مال ، مفاد اور نظریہ/ڈاکٹر اظہر وحید

کچھ لوگ مال اور مفاد کو نظریے پر قربان کردیتے ہیں اور کچھ لوگ مال و مفاد بچانے کے لیے ، مال اور مفاد میں توسیع کے لیے نظریے سے باآسانی دستبردار ہو جاتے ہیں۔ اِن میں آسانی میں کون ہیں اور مشکل میں کون؟… یہ فیصلہ کرنا قطعاً دشوار نہیں۔ مال ومتاع کی فراوانی انسان کو بظاہر آسانی مہیا کرتی ہے لیکن اس کا باطن ویران ہو جاتا ہے۔ ظاہر آباد اور باطن ویران… اس سے زیادہ خسارے کی تجارت کوئی نہیں ہو سکتی۔ مگر کیا کریں… انسان دْور تک دیکھنے سے قاصر ہے… اگر کوئی دْور تلک دیکھنے کے جوہر کا حامل ہوتا ہے تو یہ اْس پر بھروسہ کرنے سے قاصر ہے۔
انسان اگر صرف گوشت پوست کا مجموعہ ہو تو کوئی حرج نہیں اگر ظاہر کی فراوانی ہی اْس کا مدعائے حیات ٹھہرے۔ لیکن کیا کریں… انسان کے پاس ایک ایسا جوہر ہے جو اسے گوشت پوست اور مال و متاع کی پہچان سے بلند کر دیتا ہے۔ جب تک اس کے جوہر، جسے جوہرِ انسانی بھی کہا جا سکتا ہے، کو مخاطب نہ کیا جائے ، اس کی دیکھ بھال اور پرورش نہ کی جائے ، اسے کسی پل چین نہیں آتا۔ وہ محلات میں رہ کر بے چین رہتا ہے، وہ اپنی اَنا کی تسکین کے باوجود بے کل رہتا ہے۔ تسکین وجود، اْس کے وجود کو تسکین نہیں دے پاتی۔ دوسری طرف جب وہ اپنے جوہر کو دریافت کرلیتا ہے تو کچھ نہ ہونے کے باوجود بہت کچھ پالینے کے احساس سے معمور ہو جاتا ہے۔ وہ فقیری میں بادشاہی محسوس کرتا ہے۔ وہ کال کوٹھری میں خود کو تخت نشیں تصور کرتا ہے۔ اس جوہرِ انساں کو بہت سوں نے روح کہا، کچھ نے معرفتِ نفس کہا، اور کچھ نے اسے خودی سے تعبیر کیا۔ عرفانِ نفس کو خودی سے تعبیر کرنے والوں نے کہا:
میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
اس جوہر کی نمود … احساس اور خیال سے ہے۔ احساس، خیال کا ابتدائی درجہ ہے۔ خیال کی پرورش کے لیے نظریے کی وہی اہمیت ہوتی ہے جو کسی شجرِ نوخیز کے لیے پانی اور ہوا کی۔ نظریہ بالعموم انسان کو مادے کے حصار سے نکالنے میں معاون ہوا کرتا ہے۔ جو انسان کسی نظریے سے محروم ہے، اس کا تخیل فانی ہے… اس کے خیالات کی تار وپود صرف مادی اسباب و نتائج سے تعمیر ہوتی ہے اور انہی اسباب کی عدم موجودگی میں بکھر جاتی ہے۔ دراصل مادی اسباب کے زیرِ اثر پیدا ہونے والا خیال، خیال ہی نہیں کہلاتا۔ وہ ایک دماغی سوچ کا تانا بانا ہوتا ہے۔ سوچ اور خیال میں وہی فرق ہے جو تعلیم اور علم میں ہوتا ہے… جو آور اور آمد میں ہوتا ہے … اور جو جسم اور روح میں ہوتا ہے۔
نظریہ اگر ماورائی ہو تو اسے عقیدہ کہتے ہیں۔
عقیدہ عقد سے ہے، گرہ باندھنے سے ہے۔ کسی بات کو گرہ سے باندھ لینا ایک محاورہ ہے۔ محاورے بھی ہماری تفہیم کے زاویے ہوتے ہیں۔ کسی شخصیت پر ایمان و ایقان کے ذریعے اپنے خیال کی گرہ کسی ماورائی حقیقت سے لگا دی جائے تو اس نظریے کو عقیدہ کہیں گے۔ دراصل عقیدہ ماسواء کو ماوراء کی طرف روبہ خیال کرتا ہے۔ یوں عقیدہ ہمارے نظریے کو دماغی سطح سے بلند کرتا ہوا اسے قلبی سطح پر لے جاتا ہے۔
وہ شخص جو کسی نظریے کے تحت جیتا ہے، خواہ وہ کوئی غلط نظریہ ہی کیوں نہ ہو، بہرصورت قابلِ تکریم ہوتا ہے، کہ وہ اپنی پہچان کو کم اَز کم مادّی سطح سے بلند کر لیتا ہے۔ ایسا شخص قابلِ توجہ ہوتا ہے، یہ شخص ایک راہی ہے، بھٹکا ہوا ہے۔ راہرو کی قدر مقیم سے زیادہ کی جاتی ہے۔ اہلِ نظر کے نزدیک وہ شخص ذرا سی بھی اہمیت کے قابل نہیںجو مال اور مفاد بچانے کے لیے نظریے پر سمجھوتہ کرلیتا ہے۔ اس کے لیے نظریہ یا عقیدہ زندگی کے دسترخوان میں ایک مین مینیو نہیں، بلکہ ایک سلاد یا سویٹ ڈش کی حیثیت رکھتا ہے۔ امکانات کے میز پر اگر ذرا سی جگہ کم پڑ جائے تو وہ فوراً اسے اٹھا باہر کرتا ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نظریے کی خاطر ہی جیتے ہیں اور نظریے ہی کی خاطر مرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی زندگی میں سب سے بڑا دکھ یہ ہوتا ہے کہ ان کا کوئی ہم عقیدہ ، ہم نوالہ و ہم پیالہ ،پیارا بھائی اچانک سے مال اور مفاد کو پیارا ہو جائے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے ساتھ گویا ذاتی سطح پر بے وفائی ہوئی ہے ، کیونکہ ا س کا نظریہ اس کی ذات کا حصہ ہوتا ہے۔ بے وفائی کا یہ احساس اسے تنہا کر دیتا ہے … اور یہ تنہائی اسے اپنے نظریے اور عقیدے سے مزید وفادار کر دیتی ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کا خیال ہے… خیال پر سمجھوتہ کرنے والا اپنی پہچان سے خود کو محروم کر لیتا ہے… پہچان کا سفر تو بعد کی بات ٹھہری۔ درویشی اور فقیری ایک خیال ہی تو ہے… خیال سے محرومی اسے درویشی سے محروم کر دیتی ہے… پھر اسے درویش ، فقیر اور مومن صفت لوگ بیوقوف اور سادہ لوح معلوم ہوتے ہیں۔ یہ درویش فقیر لوگ سادہ لوح ہی تو ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ محفل میں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ سے “سادہ لوح” کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؒ نے بڑے کیف آگیں انداز میں کہا: سادہ لوحی کیا ہے… اس کے بارے میں پہلے ایک شعر سن لو:
عشق کی سادہ لوحی دیکھ
جیت سمجھ کے کھا لی مات
زندگی میں کسی نظریے اور عقیدے پر چلنے والے لوگوں کے تمام رشتے فکری رشتے ہوتے ہیں۔ ان کی دوستیاں بھی فکری ہوتی ہیں اور دشمنیاں بھی فکری اور نظریاتی… وہ ذاتی طور پر کسی کے دوست ہوتے ہیں، نہ دشمن! ایک حدیثِ پاک نظر سے گزری تو احساس ہوا کہ ایسے لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں… ٹوٹ کر اور بھی زیادہ قیمتی ہو جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ رسولِ پاکؐ اصحاب کے ایک حلقے سے گزرے تو ان سے دریافت کیا کہ تم لوگ یہاں کس لیے اکٹھے ہوئے ہو۔ اصحابِ ذی وقار نے کہا کہ ہم یہاں اللہ کے ذکر کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آپؐ نے دریافت کیا: کیا اس کے علاوہ تمہارا اور کوئی مقصد نہ تھا؟ صحابہ نے عرض کیا: حضورؐ! کوئی دنیاوی مقصد ہمارے پیشِ نظر نہیں ہے، ہم صرف اللہ کے ذکر کے لیے بیٹھے ہیں۔ اس پر سرکارِ دوعالمؐ نے نہایت خوشی اور پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اللہ اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتا ہے۔ ایک اور حدیث یوں ہے: فرمایا گیا کہ قیامت کے روز جب اللہ کے عرش کے سائے کو سوا اور کوئی سایہ میسر نہ ہو گا، کچھ لوگ اللہ کے عرش کے سائے کے نیچے خوش و خرم ہوں گے، لوگ دریافت کریں گے کہ یہ کون لوگ ہیں، کیا یہ انبیاء ہیں یا شہداء ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ لوگ نہ تو نبی ہیں اور نہ شہید ، بلکہ یہ وہ لوگ جو دنیا میں ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لیے دوستی رکھا کرتے تھے اور اللہ ہی کے لیے دشمنی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ دوست تین قسم کے ہوتے ہیں: دوست، دوست کادوست ، اور دشمن کا دشمن۔ اور دشمن بھی تین قسم کے ہوتے ہیں: دشمن ، دشمن کا دوست، اور دوست کا دشمن۔
جو اللہ سے محبت کرتا ہے، وہ اللہ کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے ، جو اللہ کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے، وہ اللہ کے رسولؐ سے محبت کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ” رحماء بینھم” کا نتیجہ “اشداء علی الکفار” ہوتا ہے۔ جو اللہ اور اللہ والوں سے دوستی رکھتے ہیں، وہ ان کے عدو سے دشمنی بھی رکھتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے دل میں رحمان کے بندوں اور شیطان کے چیلوں کو ایک ساتھ جمع کر لوں۔ قرآن میں ہے: “اللہ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے”۔ اقبالؒ صاحبِ حال نے کیا خوب نصیحت کی ہے:
حق لاشریک ہے، باطل دوئی پسند ہے
شرکت میانِ حق و باطل نہ کر قبول
اللہ کے لیے اور اللہ والوں کے لیے ایک جگہ جمع ہونے والے مبارک ہیں… مبارک ہیں وہ لوگ جن کے درمیان دوستی کی وجہ کوئی “تْو” ہے۔ یہ “تْو” ہی “میں” کی دریافت کا سبب ہوتا ہے۔ خود شناسی اور خدا شناسی کی منزل انہی لوگوں کا مقدر ہوا کرتی ہے۔
غالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بْوئے دوست
مشغولِ حق ہوں بندگیِ ، بْو ترابؓ میں

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply