پی ٹی آئی کی فوج کے خلاف جارحانہ مہمات بلآخر فوجی قیادت کو اِس واضح موقف کے ساتھ سامنے لے آئیں ، جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانیہ کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیکر پی ٹی آئی پہ پابندی عائد کرنے کے امکان کا اشارہ دینا پڑا ،تاہم بظاہر مہلک نظر آنے والی یہ پیچیدہ کشمکش کسی صحتمند رجحان پہ بھی منتج ہو سکتی ہے ، یعنی جو جدلیات ظاہری طور پر ایک لاینحل سیاسی تنازع کے محور میں گھومتی دکھائی دیتی ہے فی الحقیقت یہ ہمارے سکیورٹی آرڈر اور قومی بیانیہ کی ٹرانسفارمیشن کا ایسا گداز عمل بھی ثابت ہو سکتی ہے جو مملکت کی ازسرنو تشکیل کا وسیلہ بننے والا ہو ۔
امر واقعہ بھی یہی ہے کہ ہماری مقتدرہ نوآبادیاتی نظام کی گرفت سے نکالنے کے بعد پنپنے والے سیاسی تنازعات کی جدلیات کو عہد جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے والے ایک لچکدار استبدادی نظام کی طرف بڑھنے کی سیڑھی کے طور پہ استعمال کر رہی ہے ۔ لاریب، مستقبل قریب میں پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے، داخلی انتظامی وجود اور سیاسی کلچر کو مغربی جمہوریت کے برعکس چین کے اتھاریٹیرئن نظام کے قریب لانے کے لئے ہماری مقتدرہ کو ایک ایسی مزاحمتی تحریک کی ضرورت تھی جو معمول کے سیاسی عمل کو تشدد، خوف اور بے یقینی سے دوچار کرکے بند گلی تک پہنچا دے تاہم اسی تغیر و تبدّل میں عالمی طاقتیں بھی نئے استوار ہونے والے سسٹم کی رخ گردانی کی کوشش ضرور کریں گی ، شاید اِسی لئے مغربی ذرائع ابلاغ پاکستان کی ممکنہ تشکیل نو کے خلاف بہار عرب کی طرح ایسے رومانوی جمہوری بیانیہ پہ مبنی ایسی مزاحمتی تحریکیں اٹھانے میں سرگرداں نظر آتے ہیں ،جس میں نئی نسل کو آزادی و مساوات جیسے پرکشش نعروں میں خواب تکمیل کی تعبیر دکھائی جارہی ہے لیکن جس طرح بہار عرب کی رومانوی لہروں نے عرب معاشروں کو سیاسی آزادیوں سے ہم کنار کرنے کی بجائے تشدد و انتشار کی طرف مائل کرکے مڈل ایسٹ کی کئی مملکتوں کو سیاسی عدم استحکام کے دلدل میں دھکیل دیا تھا ، اسی طرح پاکستان میں بھی پی ٹی آئی کا طلسماتی بیانیہ پُرامن اصلاحات کی راہ روکنے کے خبط میں ریاست کو داخلی انتشار کی طرف دھکیلنے پہ کمربستہ دکھائی دیتا ہے ۔
تاہم پی ٹی آئی اور ریاست کے مابین ہنگام پرور کشیدگی کی دھند میں چیف آف ڈیفنس فورسز جیسے غیر معمولی ادارے کی تشکیل کے ذریعے دفاعی نظام کو جدید وار کرافٹ میں ڈھالنے کی طرف کامیاب پیشرفت پی ٹی آئی کے مزاحمتی بیانیہ کی ناکامی کی علامت نظر آتی ہے کیونکہ سی ڈی ایف جیسا ہمہ گیر ادارہ محض جنگی امور کی تدوین تک محدود نہیں ہو گا بلکہ رفتہ رفتہ ہمارے ریاستی وجود کا چہرہ اور پاور پالیٹیکس کا سنٹر آف گریویٹی بنتا جائے گا ۔
علی ہذالقیاس، جس طرح ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ جنگ کا میدان اور کردار بدل رہے ہیں ، مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پہ منحصر ہوں گی ، یہ صرف زمین، سمندر اور ہوا پر نہیں بلکہ لامحدود خلاء ،سائبر اسپیس، معلوماتی ڈومین ، انٹیلی جنس اور پبلک ڈسکورس سمیت متعدد حلقہ ہائے اثر میں لڑی جائیں گی، اسی لئے جنگیں پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ،پُرتشدد، مختصر اور شدید ہوتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت تک دنیا کے 70 سے زائد ممالک نے چیف آف ڈیفنس سنرجیسٹک (Synerjistic) ہیڈ کوارٹر استوار کرکے اپنی ساری ملٹری ونگز کو متنوع کوارڈینشن میں مربوط بنا لیا ، مزید بتایا کہ پاکستان نے اِسی جدید جنگی سائنس کی بدولت آپریشن بنیان المرصوص میں اپنے سے آٹھ گنا مضبوط دشمن کے خلاف حیران کن کامیابی حاصل کرنے کے تجربہ کے بعد سی ڈی ایف ہیڈ کوارٹر کی تشکیل پہ مبنی نئے دفاعی ڈھانچہ کی نقاب کشائی کی ہے ، اسی لئے فوج کے میڈیا ونگ نے دفاعی ڈھانچے کو اپ ڈیٹ کرنے کے دوران پھیلائی جانے والی افواہوں سے پیدا ہونے والے ابہام اور شکوک و شبہات کو دور کرنے کی خاطر نئی فوجی ڈاکٹرائن کی تفہیم کے علاوہ یہ بھی واضح کیا کہ پاک فوج ہندوتوا ذہنیت سے مماثل کسی انتہا پسندانہ ڈیزائن کو پاکستانی معاشرے کے مجموعی دائرہ ادراک پر حاوی ہونے نہیں دے گی ۔ ہماری قومی تاریخ میں پہلی بار فوجی ترجمان کی جانب سے کسی سیاسی لیڈر کو فوج کے خلاف جارحانہ مہمات چلا کر ملکی دفاع کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ” سکیورٹی رسک ” قرار دیا ۔ ڈی جی کی پریس کانفرنس میں جہاں دفاعی اداروں میں دراڑیں ڈالنے کی مساعی کے علاوہ عوام کو فوج کے خلاف صف آراء کرنے کی خاطر سوشل میڈیا پر زہریلی مہمات چلانے پہ گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ، وہاں انہوں نے اِس مہم جوئی کے بنیادی محرک عمران خان کے لئے مستقبل کی سیاست میں گنجائش ختم ہونے کا عندیہ بھی دیا اور اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی کورٹ مارشل کے تحت چودہ سال قید بامشقت کی سزا عمران خان کے گرد گھیرا مزید تنگ ہونے کی غمازی کرتی ہے ، راز ہائے نہاں خانہ سے آگاہ حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان ، مراد سعید اور علی امین گنڈہ پور سمیت 9 مئی کی منصوبہ بندی کرنے والے پانچ افراد کو ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزائیں مل سکتی ہیں ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ جس طرح سائبر سپیس اور سماجی ابلاغیات کی وسعت کے باعث عالمی سطح پر دفاعی میکانزم اور اقتصادی نظام میں گہری تبدیلیوں رونما ہوئیں وہ دنیا بھر کے ریاستی ڈھانچوں کو بدلنے کے علاوہ سیاسی عوامل کے تال میل کو متغیر کرنے کا بھی سبب بنی ہیں ۔ اگر ہم پلٹ کر دیکھیں تو پچھلے پچیس سالوں میں ہماری ریاست کی بنیادی ساخت اور تقسیم اختیارات کے فارمولے میں بتدریج ایسی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ، جس میں فرقہ وارانہ ، نسلی ، لسانی اور علاقائی جماعتوں کو کمزور کرکے قوم کو منقسم کرنے والے تعصبات کی دھار کو کند کیا گیا ، ملک کے انتظامی ڈھانچے کو فعال بنانے اور فیصلہ سازی کے عمل میں مقامی لوگوں کی تلویث کے لئے نئے صوبے بنانے جیسے دیرینہ مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کی تجاویز سامنے لائی گئی ہیں حتیٰ کہ وسیع تناظر میں ہجوم کی بالادستی کے تصور کو ریگولیٹ کرنے کی خاطر بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا کردار بھی محدود کر دیا گیا ، یوں مملکت کی نظریاتی اساس ، سیاسی تمدن ، نیشنل سیکیورٹی اور قومی بیانیہ پہ اسٹبلشمنٹ کی حتمی اجارہ داری کو پایا تکمیل تک پہنچا دیا گیا ۔ یعنی اب ملکی سیاست کے دائرہ عمل ، سیاسی کرداروں کا انتخاب ، اقتصادی و ابلاغی نظام کی تشکیل اور مذہبی اداروں کی حدود و قیود کا تعین بھی خود ریاست کرے گی چنانچہ بادی النظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ سے یہی تاثر ملتا ہے کہ مستقبل کی سیاست میں عمران خان اور اسکی جماعت کو کوئی رول نہیں ہو گا ۔
جس طرح 1970/80 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی مزاحمتی قوت کو کچلنے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لئے قومی سیاست میں مذہبی جماعتوں کے تعاون سے پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سندھ میں ایم کیو ایم کو کھڑا کرکے بے نظیر کی مقبولیت اور پیپلز پارٹی کے دائرہ اثر کو محدود کیا گیا ،اسی طرح عمران خان کو منفی کرنے اور پی ٹی آئی کو پیچھے دھکیلنے سے پیدا ہونے والے سیاسی خلاء کو پُر کرنے کی خاطر بھی نئے سیاسی کرداروں کو میدان میں اتارنے پر کام جاری ہے ، پہلے مرحلہ میں سابق وزیراعلی علی امین گنڈہ پور کو لیڈنگ رول مل سکتا ہے ، غالب امکان یہی ہے کہ متبادل سیاسی قوت کے طور پر پرویز خٹک کی پی ٹی آئی( پی) پنجاب سے جہانگیر ترین کی استحکام پارٹی ، سندھ سے فیصل واوڈا اور عمران اسماعیل کی تلویث سے کوئی ایسی سیاسی جماعت بنائی جا سکتی ہے جو پی ٹی آئی کے ٹوٹے ہوئے کارکنوں اور اجڑے ہوئے لیڈرز کی پناہ گاہ بن جائے گی ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں