فلم “Dhurandhar” — سنیما، بیانیہ اور طاقت کی ازسرِنو تشکیل

(مکالمہ ویب)بھارتی فلم Dhurandhar خود کو ایک اسپائی ایکشن تھرلر کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر درحقیقت یہ فلم محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے — ایسا بیانیہ جو سنیما کی طاقت سے تاریخ، جغرافیہ اور کرداروں کو مخصوص زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

فلم کی تکنیکی ساخت متاثر کن ہے۔ کیمرہ ورک، بیک گراؤنڈ اسکور اور ایکشن سیکوئنسز ناظر کو گرفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ وہ مہارت ہے جس میں بالی ووڈ اب خاصی حد تک پختگی حاصل کر چکا ہے۔ تاہم سوال تکنیک کا نہیں، تناظر کا ہے۔

کہانی میں پیش کیا گیا کردار رحمان ڈاکیت ایک فرد سے زیادہ ایک تصور بن کر ابھرتا ہے۔ فلم اسے مکمل انسان کے طور پر دریافت کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی، بلکہ اسے ایک مستقل خطرے کی علامت بنا دیتی ہے۔ اس عمل میں وہ تمام سماجی، معاشی اور تاریخی عوامل نظر انداز ہو جاتے ہیں جو ایسے کرداروں کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں ناظر کو نتیجہ دکھایا جاتا ہے، عمل نہیں۔

رنویر سنگھ کا کردار فلم کا مرکزی ستون ہے۔ وہ اسکرین پر پُراعتماد نظر آتے ہیں، مگر ان کا کردار جذباتی گہرائی سے محروم رہتا ہے۔ وہ ایک مشن ہے، ایک ہدف ہے، ایک فیصلہ ہے — لیکن انسان کم محسوس ہوتا ہے۔ اس یک رُخی پن سے فلم کا بیانیہ مزید سخت اور غیر لچکدار ہو جاتا ہے۔

اکشے کھنہ کی اداکاری خاموش مگر اثر رکھتی ہے۔ ان کا کردار فلم میں خوف کی فضا پیدا کرتا ہے، مگر یہ خوف حقیقت کی تفہیم سے نہیں بلکہ اجنبیت کے احساس سے جنم لیتا ہے۔ ناظر ڈرتا ضرور ہے، مگر سمجھنے کا موقع کم ملتا ہے۔

فلم کا سب سے نازک پہلو اس کی جغرافیائی تصویر کشی ہے۔ کراچی اور لیاری کو ایسے مناظر میں سمویا گیا ہے جہاں زندگی کی پیچیدگی، ثقافتی رنگ اور انسانی حرارت تقریباً غائب ہیں۔ یہ مقامات فلم میں پس منظر نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی تاثر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Dhurandhar محض تفریح نہیں رہتی بلکہ ایک سوچے سمجھے زاویے کی نمائندہ بن جاتی ہے۔

یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ فلم مکمل طور پر فرضی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ منتخب سچ پر کھڑی ہے۔ وہ سچ جو بیانیے کو مضبوط کرے، سوال کو کمزور اور ناظر کو متاثر تو کرے، مگر متجسس نہ بنائے۔

اختتامیہ کے طور پر Dhurandhar ایک مضبوط، پالش شدہ اور پُراثر فلم ہے، مگر اس کی اصل آزمائش یہاں شروع ہوتی ہے:
کیا ناظر اسے محض ایک ایکشن فلم کے طور پر قبول کرتا ہے، یا اس کے پس منظر میں چھپے سوالات کو بھی دیکھنے کی کوشش کرتا ہے؟

julia rana solicitors

یہ فلم جواب نہیں دیتی —
بس ایک تاثر چھوڑ دیتی ہے۔
اور آج کے سنیما میں، شاید یہی سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply