روزگار کے متبادل ذرائع اور اقلیتی انتخابی نظام/ اعظم معراج

قیامِ پاکستان کے بعد وجود میں آنے والی پہلی اور دوسری قومی اسمبلیوں میں مسلم لیگ کے بعد سب سے بڑی تعداد پاکستانی کانگریسی ممبران کی تھی۔ یہ سب بنگالی ہندو تھے۔ تیسرے نمبر پر شیڈول کاسٹ کونسل آف پاکستان کے منتخب نمائندے تھے، اور وہ بھی بنگالی ہندو ہی تھے۔

قراردادِ مقاصد پر ان کی تقاریر اور جوگندر ناتھ منڈل کا استعفیٰ اس باب کے قومی سیاست میں بتدریج بند ہونے کی وجوہات پر واضح روشنی ڈالتا ہے۔ پہلے مارشل لا نے تو قومی سیاست اور معاشرے میں یہ باب مکمل طور پر بند کر دیا۔

قیامِ پاکستان کے وقت بنگال کے علاوہ سندھ کو چھوڑ کر باقی تینوں صوبوں میں ہندو اور سکھ آبادی—چند خاندانوں کے علاوہ—تقریباً پوری کی پوری ہجرت کر گئی۔ صرف پنجاب کے جنوبی اضلاع میں ہندو آبادی کا بہت معمولی حصہ باقی رہ گیا۔ سندھ میں اگرچہ ہندو آبادی اچھی تعداد میں موجود رہی، مگر سیاسی طور پر فعال چند خاندانوں—جیسے بوگیان چندانی—کو چھوڑ کر زیادہ تر دکاندار اور کاروباری طبقے کے لوگ تھے، جو عمومی طور پر سیاست سے لاتعلق رہتے تھے۔
سب سے بڑی تعداد وہ تھی۔ جنہوں نے سنہ سنتالیس میں ہجرت نہیں کی : وہ تھرپارکر اور اس سے ملحقہ علاقوں کے شیڈول کاسٹ ہندو۔ یہ مجموعی طور پر تعلیمی، شعوری اور معاشی اعتبار سے بہت پسماندہ تھے۔

اس تناظر میں، صرف مسیحی وہ کمیونٹی تھی جو پہلی دو اسمبلیوں کے بعد، خصوصاً پانچویں اسمبلی میں، قوم کی سیاست میں مسلمانوں کے بعد سب سے نمایاں تھی۔ اس کی ایک بڑی مثال یہ ہے کہ 1970 سے 1975 تک مسیحیوں نے مذہبی شناخت پر نمائندگی کی مہم چلائی، جس کے نتیجے میں بھٹو حکومت کو 21 نومبر 1975 کی چوتھی آئینی ترمیم کے ذریعے اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں سلیکشن کے ذریعے مختص کرنا پڑیں۔

اس نئے کوٹے کی ترکیب یہ تھی:
چار مسیحی، ایک ہندو، ایک قادیانی۔
یہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ مجموعی آبادی میں اگرچہ ہندو تعداد میں مسیحیوں کے برابر یا زیادہ تھے، مگر سیاسی اعتبار سے وہ بہت پیچھے تھے۔ فعال بنگالی ہندو تو 1950 کے بعد ویسے ہی دھیرے دھیرے ہجرت کر گئے تھے۔

1975 تا 1977 کے درمیانی عرصے میں سلیکشن جاری رہا۔ 1985 سے 1997 تک پانچ مرتبہ جداگانہ انتخاب ہوا جس میں کوٹہ نسبتاً منصفانہ تھا:
چار ہندو، چار مسیحی، ایک قادیانی، ایک دیگر اقلیتوں کے لیے۔
مگر جداگانہ انتخاب کے نظام نے اقلیتوں کو سیاسی شودر اور معاشرتی اچھوت بنا دیا تھا۔

بعد ازاں دوبارہ چوتھی آئینی ترمیم والا سلیکشن سسٹم بحال ہوا، مگر اس میں کوئی واضح کوٹہ موجود نہیں۔ یہ سراسر غیر جمہوری اور انسانی حقوق کے منافی نظام ہے، جس میں ایک کروڑ مذہبی اقلیتوں کے نام پر چند اشرافیہ شخصیات 38 نمائندے خود چن لیتی ہیں۔ اس اقلیتی انتخابی نظام کے تحت اب تک پانچ انتخابات ہو چکے ہیں۔

اس نظام کا “حسن” یہ ہے کہ موجودہ 38 نمائندوں میں:
19 ہندو جاتی، 12 مسیحی، 3 شیڈول کاسٹ، 3 سکھ، 1 پارسی شامل ہیں۔
جبکہ حقیقی آبادی کی ترتیب کچھ یوں ہے:
مسیحی، شیڈول کاسٹ، ہندو جاتی، قادیانی/بہائی، سکھ، کیلاشی، بدھسٹ، پارسی۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ کیلاشی سرکاری کھاتوں میں ہیں ہی نہیں—نہ وزارتِ شماریات میں، نہ الیکشن کمیشن میں۔
اور شیڈول کاسٹ وزارتِ شماریات میں تو علیحدہ شناخت کے ساتھ موجود ہے مگر الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں نہیں!

پاکستانی سیاست میں “باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ” کا اصول جس طرح کارفرما ہے، اسی طرح اگر یہ نظام جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب 38 کے 38 نمائندے کسی ایک ہی طبقے سے ہوں گے۔ یہ کس کمیونٹی سے ہونگے یہ کوئی پہیلی نہیں رہ گئی

موجودہ نظام کے دو بڑے بینفشری ہیں:
1️⃣ ہندو جاتی طبقہ جو اس نظام سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہے۔
2️⃣ مسیحی این جی اوز جنہیں شمالی امریکہ اور یورپی یونین سے اس نظام کے حق میں فنڈنگ ملتی ہے۔

المناک لطیفہ یہ ہے کہ اس نظام کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے—ہندو جاتی—کبھی کبھی اس میں تبدیلی کی آواز بھی اٹھاتے ہیں، جس کی ایک مثال رمیش کمار وانکوانی کا 2014 کا دوہرے ووٹ کا بل ہے۔
جبکہ چند این جی او سے وابستہ مسیحی تو باقاعدہ سرمایہ خرچ کرکے اس غیر جمہوری نظام کے حق میں مہم چلاتے ہیں۔

اس کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے:
ہندو جاتی کے پاس روزگار کے متبادل ذرائع ہیں،
جبکہ کئی مسیحیوں کے پاس بس یہی چند پیشے ہی
چاندی کی سوداگری،
جمہوری غلامی کا روزگار،
یا محرومیوں کی سوداگری۔

julia rana solicitors

اس لئے مسیحو کی اجتماعی بقاء، ترقی و بھلائی،
کا سوچنے والوں کو بڑی سنجیدگی سے اپنی نسلوں کے لئے روزگار کے متبادل ذرائع کا بھی سوچنا ہوگا

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply