لائیک می پلیز۔۔ حسن کرتار

“گرو آج مجھے احساس ہو رہا ہے کہ یہ دو ٹکے ٹکے کے لوگ کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔ کاش ان سالوں سے پہلے کچھ بنا کے رکھی ہوتی تو آج میرے ساتھ یوں نہ ہو رہا ہوتا۔اب تو مجھے کبھی کبھی سیاستدانوں سے بھی ہمدردی ہوتی ہے۔ کیسے بیچارے ایک ایک ووٹ کے لئے کتوں کی طرح خوار ہوتے ہیں”

“تو کیا ہو رہا ہے تمہارے ساتھ؟”

“کیا بتاؤں بلکہ آپ جانتے ہی ہیں یہ سالے دوست تو دوست گھر والے بھی میری پوسٹس لائیک نہیں کرتے۔”

“تمہیں پورا یقین ہے کہ لوگ تمہاری پوسٹس لائیک نہیں کرتے یا دراصل تمہیں نہیں لائیک کرتے؟”

“گرو ایسی بھی بات نہیں۔ منہ پہ سب اچھے ہوتے ہیں۔ بس کمینے پیٹھ پیچھے چھریاں مارنے سے باز نہیں آتے۔ پتہ نہیں کیا حسد، بغض، عناد  دلوں میں لئے بیٹھے ہیں”

“تم جانتے ہو یہ صرف تمہارا مسئلہ نہیں۔ ایک زمانہ اس پریشانی سے دوچار ہے۔ سننے پڑھنے میں آرہا ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پہ زیادہ رسپانس یا لائیکس نہ ملنے کی وجہ سے شدید ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں اور باقاعدہ نفسیات دانوں سے جا کر اپنا علاج کرواتے ہیں یا علاج کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ آج کل سخت بے چینی کا دور چل رہا ہے۔ ہر شخص ہی اک عجیب ٹینشن میں ہے”

“مگر گرو ایسے بھی لوگ ہیں جو اگر چھینک بھی مار دیں تو لائیکس کمنٹس کی برسات شروع ہو جاتی ہے۔”

ہاں  کچھ سیلبریٹیز بھی ہوتی ہیں۔ جن کے انڈرویئر سے لے کر گیارہویں بارہویں معاشقے تک سب بکتا ہے۔ پر یہ ان پر   قسمت کی مہربانی ہوتی ہے یا ان کی اپنی چالاکیوں کا پھل ہوتا ہے۔ تم بھی تھوڑے سے چالاک بننے کی کوشش کرو۔ امید ہے کوئی  نہ کوئی اچھا رزلٹ ضرور ملے گا۔”

“گرو اور کتنی کوشش کروں۔ سب کر کے دیکھ لیا ہے۔ شاعری کے  کالم لکھے، سیاسی تبصرے کیے، سماجی مظالم اور نا انصافیوں پہ تو روز کئی  پوسٹس لکھتا ہوں، ٹوئیٹس کرتا ہوں۔ یہاں تک کہ عظیم لوگوں کی عظیم باتیں بھی شیئر کر کے دیکھ لیں مگر بات دس بیس یا کبھی کبھی پچاس ساٹھ لائیکس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ سب تھرڈ کلاس مشہور سوشل میڈیا بلاگرز   شاعر اور ان کے چمچے چمچیاں مجھ پہ ہنستے ہیں۔ دل چاہتا ہے خود کشی کرلوں اب!”

“حضرت آسکر وائلڈ نے خوب فرمایا تھا کہ ایک وقت تھا کہ عظیم لوگ کتابیں لکھتے تھے اور عوام پڑھتی تھی آج کل عوام لکھتی ہے اور پڑھتا کوئی بھی نہیں۔
خیر چھوڑو یہ اقوالِ زریں۔ تو تم غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ سب مشہور بلاگرز شاعر وغیرہ کیسے مشہور ہوۓ۔ تم بھی ان جیسی حرکتیں شروع کر دو امید ہے کامیاب ہو جاؤ گے!”

“نہیں گرو مسئلہ کچھ اور ہے۔ حرکتیں تو میری بھی ان جیسی ہی ہیں مگر پتہ نہیں ،میں کیوں نہیں مشہور ہو پا رہا۔ کاش میں لڑکی ہوتا اور دماغ یہی ہوتا جو اب ہے پھر دیکھتا یہ دنیا کیسے میرے آگے نہیں جھکتی!”

“یہ لنگڑا سا بہانہ ہے۔ کچھ غور و خوض کرو کوئی محنت کرو کوئی کتابیں شتابیں پڑھو! ورلڈ ویو تھوڑا بہتر کرو اپنا”

“گرو بتایا ناں یہ سب کرچکا ہوں مسئلہ کچھ اور ہے”

“مسئلہ تو سیدھا ہے۔ یہ خود ستائشی یا لائیک می پلیز
بہت خطرناک آسمانی بیماری ہے اور شاید ہی کوئی  زمینی اس سے بچ پایا ہو۔ یہ بہت پراسرار بیماری ہے۔ بڑے سے بڑے مسیحا کے پاس بھی اس کا علاج نہیں۔ پہلے اس کی شکلیں کچھ اور ہوتی تھیں نئے  دور نے اسے مزید خطرناک کر دیا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ کئی  کئی  گھنٹے اپنی تصویر لینے یا لینے کے بعد کئی   کئی  گھنٹے اسے دیکھنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔مجھے یہ سب دیکھ دیکھ کر وہ پرندے یاد آتے ہیں جو شیشے میں اپنی شکل دیکھ کر دیوانہ وار چونچیں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ چونچیں زخمی ہو جاتی ہیں پر وہ شیشے کے سامنے سے نہیں ہٹتے۔
اپنا لکھا سو سو بار پڑھتے ہیں۔ دوسروں کے لکھے پر یا تو فوراً الجھ پڑتے ہیں یا جیلسی سے یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں یا پھر لکھنے والے سے کچھ مفاد وابستہ ہوں تو بن پڑھے ہی واہ واہ بہت خوب یادگار آپ کو تو کتاب لکھنی چاہیے اور جانے کس کس انداز سے خوشامد شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی شک نہیں نئے  زمانے نے سب کو ایک ایسے جال میں پھنسایا ہوا ہے جس سے شکار اور شکاری دونوں کا زندہ سلامت بچ نکلنا تقریبا ً ناممکن ہے۔”

“واہ گرو آپ سچ فرماتے ہیں شاید اس لئے سوشل میڈیا پہ دیدنی ہونے کے باوجود کم کم نظر آتے ہیں۔ مگر گرو میرا مسئلہ اور ہے مجھے مشہور ہونا ہے۔ ایسے یا ویسے مجھے بس بےشمار لائیکس اور کمنٹس چاہئیں۔ ”

“بھئ میں تو تمہیں یہی کہوں گا کہ ان چکروں میں نہ پڑو اور اپنے اصل کاموں پر توجہ دو۔ یہ  سمارٹ فون وغیرہ جہاں آج کل کے دور میں بہت اہم اور کئی  حوالوں سے بہت مفید ہے وہیں یہ ایک بہت خطرناک  اڈیکشن بھی ہے تقریبا ً کوکین کی اڈیکشن جیسی۔ اس کا متوازن استعمال نہ ہو تو یہ انسان کو مکمل پاگل یا سیاستدان بھی کر سکتا ہے ۔
لکھاری یا آرٹسٹ یا قابل ِ قبول ہستی بننا ہے تو سوچو سمجھو محنت کرو ۔ نتائج کی پرواہ مت کرو۔ آہستہ آہستہ نہ صرف تمہارا کام مشہور ہوگا بلکہ تمہیں بھی من چاہی شہرت مل ہی جائے گی۔ بیکن نے خوب کہا تھا کہ شہرت ایک دریا کی طرح ہوتی ہے جو ہلکی اور بے وزن چیزوں کو اوپر لے آتا ہے اور ٹھوس اور وزنی چیزوں کو تہہ میں چھپا دیتا ہے۔”

“گرو آپ کا سنایا یہ کوٹ بھی شئیر کر چکا ہوں مگر اسے بھی صرف دس لائیکس ہی ملے تھے۔ مجھے کوئی شارٹ کٹ بتائیں۔”

“بھئ میرے پاس تو ایسا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ بس کوشش کرو خود کو اور اپنے کام کو بہتر کرنے کی اور۔۔۔”

“چلیں ٹھیک ہے گرو۔ اب میں چلتا ہوں کچھ کام کرنے ہیں پر یہ سالا سوشل میڈیا کچھ کرنے ہی نہیں دیتا۔ اچھا کم ازکم آپ تو میری پوسٹ لائیک کر دیا کیجئے اور کبھی کبھی کوئی اچھا سا کمنٹ بھی ڈال دیا کیجئے۔ چیلے کا اتنا حق تو بنتا ہی ہے!”

“کمینے یہ جو معصوم پری تمہاری ہر چول سے چول پوسٹ بھی لائیک کرتی ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے یہ واقعی میں کوئی معصوم پری ہے!”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *