سڑک کنارے بیٹھا ایک مداری… اس کے ہاتھ میں ڈگڈگی، سامنے بندر، اردگرد تماشا دیکھتے لوگ۔ ڈگڈگی کی ہر تھاپ پر بندر کا قدم بدل جاتا ہے اور ہجوم محوِ حیرت اس کے فن سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔ مداری کی باتیں، اس کے چٹکلے، اس کے اشارے… سب تماشائیوں کو ایسا جکڑ لیتے ہیں کہ انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ یہ کھیل اصل میں کس لیے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر میں مداری بڑے سلیقے سے ڈگڈگی بند کرتا ہے، ہجوم میں چند چکر لگاتا ہےہجوم میں موجو د شائقین سے نقد داد وصول کرتا ہے اور اپنی چھوٹی سی دنیا سمیٹ کر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ کچھ دن بعد وہی مداری، وہی بندر، وہی ڈگڈگی… نئی جگہ، نیا مجمع، نیا تماشا۔
یہی منظر آج بھی ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے90 کی دہائی میں جب تلہ گنگ یا چکوال کا رخ کرتے تو یوں لگتا تھا جیسے کوئی اور ہی دنیا بسائی گئی ہو۔ کہیں پھٹی پرانی چادر پر نیم حکیم اپنے “خاص کشتے”سجا کر بیٹھا ہوتااور مٹی جھاڑتے ہوئے اچانک پٹاری سے کالا بچھو نکال دیتا، یا پھر کوبرا لہرا کر مجمع کی سانسیں روک دیتا۔ خوف اور تجسس بیچنا ان کا اصل ہنر تھا،چند ہی لمحوں میں پچیس تیس لوگ یوں جمع ہو جاتے جیسے کوئی بڑا تماشا شروع ہونے والا ہو۔ پھر وہی چکنی چپڑی باتیں، کچھ دیسی ٹوٹکے اور لوگ متاثر ہو کر چند روپے تھما دیتے۔
مجھے تب لگتا تھا یہ شاید پرانے وقتوں کی کہانی ہے۔لیکن آج جب معاشرے کو دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ مداری تو نہ رہے مگر ان کا فن زندہ ہےاور پہلے سے کہیں زیادہ چہروں کے ساتھ۔ آج بھی مداری کامیاب ہے، بس اس کے ہتھیار بدل گئے ہیں۔ اب وہ جانتا ہے کہ کس خوف کو بیچنا ہے، کس امید کا لالچ دینا ہے، کس جملے سے دل پگھلانا ہے اور کس ڈھنگ سے لوگوں کی جیب ہلکی کرنی ہے۔ تماشا وہی ہے، صرف بچھو بدل گئے، کوبرا بدل گئے، مداری بدل گئےلیکن تماش بین بدلے نہیں۔یوں لگتا ہے ہمارے معاشرے میں مداری کبھی ختم نہیں ہوئےصرف ان کا انداز، ان کی بولی اور ان کی چال بدلی ہے۔ جو شخص جتنی خوبصورتی سے الفاظ کا جادو جگا لیتا ہے، جو جتنی مہارت سے خوف یا امید بیچ سکتا ہے، جو جتنے خوش رنگ خواب دکھا سکتا ہےوہی سب سے زیادہ واہ واہ بھی سمیٹ لیتا ہے اور اپنی جھولی بھی خوب بھر لیتا ہے۔
لیکن اب یہ تماشا صرف سڑک کنارے نہیں ہوتابلکہ پورا معاشرہ اسی آرٹ میں مہارت رکھنے والے مداریوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہمارے اردگرد ہر شکل کا مداری موجود ہے، بس ان کی ڈگڈگیاں مختلف ہیں۔ کہیں یہ سیاست کے میدان میں وعدوں کی ڈگڈگی بجاتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں مذہبی مصلحتوں کے پردے میں فتووں کی ڈگڈگی بجتی ہے، کہیں سماجی رہنماؤں کے الفاظ ڈگڈگی کا کام کرتے ہیں۔ ان کے انداز میں اتنی مہارت ہوتی ہے کہ سادہ لوح عوام انہیں دیکھتے ہی یقین کر لیتی ہے کہ بس اس بار تبدیلی کی چابی انہی کے پاس ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ ان سب کی ڈگڈگی ایک ہی ہے، ان کا بندر بھی ایک ہی ہے، صرف مداری بدل جاتے ہیں۔
سیاسی مداری تو ہر دور میں عروج پر رہے ہیں۔ الیکشن قریب آتے ہی ڈگڈگی بجنا شروع ہوتی ہےنئے پاکستان کا خواب، روشن مستقبل کا وعدہ، کرپشن کے خاتمے کا اعلان، بندر ناچتا رہتا ہے اور عوام تالیاں بجاتے ہوئے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی مقصد حاصل ہوتا ہے، مداری سامان باندھ کر غائب۔ عوام کی حالت وہی… جیسے بندر تماشا ختم ہونے پر تھک کر ایک طرف بیٹھ جاتا ہے۔
مذہبی مداری بھی کچھ کم نہیں۔ اپنی مرضی کے فتوے، اپنے پسندیدہ نظریات، خوف اور امید کا ملا جلا کھیل… ان کی ڈگڈگی جذبات کی سب سے نازک رگ پر پڑتی ہے۔ لوگ ان کی باتوں کو تقدس کا رنگ دے کر آنکھیں بند کر کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ مگر جب سوال پوچھنے کا وقت آتا ہے، جب جواب دینے کی باری ہوتی ہے، تو یہ مداری بھی سڑک کنارے بیٹھے اس شخص کی طرح غائب ہو جاتے ہیں جو لمحہ بھر پہلے تک مجمع کو اپنی مٹھی میں لیے ہوئے تھا۔
سماجی مداری بھی کسی سے کم نہیںیہ لوگ اصلاح معاشرہ، اخلاقی تربیت اور سماجی خدمت کے دبیز پردے میں اپنے مفادات کا کھیل رچاتے ہیں۔ یہ مسکراہٹوں کی ڈگڈگی بجاتے ہیں، اخلاقیات کا بندر نچواتے ہیں اور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ دنیا میں صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جو انسانیت کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ وہ مشورے بانٹتے ہیں، ہمدردی دکھاتے ہیں اور پھر وقت آتے ہی اپنا حصہ سمیٹ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہ مداری عوام کی کمزوریوں، جذبات اور بھولپن کو اپنی سیاست کا ہتھیار بناتے ہیں۔ جب تک ان کی ضرورت ہوتی ہے، وہ عوام کے دروازے پر موجود رہتے ہیں، جیسے ہی فائدہ حاصل ہو جائے، وہ اگلے شکار کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔۔ کبھی جذباتی تقریر، کبھی دکھ بھری کہانی، کبھی کسی کے درد کا سہارا… ڈگڈگی بجتی رہتی ہے اور بندر ناچتا رہتا ہے۔ آخر میں فائدہ کس کا ہوتا ہے؟ مداری کا۔ اور عوام؟ وہ اسی امید پر رہتی ہے کہ شاید اگلی بار تماشا کچھ سچا ہوگا۔
اصل دکھ یہ نہیں کہ مداری موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم بار بار تماشے میں کھو جاتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ سب پہلے بھی ہو چکا ہے، یہی چال، یہی انداز، یہی جھوٹ… ہم عقیدت، خواہش اور امید کی ایسی زنجیروں میں بندھے ہوتے ہیں کہ ہر بار دھوکا کھانے کے بعد بھی پچھلی یاد بھول جاتے ہیں۔ اجتماعی طور پر ہماری یادداشت شاید اس بندر جیسی ہو چکی ہے جسے صرف مداری کی ڈگڈگی سنائی دیتی ہے، اس کے بعد کی بھوک اور تھکن وہ بھول جاتا ہے۔ ہم اپنی یادداشت اتنی جلدی کیوں کھو دیتے ہیں؟ کیوں ہر بار وہی ڈگڈگی ہمیں ایک نئے سراب کی طرف لے جاتی ہے؟
تماشا تب تک قائم رہتا ہے جب تک مجمع موجود ہو۔ ہم اس تماشا گری کو پہچانیں۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ڈگڈگی کہاں سے بج رہی ہے اور بندر کس مقصد کے لیے ناچ رہا ہے۔ اگر ہم نے سوال پوچھنا شروع کر دیا، اگر ہم نے ڈگڈگی کے پیچھے چھپا مقصد پہچان لیا، تو یہ مداری خود بخود بے نقاب ہو جائیں گے۔ معاشرہ بدلنے کا آغاز اسی دن ہوگا جب ہم فیصلہ کر لیں گے کہ ہم کسی کے بندر نہیں بنیں گے، نہ کسی کی ڈگڈگی پر ناچیں گے۔
ہوشیار رہنا اب ہماری ضرورت ہے، ذمہ داری بھی اور بقا کا واحد راستہ بھی۔ کیونکہ اگر ہم نہ بدلے تو یہ مداری کبھی ختم نہیں ہوں گے… وہ واپس آئیں گے، وہی ڈگڈگی بجائیں گے، اور ہم پھر تالیاں بجاتے رہ جائیں گے۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم تماشائی بنے رہتے ہیں… یا باشعور معاشرے کا حصہ بن کر مداریوں کا کھیل ہمیشہ کے لیے بند کر دیتے ہیں۔مداری ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اسے کرنا ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے، ہم کب سمجھیں گے، اور ہم کب ان تماشوں کا حصہ بننے سے انکار کریں گے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں