ڈینگی بخار — ایک خطرناک وبائی مرض/بشریٰ نواز

ڈینگی بخار ایک خطرناک وبائی مرض ہے جو مچھر ایڈیز ایجپٹائی (Aedes Aegypti) کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ مچھر عموماً صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے، مثلاً گملوں، ٹینکیوں، پرانی ٹائروں اور پانی کے برتنوں میں۔ ڈینگی ایک وائرل بیماری ہے جو انسان کے جسم میں داخل ہو کر بخار، جوڑوں کے درد اور خون کی کمی جیسے خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے۔

ڈینگی کی وجوہات:
ڈینگی وائرس چار اقسام پر مشتمل ہے (DEN-1, DEN-2, DEN-3, DEN-4)۔ یہ وائرس متاثرہ مچھر کے ذریعے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ مچھر صبح اور شام کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لیے ان اوقات میں خصوصی احتیاط ضروری ہے۔

علامات:
ڈینگی کی ابتدائی علامات عام بخار سے ملتی جلتی ہیں، لیکن کچھ دنوں بعد خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
• تیز بخار (104°F تک)
• شدید سر درد
• آنکھوں کے پیچھے درد
• پٹھوں اور جوڑوں میں درد
• متلی اور الٹی
• جلد پر سرخ دھبے
• خون کی کمی اور پلیٹ لیٹس کی تعداد میں کمی
اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور یا ڈینگی شاک سینڈروم میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

احتیاطی تدابیر:
ڈینگی سے بچاؤ علاج سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین عام دستیاب نہیں۔ چند بنیادی احتیاطی اقدامات یہ ہیں:
گھروں اور اردگرد پانی جمع نہ ہونے دیں۔
1. پانی والے برتن، گملے اور ٹینکیاں ڈھانپ کررکھیں۔
2. مچھر دانی کا استعمال کریں۔
3. مچھر بھگانے والی کریم یا اسپرے لگائیں۔
4. بچوں کو مکمل بازوؤں والے کپڑے پہنائیں۔
5. شام کے اوقات میں خاص احتیاط برتیں۔
6. صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔

علاج:
ڈینگی کا علاج بنیادی طور پر علامات کے مطابق کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے خلاف کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا موجود نہیں۔ مریض کو آرام، زیادہ پانی پینا، متوازن غذا اور بخار کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں۔ خطرناک صورت میں مریض کو اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ پلیٹ لیٹس کی کمی کو کنٹرول کیا جا سکے۔

حکومتی اقدامات:
حکومت کی سطح پر ڈینگی کے تدارک کے لیے مہمات چلائی جاتی ہیں، جن میں:
• اسپرے مہمات
• آگاہی پروگرام
• ہسپتالوں میں خصوصی ڈینگی وارڈز کا قیام
• سکولوں اور عوامی مقامات پر معلوماتی بینرز

julia rana solicitors

نتیجہ:
ڈینگی ایک قابلِ علاج مگر خطرناک بیماری ہے۔ اگر ہر شہری صفائی اور احتیاط کو اپنا شعار بنائے تو اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ مچھر کی افزائش روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply