ہم کیسے مانیں؟ -انعام رانا

دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو اتحادی افواج کے تھنک ٹینک سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ ایک اتنی بڑی قوم کا کیا کریں جو قریب دو دہائیاں ایک فریب، ایک نظرئیے ایک ہسٹریا کا شکار بنا کر رکھی گئی۔ فقط سخت سزائیں نہ تو مستقل علاج تھا اور نہ ہی ایک اتنی بڑی اور ذہین قوم ضائع کی جا سکتی تھی۔ چنانچہ سکولوں کے سلیبس بدلنے سے لے کر کار سرکار میں تطہیر تک قدم تو کئی اٹھائے گئے مگر اس سب کے پیچھے تھیوری تھی کہ “غلط ہونے کا احساس پیدا کیا جائے”۔ جب تک غلط ہونے کا احساس پیدا نہیں ہوتا، تصحیح کی کوئی بھی کوشش بے کار ہے۔

اگرچہ دوست اوپر کی مثال کے بعد پاکستان کے ذکر پہ فوراً گالم گلوچ شروع کر سکتے ہیں مگر بہتر ہو گا کہ مکمل پڑھ لیجیے۔ ستر سال سے اسٹبلشمنٹ ایک بیانیہ لئے پھر رہی تھی کہ سیاستدان برے ہوتے ہیں۔ کبھی اسے ایوب نے برتا تو کبھی ضیا نے، مشرف کے ہاتھ میں بھی یہی تلوار تھی۔ سیاستدان مگر ڈھیٹ نکلے، ہر پانچ سات سال بعد آپ سے پھر اپنی جگہ واپس لیجاتے تھے اور بدنامی بھی اگلے کچھ سال “آپ کو” ملتی تھی۔ چنانچہ “آپ” نے طے کیا کہ اس بار گیم ذرا مختلف ڈالی جائے اور نازی نظرئیے کی مانند ایک نظریہ کھڑا کر لیا۔

آپ نے پورا آئی ایس پی آر، کئی ٹی وی چینلز، یو ٹیوبرز اور صحافی بس ایک کام پہ لگا دئیے کہ سب چور ہیں، منہ کالا کرپٹوں کا اور جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان۔ پندرہ برس آپ نے ایک “بت” تخلیق کیا اور پھر اسکے پجاری، جن کے نزدیک دیوتا معصوم تھا، نجات دہندہ تھا اور مکمل تھا۔ آپ نے اسکو ففتھ جنریشن وار کے نام پہ جنگجو ٹیم بنا کر دی، سیاسی جماعتوں سے بندے توڑ کر دئیے، آپ نے محکموں میں “اسکے بندے” پلیس کیے، اسکی غلطیوں کو بھی یوں گلوریفائی  کیا کہ ایک کھلاڑی اور ریفارمر خود کو واقعی نجات دہندہ مان بیٹھا۔ آپ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کہ بس اب اگلے بیس تیس برس کا انتظام مکمل ہوا اور آپ ہاتھ گندے کیے بنا نظام کے کُل مختار بنے رہیں گے۔

آپ مگر کھلاڑی کا “سائکو اینالسز” کرنا بھول گئے۔ آپ فوج میں لیفٹین بھرتی کرنے سے قبل تو سائیکالوجی ٹیسٹ لیتے ہیں مگر وزیراعظم اس کے بنا ہی بنا دیا۔ آپ کو اندازہ ہی نہ  تھا کہ جس بندے کو لتھی چڑھی کی نہ  ہو، جو دیوتا کے سنگھاسن پہ بیٹھ جائے، جس کے پجاری اسکا کہا حرف آخر سمجھیں، وہ پُتلی” بن کر زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ آپ کو یہ بھی اندازہ نہ ہو سکا کہ ایسا شخص باقیوں کی مانند مصلحت سے کام لے کر، وقت ٹپا کر، اگلے موقع کا انتظار کرنے کے بجائے سسٹم کو چوک کر دینا مناسب سمجھے گا۔

آج وہ دیوتا اس ملک کا سب سے پاپولر سیاسی لیڈر ہے، وہ بہت سوں کی اکانومی ہے کہ اسے بیچ کر انکا چولہا جلتا ہے، آپ کا ہر حملہ اسکے پجاری میم بنا کر آپ پہ الٹا دیتے ہیں اور دیوتا خود اندر بیٹھا ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ آج آپ اسکی ایک ٹویٹ کا جواب دینے کیلئے لیفٹیننٹ جنرل میدان  میں اتارنے پہ مجبور ہو چکے جو کچیچیاں وٹ کر اسے ذہنی مریض اور سکیورٹی تھریٹ قرار دیتا ہے۔ آپ کا ایک جنرل “بھونکتا کتا” جیسے الفاظ استعمال کرنے پہ مجبور ہو کر سوشل میڈیا پہ مذاق بن جاتا ہے۔

julia rana solicitors

آپ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اس بار سب کچھ مختلف ہے، ہو گا، مگر ہم کیسے مان لیں؟ اگر آپ واقعی سچے اور سنجیدہ ہیں تو پھر ابتدا غلطی کے احساس اور اسکے دیانتدارانہ اعتراف سے کرنا ہو گی۔ آپ کو وہ مکمل منصوبہ افشاں کرنا ہو گا جو جنرل عاصم باجوہ دور سے شروع کیا گیا۔ آپ کو اس منصوبہ کے کرداروں کو، چاہے وہ فوجی تھے، عدالتی یا صحافتی، سب کو اس قوم کے سامنے بطور مجرم پیش کرتے ہوئے انکا ٹرائل کرنا ہو گا۔ جب اس قوم کو یہ معلوم ہو گا کہ آپ نے کیسے پوری قوم کو پندرہ برس ایک ہسٹریا کا شکار کیا اور اب آپ خود اس غلطی کا دیانتدارانہ اعتراف کر رہے ہیں، شرمندہ ہیں اور سدھرنا چاہتے ہیں تو ہی وہ آپ کی غلطی کو معاف کرتے ہوئے آگے بڑھ سکے گی۔ پھر بھی آپکو ایک دہائی چاہیے لوگوں کے دل و دماغ سے یہ “ٹرانس” نکالنے کیلئے۔ وگرنہ “وہ” تو ٹویٹ کرتا رہے گا اور آپ خوفزدہ صحافی بٹھا کر اپنے میمز بنواتے رہیں گے۔ اگر آپ اسکے “طبعی انجام” کے منتظر ہیں تو یقین کیجیے اسکی طبعی موت بھی اسکی شہادت ہی قرار پائے گی اور اس بار “بھٹو” کی قبر کئی نسلوں تک آپ کو ڈرائے گی۔

Facebook Comments

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply