اکٹھی تین طلاقوں پر سزا کا مسئلہ۔۔۔ڈاکٹر محمد شہباز منج

گزشتہ رمضان المبارک میں معروف صحافی اور اینکر جناب سبوخ سید  کی میزبانی میں ایک ٹی وی پروگرام میں مسئلہ طلاق ِ ثلاثہ زیربحث آیا۔ جانبین نے اپنا اپنا موقف بیان کیا۔ ایک طرف تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کا موقف اور دوسری طرف جامعہ اشرفیہ کے ایک مفتی صاحب اس پر مصر کہ  فقہا بیک وقت تین طلاقوں کے انعقاد کے قائل ہیں، لہذا نھیں تین شمار نہ کرنے کی رائے سے ہر گز اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ مجھ سےرائے لی گئی تو میں نے عرض کیا:
آئمۂ فقہ جو بیک وقت تین طلاقوں کے انعقاد کے قائل ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں۔بالفاظ دیگر فقہا تین طلاقیں ہونے کے قائل ہیں، دینے کے قائل نہیں۔ ایسی طلاق کو طلاقِ بدعت قرار دینا فقہا کی اس پر ناپسندیدگی کا اظہار ہی تو ہے۔ لہذا طلاقِ بدعت کی حوصلہ شکنی کرنا فقہا کے موقف کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے!جانبین اپنی اپنی پوزیشن پر قائم رہتےہوئے ،ایسی طلاق کی حوصلہ شکنی کی تائید کر سکتے ہیں۔ سو اگر بیک وقت تین طلاقوں کے خلاف قانون سازی کی جائے تو فریقین کو قابل قبول ہوگی۔ اس رائے کو جانبین کے نمائندوں نے نہ صرف پسند کیا، بلکہ راقم کی اس رائے پر اتفاق ہوا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اگر اس سلسلے میں رول ادا کرے تو بہت مفید اقدام ہو گا۔

چند دن قبل یہ خبر سنی اور آج (27ستمبر 2018ء)کے جنگ اخبار میں پڑھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے اکٹھی تین طلاقوں پر سزا کے معاملے کی تایید کی گئی  ہے ،تو بہت خوشی ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ یہی موقف ہے، جو فریقین کو قابلِ قبول بھی ہے اور سوسائٹی کے بہت سے موجودہ خاندانی مسائل کے حل کےلئے اکسیر بھی۔ ہم اس فیصلے پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل محترم ڈاکٹر قبلہ ایاز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

بات کو ذرا کھولیں تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ فقہا تین طلاقیں ہو جانے پر کہتے ہیں طلاق ہو جائے گی، یہ نہیں کہتے کہ طلاق یوں دینی چاہیے، یا یہ کوئی پسندیدہ طریقۂ طلاق ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک بھی طلاق کا درست طریقہ یہی ہے کہ الگ الگ طلاق دی جائے اور سب سے اچھا طریقہ، جسے طلاقِ احسن سے تعبیر کیا جا تا ہے، یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دی جائےاور عدت گزرنے دی جائے۔اکٹھی تین طلاقیں ان کے نزدیک واقع ہو جاتی ہیں، لیکن یہ برا طریقۂ طلاق ہے، جس کو وہ طلاقِ بدعت سے تعبیر کرتے ہیں۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ فقہا کی طرف سے کسی امر کے جواز کا یہی مطلب نہیں ہوتا کہ ایسا کرنا مطلوب ہے،بلکہ اس کا مطلب ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، بہت دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا امر واقع ہوجائے تو قانوناً موثر ہے، نہ کہ وہ ایسا کرنے کی تائید  کر رہے ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر کسی فقیہ کا فتوی ٰ ہو کہ جانور کی بیٹ لگی ہو تو نماز ہو جائے گی ،اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیٹ لگا کر نماز پڑھیں ۔بات فقط اتنی ہے کہ اگر مجبوری میں کہیں ایسا کرنا پڑ جائے، تو نماز ٹھیک ہو جائے گی ، لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔اب ذرا زیرِ بحث مسئلے کو دیکھیے۔ فقہا کا یہ کہنا کہ تین طلاقین بیک وقت دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی ، اس کے علاوہ کیا معنی رکھتا ہے کہ طلاق منعقد ہو جائے گی! نہ یہ کہ وہ ایسے جذباتی اور احمقانہ فعل کی تایید کر رہے ہیں۔بلکہ یہاں تو وہ خود اس کی مخالفت کر رہے، اور اسے طلاقِ بدعت قرار دے رہے ہیں۔اگر کہیں ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ لوگ نماز کے بارے میں اتنے بےپرواہ ہو جائیں کہ نماز ایسی عبادت سے متعلق طہارت و نفاست کو ملحوظ رکھنے کی بجائے، بیٹوں وغیرہ ایسی چھوٹی نجاستوں کے ساتھ نماز پڑھنے لگیں، اور بعد کا کوئی فقیہ یا فقہی ادارہ ، بیٹ کے ساتھ نماز نہ ہونے کا فتویٰ دے یا کم ازکم ایسی نماز کو لوٹانے کا حکم دے ،تو یہ ان فقیہ کے موقف کی مخالفت کیسے ہو سکتی ہے! اس لیے کہ لوگ جو کرنے لگے ہیں یہ فقیہ کا مطلب ہی نہیں تھا۔

اسی طرح تین طلاقوں کے انعقاد کے فتوے سے ان کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ جاہل اور جذباتی لوگ اکٹھی تین تین طلاقین دیتے جائیں اور چند منٹوں کے بعد حلالے کی شرم ناک صورتوں کی طرف لپک کر انسانیت کی تذلیل کا راستہ اختیار کریں۔ ایسا تو خال ہی ہوتا ہے کہ مطلقہ کہیں اور نکاح کر ے اوروہ دوسرا شخص اتفاق سے کبھی اس کو طلاق دے دے اور وہ پہلے خاوند سے نکاح کر لے۔ جو ہو رہا ہے وہ یہی تماشا ہے ، جس میں مرد دیوسیت کا  مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیوی کو ایک رات کے لیے دوسرے کے حوالے کر دیتا ہے، اور پھر اپنے نکاح میں لے آتا ہے۔(ازراہ تفنن کہے گئے اس جملے میں کیا تفقہ ہے کہ حلالہ تو اس بے غیرت کا ہونا چاہیے ، جس کو نہ اپنے جذبات اور شخصیت پر کچھ کنٹرول حاصل ہے اور نہ یہ پتہ ہے کہ شریعت طلاق کے بارے میں فی الواقع کیا چاہتی ہے!) حوّا کی بیٹی کی اس سے بڑی تذلیل کیا ہو گی کہ ایک احمق مرد کے احمقانہ فعل پر اس کی عزت نیلام ہو۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ فقہا یا علما اس نوع کے حلالے کی کب اجازت دیتے ہیں ! یہ حرام کاری تو لوگ خود کرتے ہیں! سوال یہ ہے کہ اس کا راستہ کیسے کھلتا ہے؟ اسی سبب سے نا کہ تین طلاقوں پر کوئی روک نہیں ۔ لوگ یہ بیوقوفی کرتے ہیں اور کچھ نیم ملا انھیں اس نوع کے حلالے سے گزارنے کا نہ صرف فتوی دیتے ہیں، بلکہ باقاعدہ(لاجسٹک)سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ طلاقِ ثلاثہ پر سزا کی بجائے تین طلاقوں کو قانوناً غیر موثر قرار دینا چاہیے۔ لیکن ہم سرِ دست اس بات کے درست یا نادرست ہونے کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ فقہا کی اکثریت اور ہمارے علما کی بھی اکثریت تین طلاقوں کو غیر موثر ماننے کی شدید مخالفت کرے گی اور عملاً کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا۔

زیرِ بحث رائے سے اس اکثریت کی اکثریت متفق ہو سکتی ہے۔ اسے تحفظات اسی پر ہیں کہ تین طلاقیں ہو جائیں، تو چونکہ فقہی اعتبار سے موثر ہوتی ہیں ، لہذا ان کو غیر موثر نہیں مانا جا سکتا، لیکن اگر تین واقع ہی نہ ہونے دی جائیں ، اوراس پر کوئی قانونی روک لگا دی جائے ،تو ان کے بعض لوگوں کو اگر کوئی اعتراض ہو گا تو فقط یہی کہ فقہ میں اس پر پابندی کی روایت نہیں رہی، لیکن عموماً اور اصولاً وہ اس پر اس لحاظ سے اتفاق کریں گے کہ طلاقِ بدعت کو وہ بھی پسند نہیں کرتے، اور اس کے سبب سوسائٹی بہت سی نفسیاتی اور معاشرتی الجھنوں کا شکار ہوتی ہے۔
رہا یہ سوال کہ اس پر سزا کیوں رکھی جائے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ غلط کام ، جو سب کے نزدیک غلط ہے ،اس سے روکنے کا طریقہ سزا ہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ سزا بہت سخت سزا نہیں ہوگی ، لیکن اس سے سوسائٹی میں عام ہو ئے ہوئے طلاقِ ثلاثہ کے فقہی ، قانونی، اخلاقی ہر اعتبار سے مکروہ اور اس کے نتیجے میں بروئے کار آنے والے حلالہ ایسے دیوسانہ فعل کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *