کارل مارکس نے اپنی بیٹی کو ایک خط لکھا۔ تاریخ کے صفحات اس خط کی تفصیل محفوظ نہ رکھ سکے، مگر اس کے جملوں کے بیچ چھپی ہوئی سچائی آج بھی زندہ ہے۔ وہ لکھتا ہے:
”مسلمان کے لیے محکومیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ عدم مساوات ایک سچے مسلمان کے لیے مکروہ ہے۔ لیکن یہ جذبات انقلابی تحریک کے بغیر ریت میں تحلیل ہو جائیں گے۔“
عجیب بات یہ ہے کہ ایک مفکر جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا، اُسے بھی اسلام میں انسان کی سربلندی کا وہ پہلو دکھائی دیا جو بعض مسلمان صدیوں کے بعد بھی نہ دیکھ سکے۔ کچھ سچائیاں کتابوں میں نہیں، تہذیبوں کے رویّوں میں لکھی ہوتی ہیں۔
اسلام کی بنیاد انہی سچائیوں پر رکھی گئی تھی—انسانی آزادی، مساوات اور عدل پر۔ یہ وہ ستون ہیں جن کے بغیر کوئی معاشرہ عمارت نہیں، کھنڈر رہ جاتا ہے۔ ”مسلمان کے لیے محکومیت نام کی کوئی چیز نہیں“—یہ جملہ کسی سیاسی نعرے کا حصہ نہیں، یہ قرآن کے اُس تصورِ انسان کا عکس ہے جس میں انسانی وقار کو خدائی امانت بنا کر انسان کے سر پر رکھ دیا گیا ہے۔
اسلام نے انسان کو صرف خدا کا بندہ بنایا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی دنیا کی ہر ظاہری طاقت، ہر جابر نظام، ہر موروثی امتیاز، اور ہر طبقاتی تفریق کی نفی کر دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی مسلمان تاریخ کے کسی موڑ پر محکوم دکھائی دیا، تو وہ حالت اس کی تعلیمات کی نہیں، اس کی غفلت کی دلیل بنی۔
قرآن نے کہا: “وَأَنتُمُ الْأَعْلَونَ”—تم برتر ہو، اگر ایمان کو زندگی کی بنیاد بنا لو۔ یہ الفاظ غرور کا درس نہیں دیتے، بلکہ اس جرات کا اعلان ہیں جو انسان کو ظلم کے سامنے جھکنے نہیں دیتی۔ محکومیت دراصل روح کا زوال ہے؛ مومن اس زوال کو برداشت نہیں کرتا۔
اسی طرح عدم مساوات—اسلام کی نظر میں—کوئی معاشرتی کمزوری نہیں، اخلاقی قباحت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں وہ مساواتی انقلاب برپا کیا جس نے صدیوں کی نسلی برتری کو ایک جملے میں دفن کر دیا۔ وہاں کسی عربی کو عجمی پر، کسی سفید کو سیاہ پر کوئی فضیلت نہ تھی۔ تفوق کا کوئی دروازہ اگر کھلا تھا تو صرف کردار اور تقویٰ کے لیے۔
یہ وہ واحد لمحہ تھا جب انسانیت کی تاریخ میں پہلی بار انسان کو انسان سمجھا گیا۔
اور یہ اعلان خالی لفظ نہ تھا—یہ ایک تہذیب کا سنگِ بنیاد تھا۔
مگر تاریخ کا قانون کچھ اور ہے۔ جذبات خواہ کتنے ہی بلند ہوں، اگر ان میں تیز ہوا کا جھونکا نہ ہو تو چراغ بجھ جاتے ہیں۔ نظریات اگر عملی تحریک نہ بن سکیں تو کتابوں کی سطروں میں تو محفوظ رہتے ہیں، مگر معاشروں میں ان کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔
مارکس کا تیسرا جملہ یہی راز کھولتا ہے:
”یہ جذبات انقلابی تحریک کے بغیر تباہ و برباد ہو جائیں گے۔“
اسلام کی تاریخ میں جہاں کہیں اجتماعی بیداری کی شمعیں بجھیں، وہاں محکومیت دوبارہ دروازہ کھول کر اندر آتی رہی۔ معاشی جبر سر اٹھاتا رہا، سیاسی تقدیروں پر چند ہاتھ قابض ہو گئے، اور مساوات کا آسمان دھندلا پڑتا گیا۔
یہ سب اس لیے ہوا کہ اصول تو بلند تھے، مگر ان کو زندہ رکھنے والی عملی جدوجہد کمزور پڑ گئی۔
گفتگو بہت تھی، تحریک کم تھی۔
نعروں کی گونج بلند تھی، مگر نظم و ضبط کے قدم خاموش تھے۔
انقلاب سے مراد صرف تلوار یا بغاوت نہیں۔ اصل انقلاب وہ ہے جو سوچ کو بدل دے، کردار کو سنوار دے، اور قوم کے اجتماعی شعور میں حرارت پیدا کر دے۔ جب تک مسلمان اپنی صفوں میں وہ شعوری نظم پیدا نہیں کریں گے جو عدل کو ادارہ بنا سکے، مساوات کو معمول بنا سکے، اور آزادی کو اجتماعی سانس بنا سکے اس وقت تک یہ اصول خواہ کتنے ہی مقدس کیوں نہ ہوں، عملی زندگی میں ادھورے رہیں گے۔
آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تضاد ہے۔ مساجد کے منبر عدل کی بات کرتے ہیں، کتابیں مساوات کا درس دیتی ہیں، اور گفتگو آزادی کے فضائل سے بھری ہوتی ہے۔ مگر جب زمین پر قدم رکھ کر عملی میدان کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ آگے نکل گئے ہیں، عمل پیچھے رہ گیا ہے۔
اسلام نے جذبات نہیں، ذمہ داری دی تھی۔
نعروں نہیں، معاشرت دی تھی۔
دعاؤں نہیں، کردار کی بنیاد رکھی تھی۔
اگر مسلمان اپنی اصل روح کو زندہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پہلی فرصت میں اپنے اندر سے محکومیت کے ہر نقش کو مٹانا ہوگا، مساوات کو اپنی تہذیبی بنیاد بنانا ہوگا، اور ایک ایسی ہمہ گیر تحریک پیدا کرنا ہوگی جو جذبات کو عمل میں بدل دے۔
ورنہ پھر تاریخ کے صفحات باقی رہ جائیں گے
اور اصول صرف کتابوں کے حاشیوں میں زندہ رہیں گے۔
قومیں اصولوں سے نہیں، اصولوں کی حفاظت سے زندہ رہتی ہیں۔
اور حفاظت ہمیشہ عمل سے ہوتی ہے جذبات سے نہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں