کرونا اور ہماری تعلیمی بے حسی۔۔محمد ذیشان بٹ

SHOPPING

پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ سیاستدانوں کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے، ہر سیاستدان انتخابی جلسے میں تعلیمی اصلاحات کے وعدے کرتا ہے اور ہم بھولی بھالی عوام اس کا یقین کرلیتے ہیں ۔موجودہ حکومت کی تعلیمی پالیسی نے تو پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیے ۔مارچ سے تعلیمی سرگرمیاں بند ہیں ، لیکن مجال ہے کسی حکومتی یا حزب اختلاف کے سیاستداں کے کان پر جوں رینگی ہو ،یا پھر کرونا بہت ہی تعلیم مخالف وائرس ہے ۔

سونے پر سہاگہ کہ  وزیر موصوف کہتے ہیں پانچ سال بھی بچوں کو بغیر امتحان کے پاس کرنا پڑا تو کر دیں گے۔ اس سے بھی بڑھ کر بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ کرام کا تو ان بے حس سیاستدانوں نے پوچھا تک نہیں ،نجی شعبے سے منسلک اساتذہ پر یہ وقت قیامت سے کم نہیں ۔اساتذہ کرام دوسرے شعبوں سے بچوں کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیا ستم ظریفی ہے کہ میٹرک پاس وزیر ، ایم این اے اور ایم پی اے ہیں۔ اور ایم ایس سی پاس رکشہ چلا رہے ہیں کچھ تو ان حالات سے تنگ آکر خودکشی تک کرچکے ہیں ۔

یہ ایک تلخ حقیقت   ہے کہ ہمارا معاشرہ خود ہی تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ ابھی حال ہی میں 13 اور 14 اگست کو جس طوفان بدتمیزی سے ہم نے آزادی منائی ہے کرونا وائرس تک کسی کونے میں چھپ کر بیٹھ گیا ،جیسے زلزلے یا دوسری قدرتی آفات کے اثرات بعد میں رونما ہوتے ہیں، اسی طرح کرونا کے اثرات نے ہمارے  گئے گزرے تعلیمی نظام کی جڑیں اکھاڑ دی ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل پہلے ہی سہل پسند تھی اب تو ان کو جیسے زنگ لگ گیا ہو۔

SHOPPING

معاشرے  میں ہر شخص کو اپنی جگہ پر  تعلیمی نظام کی مکمل بحالی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ تعلیم  ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔ آج ہمارا یہ حال ہے کہ عالمی سطح پر ہمیں آپ کی حمایت کے لئے دوسری ترقی یافتہ اور مضبوط اقوام کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔اس لیے حکومت وقت نے  جہاں دوسرے شعبوں کو اجازت ی ہے وہاں تعلیمی سلسلے کو بھی بحال کر دینا چاہیے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *