• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • رنگوں کی زبان: تہذیب اور نئی نسل کا مکالمہ ـــــــــــــــــــــــــــــ /عیشہ سپرا

رنگوں کی زبان: تہذیب اور نئی نسل کا مکالمہ ـــــــــــــــــــــــــــــ /عیشہ سپرا

تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، جہاں عالمی اثرات نوجوانوں کی سوچ اور طرزِ زندگی کو مسلسل بدل رہے ہیں، پاکستان کے ثقافتی تہوار ہماری نئی نسل کے لیے شناخت اور وابستگی کا وہ مضبوط ذریعہ بن کر سامنے آ رہے ہیں جو معاشرے کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ سندھ ثقافت و اجرک ڈے، بلوچ کلچر ڈے، شندور پولو فیسٹیول، سبّی میلہ، لوک ورثہ فیسٹیول اور بہار میں بسنت کے رنگین میلوں جیسے تہوار محض جشن نہیں بلکہ ہماری تہذیبی تاریخ کے روشن مینار ہیں۔

یہ تہوار نوجوانوں کو اپنی تہذیبی وراثت سے براہِ راست روبرو کرتے ہیں۔ یہاں انہیں روایتی موسیقی، لوک رقص، دستکاریوں، مقامی پکوان اور صدیوں پرانی رسومات کے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ تجربات نہ صرف ان کی ثقافتی پہچان کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی جڑوں اور اپنی قومی وحدت سے بھی جوڑے رکھتے ہیں۔

پاکستان کی ثقافتی تنوع کے باوجود، جب مختلف صوبوں کے نوجوان ایک دوسرے کے میلوں میں شریک ہوتے ہیں تو فاصلے کم ہونے لگتے ہیں، غلط فہمیاں ٹوٹتی ہیں اور باہمی احترام کی فضا پروان چڑھتی ہے۔ یہی سماجی ہم آہنگی آج کے پاکستان کی ناگزیر ضرورت ہے۔

قابلِ تحسین امر یہ ہے کہ جامعات میں مختلف صوبوں کے کلچر ڈیز نہایت جوش و جذبے سے منائے جاتے ہیں۔ پنجاب کے طلبہ سندھی ثقافت کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ اس کی نمائش اور سرگرمیوں میں حصہ بھی لیتے ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان دوسرے صوبوں کی روایات کو اپنائیت اور دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ یہ ماحول طلبہ میں نہ صرف علمی اور سماجی شعور بڑھاتا ہے بلکہ انہیں ایک دوسرے کے رنگ اور اقدار کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔

ثقافتی میلوں میں نوجوان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار بھی بھرپور طریقے سے کرتے ہیں۔ وہ موسیقی، فنونِ لطیفہ، فوٹوگرافی، ہنر مندی اور چھوٹے کاروباری منصوبوں کے ذریعے اپنی مہارتوں کو نمائش میں لاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں ان کے اعتماد کو بڑھاتی ہیں اور عملی زندگی کے لیے قیمتی تجربہ فراہم کرتی ہیں۔

ملکی امن و امان کی موجودہ صورتحال میں والدین کے خدشات اپنی جگہ درست ہیں۔ بڑے اجتماعات میں نوجوانوں کی شرکت پر تحفظات فطری ہیں، مگر جب ایسے تہوار ذمہ داری سے منظم کیے جائیں اور مناسب سکیورٹی انتظامات کا خیال رکھا جائے تو والدین کا اعتماد بھی بڑھتا ہے اور نوجوان محفوظ ماحول میں بھرپور انداز سے حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ توازن آج کے پاکستان کی حقیقی تصویر ہے، جہاں نوجوانوں کی سماجی سرگرمیاں بھی اہم ہیں اور والدین کی فکریں بھی جائز۔

آخر میں، یہ تہوار نوجوان نسل کو صحت مند تفریح اور سماجی جڑت فراہم کرتے ہیں۔ تعلیمی دباؤ، ذہنی تھکن اور ڈیجیٹل مصروفیت کے درمیان ایسے میلوں کا انعقاد نوجوانوں کے لیے تازگی، خوشی اور تعلق کا ذریعہ بنتا ہے۔

julia rana solicitors london

پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کے لیے ثقافتی تہوار محض رنگین مناظر نہیں، بلکہ سماجی یکجہتی، ورثے کے تحفظ اور بہتر مستقبل کی بنیاد ہیں۔ جب تک یہ روایات زندہ رہیں گی، نوجوان نسل اپنے ماضی سے جڑی رہے گی اور زیادہ پُراعتماد انداز میں پاکستان کا روشن مستقبل تعمیر کرتی رہے گی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply