چمتکار/حسان عالمگیر عباسی

گہرائی کا تعلق ذات سے نہیں ہے۔ ذات یعنی اندرونی کیفیت جب بیرونی اعمال و افعال سے جڑتی ہے تو خیال بنتا ہے، یہ خیال دیگر خیالات سے مل کر ایک لڑی بن جاتی ہے اور گہرائی جنم لیتی ہے۔ دسمبر شام و شب میں اتنا خاموش ہو جاتا ہے کہ جنگلی یا پالتو جانوروں کی آوازیں تک کان میں رس گھول رہی ہوتی ہیں۔ دسمبر سے ایک اپنائیت سی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجوہات میں سر فہرست چاند اور اس کی چاندنی ہے۔ اگرچہ چاند سارا سال چمکتا ہے لیکن دسمبر میں یہ چمک نظر بھی آتی ہے اور محسوس بھی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں ایک بڑا المیہ جنم لے رہا ہے کہ ہم حساسیت سے پناہ مانگتے ہیں حالانکہ حساسیت کا تعلق حواس سے ہے اور حواس سے اگر ہم چھٹکارا پائیں گے تو جذبات قید ہو جائیں گے اور اگر جذبات بار بار قید ہوں گے تو یہ عادت بن جائے گی اور نئی عادت بنانے کے لیے بار بار دہرانا پڑ سکتا ہے اور یہ بہت مشکل پریکٹس ہے۔ دسمبر میں کتے بھی بھونکتے ہیں اور کتوں کا سناٹے میں بھونکنا ایک سریلے گیت جیسا ہے۔ تارے بھی دسمبر ہی میں جھلملاتے ہیں۔ ان افعال و اعمال سے ذات کا جذباتی یا روحانی یا ذہنی و قلبی تعلق قائم ہوتا ہے۔ چار پہاڑیاں نیچے ندی ہے جو سالہا سال بہتی رہتی ہے لیکن دسمبر میں اس کے بہنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے وہ دسمبر ہی کی طرح بہت مختلف اور بہت سنسان ہوتی ہے جو شعور و لاشعور و تحت الشعور اور عقلیت سے متعلق ہے۔ یہیں سے جمالیات بنتی ہے۔ دیکھنے سے، سننے سے، سونگھنے سے، پرکھنے سے، چھونے سے، محسوس کرنے سے اور چکھنے سے جمالیات بنتی ہے تبھی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ بہت عمدہ ہے! یہ عمدگی سے بھرپور ہے! یہ جاندار ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل میں اس فطری کشمکش میں اس حد تک مبتلا ہو چکا تھا کہ میرے لیے گاڑی کی آواز یا کوئی دیگر انسان کی بنائی گئ آواز شجرِ غیر ثابت ہوتی جا رہی تھی لیکن کلچر یا سماجیات یا دیگر معاملاتِ زندگی سے تعلق استوار کرنا پڑا تھا۔ دسمبر اب وہ والا دسمبر نہیں ہے یا ممکن ہے ہر دسمبر کی اپنی اہمیت ہے لیکن بہرحال دسمبر سے کچھ انوکھا تعلق ہے۔ یہ ناسٹیلجیا سے متعلق ہے۔ یہ ماضی سے وابستہ ہے۔ یہ وابستگی معنی سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ یہی وابستگی جذبات کو ٹھنڈا ہونے سے بچا بھی لیتی ہے۔ اگرچہ ابھی ندی پھوٹنے اور بہتے جانے کی آواز مدھم ہے یا ممکن ہے سماعت پہ زور نہیں پڑ رہا تو مدھم ہے لیکن سماعت ماضی میں ہونے والی انگڑائیوں کو پہچان سکتی اور پہچان رہی ہے اور پانی کے بہتے جانے کی آواز یا موسیقی سن رہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ابھی ہی کا معاملہ ہے۔ صبح سویرے ایک مرغا بولتا ہے اور اس مرغے کی دیکھا دیکھی باقی مرغے بھی بولنے لگتے ہیں۔ ایسا سارا سال ہوتا ہے لیکن دسمبر میں واقعی سنائی دیتا ہے۔ کون کہتا ہے چمتکار نہیں ہوتے۔ یہی تو وہ چمتکار ہیں۔۔۔ یہی تو وہ راز و نیاز کی باتیں ہیں۔۔۔ یہی تو وہ گیت ہیں۔۔۔ یہی تو وہ موسیقی ہے۔۔۔ جو پُرلطف ہے! جو گاڑی یا موٹر کی آواز سے ہزار گنا زیادہ پر لطف ہے۔۔۔ اس چمتکار کے آگے انسانوں کی گھڑی گئی ثقافت اور رسم ہیچ ہے۔ سبز پتوں کی پیلاہٹ کے بعد گرنے کے بعد اس پہ چلنا دراصل عظمت کا کام ہے۔ یہی اعترافِ کائنات ہے۔ حرفِ آخر یہی ہے کہ سب قافیوں اور ردیف کا سورس یہی کچھ ہے۔ یہی حساب بھی ہے اور ادب بھی یہی ہے۔۔۔ یہی سائنس ہے اور یہی لسانیات ہے۔۔۔ یہی فلسفہ اور یہی نفسیات ہے بلکہ یہی سماجیات بھی ہے! اکثر میں سوچتا تھا کہ گھنے جنگل میں پڑے پیڑوں کی کیا اہمیت ہے۔۔۔ یہاں سے چند کلومیٹرز کے فاصلے پہ پہاڑوں کا اختتام ہے جہاں سے نئے پہاڑوں کا زمینی سلسلہ شروع ہوتا ہے وہاں موجود ایک پتھر کیا ہے؟ اس کی مجموعی اہمیت صفر ہونی چاہیے لیکن محسوس کریں تو پتہ چلے کہ مخلوق صرف انسان ہی نہیں ہے۔ انسانوں سے بہت بہتر مخلوقات بھی ہیں جو وہاں رہتی ہیں۔ جو یقیناً معیشت پہ یقین رکھتی ہیں۔ جو سماجی پہلوؤں پہ بات کرتی ہیں۔ صرف چیونٹیوں کا ہی مزاج دیکھ لیا جائے یا شہد کی مکھی کی بزبزاہٹ محسوس کی جائے یا ان کی اکّڑ بکّڑ پرکھ لی جائے تو کئی کئی کتابیں بن سکتی ہیں۔ قصہ مختصر ہر شاخ پہ مینا بیٹھی ہے۔ ہر چوٹی پہ مارخور ملے گا۔ ہر پتھر کے نیچے کیڑا بِنبِنا رہا ہو گا اور ہر پھڑپھڑاہت میں کوئی سبق مل جائے گا گویا: جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا/ لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply