غربت ایک ایسا احساس ہے جو کبھی صرف خالی جیب میں نہیں رہتا بلکہ انسان کے ذہن میں، دل میں، سوچ میں اور مستقبل کے منصوبوں میں بسیرا کر لیتا ہے۔ آج کے نوجوان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ حالات کس طرح ان کے خوابوں کو چبا رہے ہیں۔ مہنگائی روزانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے،نوکریوں کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں اور امید ایسی کمزور ہو گئی ہے جیسے معمولی جھٹکے سے ٹوٹ جائے۔یہ تحریر اسی درد کی عکاسی کرتی ہے جو ہر گھر کی کہانی بن چکا ہےاور ہر نوجوان کی آنکھوں میں ایک سوال بن کر تیرتی ہے۔ آخر یہ دھنیا، پیاز، ٹماٹر، پٹرول اور بجلی کی بڑھتی قیمتیں کب تک انسان کا حوصلہ آزماتی رہیں گی۔
آج کا نوجوان صبح جب گھر سے نکلتا ہے تو اس کے کندھوں پر بوجھ صرف اپنے مستقبل کا نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے ماں باپ کی تھکی ہوئی نظریں، بہن بھائیوں کی خواہشیں، اپنی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات اور معاشرے کی توقعات سب کچھ ساتھ اٹھائے ہوتا ہے۔ حالات کا بوجھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ چلتے چلتے ہی بکھرنے لگتا ہے۔ ڈگریوں کے باوجود سفارش کی کمی ایک ایسا خلا ہے جو نوجوان نسل کی نا امیدی کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔ محنت اور ہنر رکھ کر بھی انسان ناکام ٹھہرے تو اس کی اندرونی دنیا کتنی زخمی ہوتی ہے، یہ وہی جان سکتا ہے جس نے بار بار انٹرویوز کے چکر لگائے ہوںلیکن انجام ہر دفعہ ایک سا ہوتا ہے، معذرت آپ میرٹ پر پورا نہیں اترے۔
مہنگائی نے زندگی کو صرف مشکل نہیں بنایا اسے ایک آزمائش میں بدل دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب ماہانہ تنخواہ سے بجلی اور گیس کے بل ادا ہونے کے بعد بھی کچھ بچ جاتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تنخواہ ہاتھ میں آتی ہے تو اکثر افراد کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پیسے پہنچنے سے پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہونے سے سفر کا خرچہ دگنا ہو جاتا ہے اور جو نوجوان نوکری کی تلاش میں دور دور جاتے ہیں ان کے لئے تو صرف ٹرانسپورٹ کا خرچہ ہی تکلیف دہ بن چکا ہے۔
ایک اور خوفناک حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی نے نوجوانوں کو صرف مالی طور پر نہیں توڑا بلکہ ذہنی دباؤ اور بے چینی بھی بڑھا دی ہے۔ روزگار کی کمی دل میں ایسا بوجھ ڈالتی ہے جو انسان کے ارادے اور خوشی دونوں نگل جاتا ہے۔ اسے اپنی قابلیت پر شک ہونے لگتا ہے۔ معاشرہ سوال کرتا ہے کہ اب تک کچھ بنایا کیوں نہیں اور گھر والے پوچھتے ہیں کہ پڑھائی کا نتیجہ کب ملے گا۔ یہ وہ زخم ہیں جو باہر سے نظر نہیں آتے مگر اندر تک اتر جاتے ہیں۔ بے روزگاری اور مہنگائی کی یہ ملی جلی ضربیں نوجوانوں کی خود اعتمادی کو گراتی جا رہی ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہی نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس موبائل ہاتھ میں ہے تو ہر مسئلہ حل ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موبائل نوجوان کا سہارا نہیں، اس کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ اس پر وہ وہی لوگ نظر آتے ہیں جنہوں نے کامیابی حاصل کر لی ہے اور یہ دیکھ کر عام نوجوان کی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔ لوگوں کی کامیابی کی جھلکیاں دیکھ کر اسے لگتا ہے کہ شاید وہ ناکام ہے حالانکہ حقیقت میں وہ صرف ایک معاشرتی نا انصافی کا شکار ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی نے نہ صرف کھانے پینے کی چیزیں مہنگی کی ہیں بلکہ صحت، تعلیم، رہائش اور لباس جیسی بنیادی ضروریات بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ایک عام آدمی بیمار پڑ جائے تو دوائیاں لینے سے پہلے وہ سوچتا ہے کہ کیا علاج ممکن ہے۔ ایک گھر میں اگر تین وقت کی روٹی پوری ہو جائے تو اس دن اسے شکر ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ سب تبدیلیاں چپکے چپکے آ رہی تھیں اور آج اس نہج پر آ پہنچی ہیں کہ ہر گھر سے ایک ہی فریاد نکلتی ہے۔ ۔۔ہائے غربت۔
نوجوان نسل اگر آج ہار مان لے تو آنے والے وقت میں یہ ملک ایک کھوکھلا ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو سہولتیں دی جائیں، روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں، ہنر سکھانے کے عملی ادارے قائم کئے جائیں اور مہنگائی پر قابو پانے کے لئے مضبوط معاشی پالیسیوں پر عمل کیا جائے۔ دنیا کے وہ ممالک جو آج ترقی یافتہ ہیں، انہوں نے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے اپنے نوجوانوں کو پیچھے نہیں چھوڑا بلکہ ان کی صلاحیتوں کو آگے بڑھایا۔ اگر یہی سوچ ہمارے ہاں آ جائے تو غربت کا رونا دھیرے دھیرے کم ہو سکتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود امید کا دامن چھوڑنا بھی درست نہیں۔ نوجوانوں میں وہ توانائی موجود ہے جس سے دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر معاشرہ انہیں اعتماد دے اور مواقع فراہم کرے تو یہی نوجوان اس ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں دیکھا جائے، سنا جائے اور ان کے مسائل کو حقیقی مسئلہ سمجھا جائے۔
غربت پر لکھے جانے والے الفاظ شاید کاغذ پر ختم ہو جائیں مگر لوگوں کے دلوں میں موجود درد ختم نہیں ہوتا۔ ہر نوجوان کی آنکھ میں ایک سوال چھپا ہے۔ کیا کبھی وہ دن آئے گا جب وہ اپنے والدین کا سہارا بن سکے گا، جب اسے اپنی ڈگری کا صحیح مقام ملے گا، جب اسے یہ فکر نہیں ہو گی کہ اگلے مہینے بجلی کا بل کیسے ادا ہو گا۔ اس سوال کا جواب ہمارے معاشرے کے نظام، حکمرانوں کے فیصلوں اور نوجوانوں کی اپنی کوششوں میں چھپا ہے۔ امید ہے کہ کبھی نہ کبھی یہ سوال مثبت جواب پا لے گا اور لوگ دل سے کہہ سکیں گے کہ ہائے غربت، تو نے ہمیں بہت رولایا لیکن آخرکار ہم جیت گئے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں