جوش یا اتفاقی ملاقاتوں سے نہیں چلتی؛ اسے تسلسل، باقاعدگی اور ذمہ داری درکار ہوتی ہے۔ یہ بغیر لکھا ہوا معاہدہ ہی اس رشتے کو محض خیرخواہی سے اٹھا کر ایک مؤثر تربیتی عمل میں بدل دیتا ہے۔

منٹورشپ کا عمل بھی سادہ مگر منظم ہوتا ہے۔ ابتدا میں اعتماد اور کھلا مکالمہ پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر منٹور منٹی کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور مزاج کو سمجھتا ہے۔ اس کے بعد رہنمائی اور فیڈبیک آتا ہے،جو ہمیشہ نرم ہی ہو سکتا ہے، مگر تحقیر کے بغیر۔ اور آخر میں وہ مرحلہ آتا ہے جہاں منٹور آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتا ہے، تاکہ منٹی خود فیصلے کرنا سیکھے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ منٹی کسی کا محتاج نہ رہے۔

اس رشتے میں منٹی کے اوصاف بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ایک اچھا منٹی وہ ہے جو سننے کا حوصلہ رکھتا ہو، اپنی انا کو سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دے، اور تنقید کو ذاتی حملہ سمجھنے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ مانے۔ بغیر عمل کے بہترین رہنمائی بھی بے اثر رہتی ہے، اور بغیر صبر کے کوئی شخصیت مکمل نہیں ہوتی۔

آج کی تیز رفتار دنیا میں منٹورشپ اس لیے ناگزیر ہو چکی ہے کہ معلومات بہت ہیں مگر بصیرت کم ہے۔ ڈگریاں، کورسز اور مہارتیں راستہ نہیں دکھاتیں، صرف اوزار دیتی ہیں۔ راستہ دکھانے کے لیے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو خود یہ سفر طے کر چکا ہو۔

julia rana solicitors london

منٹورشپ نہ زبردستی کا تعلق ہے، نہ نصیحتوں کا دفتر۔ یہ دو باشعور انسانوں کے درمیان ایک رضاکارانہ، باوقار اور ذمہ دار رشتہ ہے، جس کی بنیاد اعتماد ہے، جس کا طریقہ مکالمہ ہے، اور جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان ٹوٹتا نہیں، بنتا ہے۔ آج کی دنیا میں کامیاب وہی نہیں جو تیز دوڑتا ہے، بلکہ وہ ہے جو درست سمت میں، درست رہنمائی کے ساتھ چلتا ہے۔ اور یہی منٹورشپ کا اصل کمال ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply