دنیا کا امن قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں۔۔ قاضی محمد حارث

انسان فطری طور پر معاشرت پسند ہے اس کے لئے اکیلا رہنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ نا ممکن ہے۔ جب انسان معاشرہ میں رہے گا تو اختلاف بھی پیدا ہو گا اور معاشرتی نظام چلانے کے لئے ضروری ہے کہ سبھی ایک دوسرے کی بہتری اور بھلائی کے لئے کام کریں۔ قرآن کے اندر انفرادی اور سماجی بھلائی کی تعلیمات کا خزانہ موجود ہے۔

معاشرہ کا سب سے چھوٹا حصہ یا یونٹ گھر ہوتا ہے۔ اس کے بعد ملکی اور بین الاقوامی تعلقات آتے ہیں۔ کوئی بھی گھر یا ملک سربراہ کے بغیر نہیں چل سکتا اور گھر یا ملک کے افراد اپنے میں سے اس کو اپنا سربراہ بنا لیتے ہیں جس کو وہ سمجھتے ہیں کہ بہتر طور پر انکی حفاظت کر سکتا ہے یا طاقتور خود ان کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کے لئے آرام و سکون مہیا کرتا ہے ۔

tripako tours pakistan

قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ یہ آفاقی کتاب ہے جو تمام دنیا کی قیامت تک کے لئے راہنمائی کرتی ہے۔ اس کو عربی زبان میں نازل کیا گیا۔ عربی ایک وسیع زبان ہے۔اسے ام لالسان بھی کہتے ہیں۔ یہ ایسی زبان ہے جس میں ایک لفظ کے بے شمار معنی ہو سکتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ کبھی کسی لفظ کے ایک خاص معنی کو زیادہ مناسب سمجھا گیا ہو لیکن بدلتے وقت اور حالات کے مطابق وہ معنی اتنے مناسب نہ رہے ہوں ۔اس لئے قرآن کریم کا مفہوم وقت اور حالات کے مطابق سمجھنا اور جاننا ضروری ہے ۔ جیسے کسی زمانہ میں اونٹ صحرا کی اور گھوڑا میدانی علاقہ کی تیز ترین سواری سمجھی جاتی تھی لیکن اب ان کی جگہ ہوائی جہاز اور دوسری جدید ایجادات نے لے لی ہے۔

سورت البقرہ کی آیت 206 ” اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا” اور سورت القصص آیت 78 ” اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ” کو ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ضابطہ حیات دے رہا ہے اور ہدایت فرما رہا ہے کہایمان اور انتظام دو الگ الگ چیزیں ہیں جیسا کہ سورت النساء آیت 60 میں ہے ۔ ۱} اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ۲} اولامر کی اطاعت اگر ان کو الگ الگرکھو کے تو امن میں رہو گے دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے ترقی کرو گے پھلو پھولو گے لیکن جیسے ہی تمہارا یہ توازن بگڑا تم گھاٹے میں چلے جاؤ  گے۔لیکن دونوں میں توازن کا ہونا بہت ضروری ہے جیسا کہ سورت الرحمٰن آیت 10 ” اقیمو الوزن بالقسط و لا تخسر و المیزان” یعنی انصاف سے وزن قائم رکھو اور اس توازن کو خراب نہ ہونے دینا سے واضع ہے۔

اس واضح حکم سے پتہ چلتا ہے کہ توازن جہاں بگڑا وہیں فساد یا خرابی پیدا ہوئی ۔ یہ اصول زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے خواہ دینی ہو ، دنیا وی ہو، معاشرتی تعلقات ہوں یا گھریلوسطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر ہو۔ سب سے چھوٹا یونٹ گھرہوتاہے۔اگر ماں باپ ،بہن بھائِیوں یعنی آبائی رشتہ داروں یا سسرالی رشتہ داروں کی طرف زیادہ جھکائو ہو تو گھر میں فساد کا باعث بنتا ہے اگر ان تعلقات میں توازن رکھا جائے اور ” تخسرو المیزان ” نہ ہو تو گھرامن و سکون ، راحت و خوشی کا گہوارہ بن جاتا ہے اسی کا دوسرا نام جنت ہے ۔ یہی صورت حال وسیع پیمانے پر معاشرہ کی سطح پر ، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر لاگو ہوتی ہے۔

” جیو اور جینے دو” کی پالیسی پر عمل کیا جائے اور دوسروں کا فکر کرنے کی بجائَے اپنا فکر کیا جائے اور قرآنی ہدایت سورت یٰسین آیت 18 ” و ما علینا الاالبلغ المبین ” پر عمل کیا جائے اور جس بات کو چیز کو آپ بہتر اور اچھا سمجھتے ہیں وہ دوسروں تک پہنچائِیں اور جس چیز یا بات کو دوسرے بہتر اور اچھا سمجھتے ہیں وہ ان کی سنی جائے اور پھر دوسروں کو بھی آزادی سے فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائےاور خود بھی آزادی سے فیصلہ کیاجائے اور کسی سے کوئی تعرض نہ کیا جائے تو یہی ” و اقیمو الوزن” ہے اور جہاں اپنی پسند ، مرضی ، خواہش یا اپنا انتخاب دوسرے پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی یا دوسرے کا حق غصب کرنے ، اس پر قبضہ کرنے اور دوسرے کو اس کے جائز حق سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی وہیں خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی اور ” تخسروالمیزان” کا ارتکاب ہو گیا اور فساد کا باعث بنا۔ اور ” واللہ لا یحب الفساد ” اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا کی ذیل میں آ گیا۔اسی سے گھریلو،معاشرتی ، ملکی اور بین الاقوامی امن تہ و بالا ہوتا ہے اور تباہی کا باعث بنتا ہے۔ آج دنیا پر نظر دوڑا کر دیکھیں تو فسق و فجور، دھنگافساد اور لڑائیاں اس خدائی فرمان پر عمل نہ کرنےکا نتیجہ ہے ۔سورت النساء کی آیت 60 ” اللہ کی اور اس کے رسول کی اور جو تم میں سے تم پر حاکم ہو ،حاکم خلیفہ ، بادشاہ ، صدر یا وزیر اعظم اسکی اطاعت کرو ۔

یہ آیت زندگی کے دو شعبے بتاتی ہے۔ ایک، ایمان یا اعتقاد اور دوسرے ، انتظام یا حاکم ۔ دونوں زندگی کے لئے ضروری ہیں اور دونوں میں توازن ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان پر عمل کرنا یعنی ایک کے بغیر دوسرا ادھورا ہے اگر کوئی پہلے حصہ یعنی اللہ اور رسول پر پختہ ایمان رکھتا ہے اور دوسرے حصہ یعنی حاکم کی کما حقہ کامل اطاعت کرنے والا نہ ہو تو پہلا حصہ بھی ناقص ہو جاتا ہے کیونکہ وہ خدا اور اس ے رسول کے حکم پر عمل کرنے والا نہ ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ حکم دے رہا ہے کہ اپنے حاکم کا حکم مانو جب خدا اور اس کے رسول کے حکم پر پوری طرح عمل نہ کیا تو ایمان کا مل نہ رہا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ دونوں پر عمل کیا جائے۔ دونوں کے سلسلہ میں ” و اقیمو الوزن ” کا حکم ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ حاکم یا اقتدار اعلیٰ کا روحانیت میں بھی سب سے اعلیٰ و برتر ہونا ضروری نہیں روحانیت اس کا ذاتی معاملہ ہے جس کا انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک روحانیت میں اعلیٰ مقام پر شخص انتطامی لحاظ سے نا اہل یا ناقص ہو اور اسی طرح ایک اچھا منتظم روحانی لحاظ سے اعلیٰ مقام پر ہو لیکن حاکم کا حکم ماننا ملکی امن و امان قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے ۔

یہی ” و اقیمو الوزن ” ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حاکم روحانیت میں بہت سے دوسرے لوگوں سے کم ہو یا ان کا ہم عقیدہ نہ ہو لیکن چونکہ وہ حاکم ہے اس لئے اس کا حکم ماننا ” اوالاامر” کی حیثیت سے ضروری ہے۔ حاکم بھی ” و اقیمو الوزن” کے تحت آتا ہے اور اس کا وہ حکم جو خدا اور اس کے رسول کے حکم سے متصادم ہو ماننا ضروری نہیں ۔حاکم کا کام ملکی انتظام و انصرام ، امن و امان قائم رکھنا ہے اس کا کام شہریوں کے عقیدہ اور ایمان میں دخل دینا نہیں اور نہ ہی شہریوں کا کام ہے کہ اس کے عقیدہ اور ایمان میں دخل دیں۔ ہاں تمام شہریوں کو اپنے عقیدہ کے اظہار اور پرچار کی آزادی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں سورت النحل آیت 126 میں ہے ” اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریق پر جو بہترین ہو” ۔ کسی کا دل دکھانے والا ، طعن و تشنیع  والا نہ ہو ۔ پھر سورۃ  الانعام آیت 109 ” اور تم ان کو گالی نہ دو برا بھلا نہ کہو جن کی اللہ کے سوا وہ عبادت کرتے ہیں یا جو ان کے سربراہ ہیں تا ایسا نہ ہو کہ وہ دشمنی میں بغیر علم کے یا ان جانے میں اللہ کی توہین کریں ‘۔ اس آیت میں واضع طور پر پند و نصائح  یا تبلیغ کرنے کا طریقہ اور اسلوب بھی بتا دیا کہ کسی کے مذہبی سربراہ کو بر بھلا مت کہو بلکہ ان کی تعظیم کرو تا معاشرہ میں نفرت پیدا نہ ہو اور امن و امان رہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ پھر سورت الفرقان آیت 64 میں حکم ہے ” اللہ کے بندے زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور جب جاہلوں سے ان کی بات چیت ہوتی ہے تو بحث میں الجھنے کی بجائے ان پر سلامتی بھیج کر الگ ہو جاتے ہیں۔”

یہ وہ سنہری اصول ہے کہ اگر کسی سے دینی یا دنیاوی معاملہ پر اختلاف پیدا ہو جائے تو بحث میں الجھنے کی بجائے احسن طور پر الگ ہو جائو اور کج بحثی نہ کرو کہ اس سے فساد پیدا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ اس لئے سورت الذمر آیت 28 میں ہے ” ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں تا وہ ہوش میں آئیں “۔اور سورت الحشر آیت 22 میں ہے ” یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔”

اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر سوچنے ، غور و فکر کرنے ، عقل سے کام لینے اور احسن طریق اپنانے کا حکم دے رہا ہے اور کھول کھول کر وہ باتیں بتا رہا ہے جن سے معاشرتی اور ملکی امن قائم رہ سکے اور فساد کو نہ صرف نا پسند فرماتا ہے بلکہ اس سے منع کرتا ہے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ ” الفتنہ اشد من القتل ” سورت البقرہ آیت 192 یعنی فتنہ فساد پھیلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔ اسی لئے سورت المائدہ آیت 33 ” من قتل نفساً بغیر نفساً او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا و من احیا ھا فکانما احیاالناس جمیعا” جس نے بغیر کسی جان کے بدلہ کے کسی نفس کو قتل کیا یا زمین میں فساد کیا تو ایسے ہی ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی دی”۔ یہاں یہ نقطہ بہت اہم ہے کہ کسی جرم کے بدلہ میں تو سزا دی جا سکتی ہے اور سزا بھی معاشرہ کا ہر فرد جس سے زیادتی ہوئی ہو نہیں دے سکتا بلکہ سزا دینا قانون کے مطابق ” اوالامر” یعنی حاکم وقت کا کام ہے کہ اس سے ہی ملکی امن قائم رہ سکتا ہے ورنہ انکارکی ، بد نظمی ، دشمنی اور خانہ جنگی پھیل جاتی ہے ۔

قتل کی دو اقسام ہیں ایک جسمانی قتل اور دوسرا معاشرتی قتل ۔ جسمانی قتل تو واضع ہے لیکن معاشرتی قتل بظا ہر نظر نہیں آتا جسے عام طور پر کوئی دینی سربراہ یا گروہ سزا کے طور پر کسی شخص کو معاشرتی بائیکاٹ کی شکل میں  دیتا ہے۔جسے عرف عام میں مقاطع کہتے ہیں۔ یہ سزا کفار مکہ نے ابتدائِی مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں محصور کر کے دی جو قتل سے بھی بد تر ہے اس میں بچے بوڑھے ، عورت مرد سب شامل ہوتے ہیں۔ یہ سزا کفار مکہ نے اپنی دھاک بٹھانے اور مسلمانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے دی تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کفار مکہ کے دین کی طرف لوٹ آئیں ۔

آج کل اس طرح کیسزا دینی سربراہ یا گروہ اس شخص کو دیتا ہے جو اس کی رائے یا حکم سے اختلاف کرتا ہے لیکن اس کا مقصد آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا یعنی دھاک بٹھانا اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ یہ اسلا م میں ناجائز ہے اور اس سے منع کیا گیا ہےکیونکہ یہ “تخسرو المیزان” کے ضمرے میں آتا ہے جو اسلامی لحاظ سے غلط ہے۔ اگر قرآنی تعلیم کو صحیح طور پر سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے تو معاشرہ میں امن و سکون قائم کیا جا سکتا ہے اور ہر کوئی آزادانہ زندگی بسر کر سکتا ہے۔ معاشرہ کے بے راہ رو افراد کو سدھارنے کے لئے سزا بھی ضروری ہے لیکن سزا اصلاح کے لئے ہو بگاڑ پیدا کرنے کے لئے نہ ہو اور سزا سے ظلم اور زیادتی کا پہلو بھی نہ نکلتا ہو ، اسی لئے اسلام میں عفو و در گزر کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

بین الاقوامی امن
آج کل مختلف فورم سے بین الاقوامی امن کے لئے تخفیف اسلحہ کی تجاویز آ رہی ہیں جو بظاہر لفاظی حد تک تو بہت دلکش معلوم ہوتی ہیں ۔لیکن بنظر عمیق جائزہ لیا جائے تو اتنی سود مند ثابت نہیں ہوتیں کیونکہ کوئی بھی ساری دینا کو تخفیف اسلحہ پر آمادہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی اپنے جدید ترین اسلحہ کو تباہ کرکے عام ملکوں کی سطح پر آئے گا اور نہ ہی اپنی بالا دستی سے دست بردار ہونے کو تیار ہے۔ ویسے ہی یہ غیر فطری بات ہے کہ ایک طاقت ور کو کہا جائے کہ وہ اپنی طاقت ختم کرکے عام حالت میں آ جائے۔ جب سے دنیا کا تہذیبی دور کا آغاز ہوا ہے ہر کوئِی اپنی بساط کے مطابق اپنی طاقت اور بالا دستی بڑحاتا ہوا نظر آتا ہے ۔جیسا کہ روزمرہ زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے کہ تمام انسان ذہنی ، جسمانی ، علمی ، معاشی لحاظ سے ایک جیسے نہیں اور اسی تفریق کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے لئے کام کرتے ہیں جس سے انسان کی اپنی اور دوسرے کی بھلائی ہوتی ہے اور کاروبار زندگی چلتا ہے ۔ ہمارا نظام شمسی بھی اس کی واضع دلیل ہے کہ اس میں شامل تمام سیارے اور ستارے اایک جیسے نہیں، کوئی بڑا ہے کوئی چھوٹا، کوئی ساکن ہے کوئی متحرک اور کوئِی روشن ہے تو کوئِی دوسرے سے روشنی لے رہا ہے۔اسی لئے خدا نے فرمایا کہ تخلیق کائینات پر غور کرو اور دیکھو ” و ما خلقت ھذا باطل” یہ سب کچھ بے کا ر نہیں پیدا کیا گیا۔

قرآن کریم میں سورت الروم آیت 42 میں ہے کہ ” خشکی و تری پر انسانوں کے اپنے ہاتھوں فساد ظاہر ہو گیا اس لئے جو انہوں نے کیا ان کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے شائد کہ وہ ہدایت پا جائیں”۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی فساد سے نہ خشکی محفوظ رہے گی اور نہ تری ہر جگہ فساد ہی فساد ہو گا اور انسان بے بس سا ہو جائے گا۔ قرآن کریم وہ عظیم و بر تر کتاب ہے جو نہ صرف یہ کہ مسئلہ بتاتی ہے ،اس کی نشان دہی کرتی ہے بلکہ اس کا حل بھی بتاتی ہے ۔ قرآن کریم میں عالمی امن کے دو حل بتائے ہیں ۔ پہلا حل انسانوں کی اخلاقی تربیت ہے ۔ بچہ کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ فطری طور پر ظلم ، زیادتی ،جبر ، نا جائز طور پر دھونس دھاندلی اور لوٹ کھسوٹ سے نفرت کرے اور اس کاضمیر اسے ایسا کرنے سے روک دے ۔ یہ ایک صبر آزما ، محنت طلب اور مشکل کام ہے اور پھر ایسا کرنا عالمی سطح پر اور بھی ایک لمبی مدت کا تقاضا کرتا ہے ۔ دوسرا حل جیسا کہ سورت الانفعال آیت 61 میں ہے ۔ ‘ اور مسلمانو کو چاہئے کہ تم ان لڑنےوالوں کے لئے جس حد تک ممکن ہو طاقتیں جمع کر لو ۔۔۔۔۔” تاکہ کوئی کم تر اور کمزور سمجھ کے تم پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ارشاد بھی فرما دیا جیسا کہ سورت الانفعال آیت 62 میں ہے کہ ” اگر تمہاری تیاریوں کو دیکھ کر وہ کافر صلح کی طرف مائل ہوں تو اے رسول تو بھی صلح کی طرف مائل ہو اور اللہ پر توکل کر ، اللہ یقیناً بہت دعائیں سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔ “یہ ہے عالمی امن کا وہ اصل نسخہ جو قرآن کریم نے بتایا ہے کہ پوری تیاری اور طاقت جمع کرنے کے باوجود تم نے پہل نہیں کرنی بلکہ اگر دشمن تمہاری تیاری کو بھانپ کر صلح کی طرف مائل ہو تو اپنی تیاری مکمل ہونے کے باوجود گھمنڈ نہیں کرنا بلکہ دشمن صلح کرنی چاہے تو اس سے صلح کر لو لیکن چوکس اور ہوشیار رہو ۔ قرآن کریم میں سورت حم سجدہ آیت 15 میں قوم عاد کا ذکر ہے کہ قوم عاد کو اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا اور وہ اس طاقت کے نشہ میں مست تھے لیکن وہ تباہ ہو گئے کیونکہ سلامتی صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت میں ہی ہے سو گویا تم طاقت میں دشمن سے زیادہ ہو لیکن تکبر نہ کرو بلکہ اگر دشمن صلح کرنی چاہے تو اس سے صلح کر لو اسی میں بھلائی اور بہتری ہے ۔ سورت النحل آیت 23 اور سسورت لقمان آیت 18 میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ” اللہ کو اکڑ باز اور متکبر پسند نہیں ۔”ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس نظام کائنات کی بنیاد اور بقا بھی توازن پر ہی ہے جیسا کہ سورت الرحمٰن آیت،7،8،9″آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم کیا ، خبر دار تم میزان کو خراب نہ کرنا، وزن کو قائم رکھو انصاف کے ساتھ اور اس میں کمی بیشی نہ کرنا “۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس لئے کی کہ اتنا بڑا نظام کائینات میزان کے توازن پر چل رہا ہے اس لئے ممکن نہیں٘ کہ تم اس دنیا کا کاروبار بغیر توازن اور میزان کے چلا سکو کیونکہ یہ غیر فطری اور ناقابل عمل ہو گا اس لئے خبردار دینا میں امن کو سلامتی کا ضامن صرف قرآن کریم کا بتایا ہوا اصول ہی ہے اس کے بغیر دنیا میں امن قائم ہو ہی نہیں سکتا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *