ہدایات برائے نت نئے شوہر حضرات ۔۔۔ شاہ عالم

جس بندے کی شادی کو دو چار سال گزرجائیں وہ وقت بے وقت کامیاب ازدواجی زندگی کے ٹوٹکے نشر کرنے لگتا ہے۔ ہماری شادی کو تو اتنا عرصہ بیت گیا کہ ہمیں اپنی آوارگی کے دن بھی ٹھیک سے یاد نہیں رہے۔ ایسے میں اگر ہم کامیاب ازدواجی زندگی کے گر نہ بتائیں تو یہ کتمان علم کے زمرے میں آئے گا۔ لہذا کچھ باتیں ہماری جانب سے بھی پیش ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ آپ کسی لڑکی سے شادی کریں۔ اوہ سوری سوری۔ یہ تو ابتداء ہی غلط ہوگئی۔ ان الفاظ سے عجیب سا مفہوم اخذ ہورہا ہے۔ ہم کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ جب آپ شادی کریں تو یہ حقیقت ذہن میں رکھیں کہ آپ کی شریک حیات صنف نازک ہے۔ اس کے ساتھ نزاکت سے ہی پیش آئیں۔ لڑکیوں کو یوں بھی ناقص العقل سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک پگلی اپنا سب کچھ چھوڑکر آپ کے ہمراہ ایک انجانے راستے پر چل پڑی ہے تو لازماً غلطیاں بھی کرے گی۔ آپ کا فرض بنتا ہے کہ اسے پیار سے سمجھائیں نہ کہ چھترول سے۔ وہ آپ کی بیوی ہے، بگڑی ہوئی اولاد نہیں جو آپ اسے گالم گلوچ یا تھپڑوں سے سدھارنے کی کوشش کریں۔

اس کے بعد عرض ہے کہ تعریف تو ہمیں بھی بہت پسند ہے۔ بالخصوص جب کوئی تحریر کی تعریف کرے۔ اور لڑکیاں تو تعریف سنتے ہی اپنی عقل کو الوداع کہہ دیتی ہیں۔ بے چاریوں کو سچی جھوٹی تعریف کا فرق بھی نہیں معلوم ہوتا۔ لہذا اگر آپ کے ڈیڑھ دو تعریفی جملوں سے اس کا پاؤ خون بڑھتا ہے تو آپ کو چاہیے کہ اسے گول گپا ہی بنادیں۔ اوہ سوری، یہ جملہ پھر غلط ہوگیا۔ ہم جیسے کم فہم اس جملے کو پیر بھاری کرنے کے معنی میں استعمال کریں گے۔ مطلب یہ کہ وہ نیا جوڑا پہن کر سامنے آئے تو صرف اتنا سا کہہ دیں “تم پر ہر جوڑا ہی اچھا لگتا ہے”۔ وہ خوشی سے گلنار ہوجایے گی۔

وہ کھانا سامنے رکھے تو کہہ دیا کریں “آج کل کی لڑکیوں کے برعکس کھانا اچھا بنالیتی ہو تم”۔ کھانا اچھا نہ ہو تو ذرا سی ترمیم کرلیں “یہ کھانے تو میں کھاتا رہتا ہوں۔ تم کوئی نئی ڈش بناؤ”۔ نئی ڈش کے چکر میں وہ پہلے کھانا بنانا سیکھے گی۔ یوں آپ کا مقصد ناک بھوں چڑھائے بنا حل ہوجائے گا۔ اور اگر پھر بھی کوئی تشنگی رہ جائے تو بھائیو! اللہ نے ہوٹل والوں کو بھی تو رزق پہنچانا ہے۔ کسی ہوٹل سے کھانا لے آئیں اور مل کر کھائیں۔ زندگی بھر کا ساتھ ہے۔ کچھ تو آپ کو بھی کمپرومائز کرنا پڑے گا۔

عموماً لطیفوں میں ساس سسر اور گالیوں میں سالے بہنوئی کے رشتوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی وقعت کم ہوجاتی ہے۔ آپ نے اس عمومی روش پر نہیں چلنا بلکہ اپنے سسرالیوں بارے مدحیہ کلمات کہنے ہیں۔ اگر جھوٹ نہیں بول سکتے تو خاموش رہ لیں مگر بیوی کے سامنے اس کے میکے کا مذاق نہ اڑائیں۔ جوابا وہ آپ کے میکے والوں کی زندگی اجیرن کردے گی۔ نمک تیز کرکے آپ کے ماں باپ کو ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلاء کردیا تو ان کا نزلہ آپ پر ہی گرے گا۔

مشترکہ خاندانی نظام ہے تو بڑی مشکل ہوگی۔ آپ کو بستر کے حرارت آمیز ماحول میں نندوں، دیورانیوں جٹھانیوں وغیرہ کے کرتوت بھی سننے پڑیں گے۔ آپ نے فقط اتنی سی کوشش کرنی ہے کہ غیبتوں کی یہ تپش آپ کے دماغ تک نہ پہنچے تاکہ آپ دماغ سے سوچ سکیں۔ بزرگ کہتے ہیں کہ انسان کو نہ تو بہت غصے کی حالت میں کوئی فیصلہ کرنا چاہیے اور ہی بہت خوشی کی حالت میں۔ آپ اس قول میں یہ اضافہ بھی فرمالیں کہ انسان کو بستر میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ مرد بنیں اور مردوں والے معاملات پر توجہ دیں۔ بیوی کی سنیں ضرور مگر صبح نہاتے ہوئے میل کچیل کے ساتھ یہ خبریں بھی صاف کردیں۔

جاتے جاتے ایک بات اور۔ آپ اب شوہر ہیں تو کوشش کریں کہ شوہروں کے ساتھ ہی اٹھیں بیٹھیں۔ شوہر ہونے کے باوجود چھڑے چھانٹ بندوں سے دوستی رکھیں گے تو خوامخواہ اپنی میرڈ لائف کو پریشان کریں گے۔ سب دوست شادی شدہ ہوں گے تو باہر کھانا کھاتے ہوئے بھی انہیں گھر کی فکر ہوگی اور وہ جلد واپسی کی چنتا کریں گے۔ کنواروں کے درمیان شادی شدہ ایسے ہی ہے جیسے زندہ بدست مردہ۔ ان کا انتظار فقط تکیے چادر کرتے ہیں جبکہ آپ کا انتظار جیتا جاگتا وجود کررہا ہے۔ جس کے منہ میں چار پانچ گز کی زبان بھی ہے۔ طوالت زیادہ ہوگئی تو گز بھر کی زبان سمجھ لیں۔ لیکن یہ یقینی ہے کہ زبان ہے۔ جو ایک بار چل پڑی تو پھر اللہ دے بندہ لے۔ لہذا جلد واپس آکر اس خدشے کو ٹال دیں اور اگر ساتھ کچھ کھانے پینے کا سامان لے آئے تو یہ آپ کی عقلمندی شمار ہوگی اور زبان کے ساتھ منہ بھی بند ہوجائے گا۔

امید ہے یہ مشورے آپ نے اپنے بزرگوں سے بھی ضرور سنے ہوں گے اور بھلادیے ہوں گے۔ ہمارا مقصد بھی کوئی نئی بات پیش کرنا نہیں، صرف یاد دہانی ہے۔ بلکہ کہنا بیٹی کو سنانا بہو کے مصداق آپ کو سنانے سے مقصد خود کو بھی جھنجھوڑنا ہے۔ ہماری بھی پوری کوشش ہے کہ خوش گوار زندگی گزاریں۔ لہذا آپسی گپ شپ کے ذریعے ان ٹوٹکوں کو مستحضر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ہدایات برائے نت نئے شوہر حضرات ۔۔۔ شاہ عالم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *