حال ہی میں PILAC میں منعقد ہونے والی تیسری پنجابی انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا ، اور مجھے یہ دیکھ کر واقعی خوشی ہوئی کہ دنیا بھر سے۔۔۔کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، بھارت اور مختلف ممالک سے۔۔۔پنجابی بولنے والے اور مختلف شعبوں کے لوگ ایک پلیٹ فارم پراکٹھے ہوئے تھے۔ یہ پلیٹ فارم اس لیے بھی بہت اہم لگا کہ یہاں لوگ اپنی ذاتی اور ورچوئل زندگیوں سے نکل کر حقیقی دنیا میں ایک جگہ جمع ہوئے ۔ مختلف دانشوروں، فنکاروں اور محققین نے بات کی، ریسرچ پیپرز پڑھے گئے، پنجابی کے فروغ پر گفتگو ہوئی۔ میوزک پروگرام بھی تھے۔ سب کچھ مجموعی طور پر بہت اچھا تھا۔
جہاں بہت سی اچھی چیزیں تھیں وہیں مجھے لگا کہ کچھ جہتیں نظر انداز بھی ہوئیں ۔ جیسے توجہ کا زیادہ تر مرکز ” پرانا” پر رہا ۔۔۔۔ روایت اور تاریخ ، ناسٹیلجیا اور کلچرل رومانٹسزم کا عنصر زیادہ لگا ۔ حالانکہ آنے والا وقت بچوں اور نوجوانوں کا ہے۔ مگر کم چیزیں تھیں جن سے وہ connected محسوس کریں ۔ نوجوانوں کی آواز، ان کے موجودہ مسائل اور ان کی نمائندگی تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہ کیا سوچتے ہیں؟ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ ان کے سوال، ان کی زبان، ان کی ترجیحات ۔۔۔ ان پر فوکس نہیں کیا گیا ۔
اس پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی کہ موجودہ کارپوریٹ ڈھانچے میں رہتے ہوئے ایک عام پنجابی کو سیاسی طور پر کیسے بااختیار بنایا جائے۔کارپوریٹ رول کے اندر عوام کو فیصلہ سازی، وسائل اور نمائندگی میں حصہ کیسے دیا جائے؟ کلچر کی گفتگو تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ سیاسی اختیار، زبان کے حقوق اور معاشی انصاف کی بات نہ کرے۔
پھر پنجابی میں اب بہت تنوع diversity ہے۔۔ سواۓ ایک مخصوص طبقہ کے بہت سے نوجوان relate نہیں کر پا رہے تھے ۔مجھے لگتا ہے کہ ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جو شہری ، دیہاتی ، ڈائسپورا، کسان، مزدور، طالب علم ، سرکاری اور پرائیویٹ ملازم ، کارپوریٹ جابر ، چھوٹا بزنس مین ، استاد ، ورکنگ اور گھریلو خاتون ۔۔۔سب کی آواز کو موقع دے اور ان سب کے درمیان “برادری جیسے” مکالمے کو جنم دے۔ ایک ایسا ربط جو سب کو ایک دوسرے کی آواز سے جوڑے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ پرانی روایت کو جدید تناظر میں بامعنی اظہار دیا جائے۔ جدید موسیقی، آرٹ اور اظہار کی نئی شکلوں میں بھی پنجابی کو جگہ ملنی چاہیے جیسے بلھے شاہ اور وارث شاہ کا کلام آج کے جدید گلوکاروں نے گا کر نئی نسل تک پہنچایا۔ مزاح کی نئی شکلیں سامنے آئیں ۔۔۔۔ یہی وہ پل ہے جو روایت کو زندہ بھی رکھتا ہے اور جدید تناظر میں Gen Z کو موقع بھی دیتا ہے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے جذبات کو اپنی زبان کی آرٹ فارم کے ذریعے پیش کریں۔۔ ہمیں روایت کو نیے تجربے سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس کانفرنس میں ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ ایک ہی پلیٹ فارم پر دو بالکل مختلف رجحانات ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ایک طرف وہ حصہ تھا جو مکمل میڈیا کوریج ،ریاستی سر پرستی ، مہنگے فوڈ اسٹالز اور کمرشل شو کے مرکز میں تھا۔۔ پورا منظر نامہ ایک کمرشل سائیڈ کی نمائندگی کرتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
دوسری طرف وہاں وہ گمنام لوگ بھی موجود تھے جو کسی اسٹیج، کسی اسپانسرشپ یا میڈیا شاٹ کے بغیر خاموشی سے اپنا کام کر رہے تھے۔ کچھ لوگ پانی، جوس اور کھانا مفت بانٹ رہے تھے ۔ کچھ علم اور گیان ۔۔یہ عوامی خدمت کی وہ روح تھی جو اصل پنجابی ثقافت کی بنیاد ہے، اور جو کمرشل ورژن میں موجود نہیں ہو سکتی ۔ انہی میں ایک پروفیسر Saeed Ahmad صاحب بھی تھے ، جنہیں نہ تو کسی لیکچر کے لیے بلایا گیا، اور نہ ہی کسی ایوارڈ کے لیے ۔۔مگر وہ اپنے سٹال پر محبت اور وقار کے ساتھ اپنا گیان اور کتب بانٹ رہے تھے۔ یہ وہ اسکالر ہیں جنہوں نے صرف پنجاب کی اصل ثقافتی روح اور تصوف کی بازیافت ہی نہیں کی، بلکہ جدید نوجوان نسل تک بات پہنچانے کے لیے نئی زبان، نئے ورژنز اور آسان تراجم بھی لکھے ہیں۔۔ ان جیسے مفکر و دانشور سے ملنا اور انکے ہاتھ سے انکی تصانیف وصول کرنا میرے لئے بڑی خوش قسمتی کی بات تھی ۔۔
جدید ثقافتی تنقید میں اس تضاد کو
“commercialized Culture vs. People’s Culture”
کہا جاتا ہے ۔ کہیں ثقافت سرمایہ دارانہ نمائش میں بدل جاتی ہے، اور کہیں وہ اپنی اصل جڑوں یعنی محبت، رسائی، مشترکہ ورثے اور عوامی ملکیت سے جڑی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ دن میرے لیے واقعی یادگار تھا کیونکہ اس نے واضح دکھایا کہ ثقافت صرف گیت اور فوٹو شوٹ نہیں، بلکہ ایک زندہ اجتمائی و روحانی تجربہ، ایک بڑی جڑت اور نظریہ بھی ہے: کہ ہم کس قسم کا معاشرہ چاہتے ہیں، اور کس ورثے کو کس کی دسترس میں سمجھتے ہیں۔ نیز جب ثقافت کو مارکیٹ کے حوالے کر دیا جائے تواس کی قیمت بڑھتی ہے، مگر اس کا معنی اور روح کھو جاتی ہے۔
در حقیقت عوامی ورثہ جب پبلک پراپرٹی رہنے کے بجائے محض مہنگے ٹکٹ، فوڈ اسٹالز، VIP پاسز اور برانڈڈ سرگرمیوں کا حصہ بن جائے تو ثقافت ایک طبقاتی علامت بن جاتی ہے، اور اس کی اصل عوامی، سیاسی اور سماجی آواز دب جاتی ہے۔ گوجرانوالہ کی گلیوں، فیصل آباد کے چبوتروں اور ملتان کے چوکوں کا لوک کلچر۔۔۔۔ڈھول، جھومر، چاپ اور زبان کے حقیقی مسائل۔۔۔کلچرل شوز میں غائب ہو جاتے ہیں۔ ان کی جگہ اسپانسرڈ لوک ڈانس، مہنگے فوڈ کارنر، سیلفی اسپاٹس اور elite-friendly موسیقی آ جاتی ہے۔ اسے بین الاقوامی سطح پر Festival Neoliberalism کہا جاتا ہے: بڑے میلے، بڑے اسپانسر، بڑا منافع۔۔۔جس میں فائدہ صرف اسٹیبلشمنٹ، کارپوریٹ سیکٹر اور چند چہرے اٹھاتے ہیں، کلچر سے طبقاتی پہلو اور عوامی وسائل و مسائل کو نکال کر depoliticize کر دیا جاتا ہے ۔
مزید براں ثقافت اور قوم پرستی تبھی بامعنی ہوتی ہے جب وہ لوگوں کو کسی ایک سخت، جامد شناخت یا گروہ میں قید کر کے تعصب و نفرت کو ہوا نہ دے اور محبت، اتحاد، برابر کے حق اور عوامی وسائل پر عوام کے اختیار کو مضبوط کرے ،نہ کہ طبقاتی فاصلے بڑھائے، یا عوامی امانتوں کو کارپوریٹ و حکومتی طاقتوں کی ملکیت بنا دے۔
ثقافت جب لوگوں کو جڑنے، سمجھنے اور ایک دوسرے کی آواز سننے کا ذریعہ بنے اور انکی زمین ، ورثے ، وسائل پر انکی حق ملکیت قائم کرے ، تب ہی وہ معاشرے کو طاقت دیتی ہے، ورنہ صرف فخر کا شور رہ جاتا ہے۔ اور اگر پنجابی کلچر سے اسکی رواداری ، وسعت، pluralism ،انسانیت پرستی (humansm) اور مزاحمت کے عنصرکو نکال دیں تو باقی کچھ نہیں بچتا۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں