ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس ایک غیر معمولی کانفرنس تھی جس میں ان کا بانی پی ٹی آئی کے خلاف فوج میں پائے جانے والے غصے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہےجس کی دلیل ان کے وہ الفاظ اور القابات ہیں جن کا اظہار بغیر نام لئے کیا گیا اور پھر صحافیوں کے سوالوں نے ان کے موقف کو مزید واضح کیا اور اس پر ابھی تک پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کی طرف سے کوئی واضح ریسپانس نہیں دیا گیا محض موجودہ چیرمیں پی ٹی آئی جنہوں نے اس کانفرنس کو مایوس کن کہا ہاں عمراں خان کے اکاونٹ سے جواب دیا گیا جو ان کے اس بیانیے کی ہی توثیق تھی جس کے برخلاف یہ کانفرنس کی گئی تھی۔
جہاں تک پی ٹی آئی کا یہ موقف ہے کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ چند جرنیلوں کی ذات پر یا فوج کے سیاست میں کردار پر وہ بات کرتے ہیں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس سے اندازہ لگا لینا چاہیے کہ فوج کا سربراہ کبھی تنہا نہیں ہوتا بلکہ وہ اور اس کا حکم ہی فوج کا عمل ہوتا ہے اور فوج بارے اس طرح کی سیاسی توجیہات کام نہیں آتیں بلکہ اس طرح کی سوچوں کو ادارے کے اندر بغاوت کے مترادف فعل سمجھا جاتا ہے جس کا اندازہ ان کو اس کانفرنس سے ہو جانا چاہیےکہ ان کے بیانیے کا جواب ادارے کا سپوک پرسن دے رہا ہے ۔ اور اگر اب بھی وہ اپنے بیانیے پر قائم رہتے ہیں تو پھر انہیں اپنے آپ کو رعائت کا حق دار نہیں سمجھنا چاہیے۔
ہاں جہاں تک ان کی فوج کے سیاست میں کردار بارے تحفظات ہیں تو یہ بات پارلیمان کے فورم پر کی جانی چاہیے بلکہ اس وقت اس پر اصلاحات لائی جانی چاہیں تھیں جب وہ خود اقتدار میں تھے مگر اس وقت تو وہ فوج کے کردار سے دو سو فیصد نہ صرف مطمئن تھے بلکہ تعریف کرتے تھے لیکن اب بھی کوئی دیر نہیں ہوئی اگر ان کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو وہ ان کو پارلیمان میں پیش کریں جس کا سب سے موزوں حل تو یہ ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کا اگر اس وقت جواب نہیں دے سکے تو ابھی دے دیں۔
ہائبرڈ جمہوریت کی اصطلاح ہی ان کو اقتدار سونپے جانے سے شروع ہوئی تھی اور شائد یہی عمل ان کے فوج میں سیاست کے دخل کے بیانیے کو یقین مہیا کرتا ہو جس کے یقیناً ثبوت ان کے پاس ہونگے جو وہ اس وقت فوج کے سرکردہ جرنیلوں کے خلاف پیش کرکے ان کے محاسبے کا آغاز کروا سکتے ہیں جو یقیناً موجودہ کے لئے عبرت بنے گی۔
اداروں کی سیاست میں دخل اندازی کی تاریخ اور اس کی بنیاد پر استدلال کی سوچ کو ختم کرنے کے لئےعملی طور پر کوئی ایسے احتساب کے نمونے بنانے پڑیں گے جس کے لئے اداروں اور سیاستدانوں کو باہم مل کر کسی نتیجے پر پہنچنا ہوگا تاکہ نہ کوئی نشانہ بن سکے اور نہ ہی اعتماد کے فقدان کا ماحول پیدا ہو
سیاسی لوگوں کی اصل طاقت عوام کا مینڈیٹ ہوتا ہے جو آئین کے اندر دی گئی جمہوری قوت ہوتی ہے جسے آئین ایک ذمہ درانہ عمل کا پابند ٹھہراتا ہے۔ ایسا قطعاً بھی ممکن نہیں کہ عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر کوئی جو چاہے بولتا جائے۔ فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے اس لئے اس طرح کے الزامات جن کے مرتکب عمران خان ٹھہر رہے ہیں ان کی تحقیقات کروائی جانی چاہیں اس کے بغیر اس بیانے سے جان چھڑوانا ممکن نہیں۔
ریاست کو چاہیے کہ فوراً اس پر تحقیقات کے آئینی و قانونی عمل کو حرکت میں لائیں اور اگر عمراں خان لگائے جانے والے الزامات کے ثبوت نہیں دے سکتے تو ان کے خلاف قانونی کاروائی کو عمل میں لایا جائے۔ وزیر اطلاعات کا محض یہ کہہ دینا کہ اب کسی انتشاری، دہشت گرد، انتہاپسند سوچ رکھنے والے سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی کافی نہیں بلکہ فوج کے اندر پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے۔ جن سے نہ صرف الزامات کا خاتمہ ہو بلکہ مستقبل میں اس طرح کی مداخلت کا بھی سد باب کیا جاسکتے۔
حکومت اس طرح کے معاملات سے اپنے آپ کو لا تعلق نہیں رکھ سکتی او نہ ہی ان کی معلومات تک دسترس ان کے لئے ایسا کرنے کا کوئی جواز چھوڑتی ہے۔
اب ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے پاس مزاکرات بارے بھی چانسز کم پڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اب تو پی ٹی آئی جماعت کو بانی پی ٹی آئی جو اپنے بیانیے پر بضد ہیں کو سمجھا کر وضاحت میں کوئی گنجائش کا ماحول پیدا کرکے ہی رعائت کی کوئی صورتحال ڈھونڈنی ہوگی۔
ریاست اور ریاست کے اداروں کے خلاف جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کئے جانے والے پراپیگنڈا پر وزارت اطلاعات کو شواہد کے ساتھ وضاحت کو قوم کے سامنے رکھنا چاہیے جو ہفتہ وار بنیادوں پر عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اور اے آئی کے اس دور میں یہ کوئی مشکل ٹاسک نہیں بلکہ حکومت اپنے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی مدد سے سافٹ وئیر کا کوئی ایسا ٹول بھی بنا سکتی ہے جو اس طرح کے پراپیگنڈا کی بروقت نشاندہی کرکے اس کو قوم کے سامنے شواہد کے ساتھ رکھے تاکہ عوام کے دلوں میں غلط فہمیوں کا بر وقت صفایہ کیا جا سکے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں