پاکستان کا مستقبل اور قرآن؛ ہم اپنے بزرگوں سے سنتے بھی آئے ہیں اور خود ہماری بھی دعا ہے کہ ہمارا پیارا ملک ابدالاباد تک آباد رہے گا۔ ہم اپنے دماغ میں مستقبل کے پاکستان کا خاکہ تو نہیں رکھتے مگر اس کی سلامتی کی دعا صبح شام مانگتے ہیں۔ہم اس کے مستقبل کے بارے میں کچھ سوچیں بھی تو اگلے دس سالوں تک کے پاکستان کا سوچ سکتے ہیں اس سے آگے ہماری سوچ محدود ہو جاتی ہے۔ویسے ہم دعا کرتے ہیں کہ اگلے پچاس سالوں میں پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو۔
آئندہ دس برسوں میں ملک کی مجموعی صورت حال کیا ہو گی۔کیا یہ ایک ترقی یافتہ ملک ہو گا یا جیسا اب ہے ویسا ہی رہے گا یا اس سے بھی دو قدم پیچھے چلا گیا ہو گا۔کوئی حقیقی تجزیہ ممکن نہیں۔ محض دعاؤں سے ممالک کی قسمتیں بدلتیں تو پاکستان اس وقت صعوبتوں بھرے سمندر میں ایک چین کا جزیرہ ہوتا۔ ملک ِعزیز کے خیر خواہ دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس زمین سے عشق میں مبتلا ہیں۔ان کا عشق ہمارے جیسا تو نہیں ہو سکتا مگر وہ اس کے دلی خیر خواہ ضرور ہیں۔انہی میں ایک شیخ عمران نذر حسین ہیں جن کی ایک کتاب
The Quran and Russia’s Destiny
شائع ہو چکی ہے اور جس کی علمی حلقوں میں دھوم ہے۔عام آدمی کو یہ موضوع عجیب سا لگتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں روس کو بطور ملک اور معاشرہ پسند ہی نہیں کیا جاتا۔اس کی اصل وجہ اس کا ایک صدی تک کمیونزم کا داعی ہونا اور مارکس کا پرچم بلند رکھنا ہے۔دوئم یہاں سرمایہ دارنہ فکر کو روزِ اول سے حکومتی سرپرستی رہی ہے اور ارباب ِبست و کشاد اسی نظام کو اچھا سمجھنے میں ہی اپنی بقا سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں۔کمیونزم، سوشلزم یا مزدور کا لفظ تک ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔مگر کمیونزم کے داعی پر کتاب لکھنا اور اسے قران مجید کے حوالے سے دیکھنا بہت دل چسپ اور حیرت انگیز ہے۔اسی پر بس نہیں یہ کتاب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد تحریر کی گئی ہے۔ہمیں یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ جس ملک کو ہم کافر سمجھتے رہے ہیں وہ اصل میں ہے کیا۔ہماری مراد روس سے ہے کہ ایک کمیونزم کی وجہ سے ہم نے اسے ایمان کے خطرے جیسا مسئلہ بنایا تھا مگر صورت ِحال شاید کچھ اور ہو۔
شیخ عمران نذر حسین ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں مگر اب مغربِ بعید کے ہو گئے ہیں۔ان کا اختصاص قران کریم کی روشنی میں ممالک کا مستقبل ہے۔
شیخ عمران نذر حسین کی کتاب The Qur’an and Russia’s Destiny کا پہلا باب تعارف پر مبنی ہے جو کتاب کی بنیادی خیال کو متعارف کرواتا ہے۔ یہ باب قرآن کی روشنی میں روس کی تقدیر کو بیان کرتا ہے۔اس میں سورہ روم کی روشنی میں روس کا کردار زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
ان کے نزدیک روس کو مقدس سطنت کے طور پر دیکھا اور پیش کیا ہے۔یعنی یہی بازنطینی سلطنت ہے۔یہاں بازنطینی سلطنت کو صرف یورپ کو سمجھایا گیا ہے اور روس کو اس سے نکال دیا جاتا ہے۔لیکن اس کتاب میں روس کو ہی اس کا اصل وارث بتایا گیا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ کتاب روس کے وزیر ِخارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد لکھی گئی ہے۔اس سے عجیب بات یہ ہے کہ وزیر خارجہ اور ان کی ملاقات میں صرف قران کریم اور روس کے موضوع پر بات چیت ہوئی۔یہ ملاقات کھانے پر ہوئی جو دو گھنٹے تک جاری رہی۔اس میں شیخ نے نبی کریمؐ کی پیشین گوئیوں کے بارے میں بتایا۔جب قسطنطنیہ کی فتح کی پیشین گوئی کا بتایا گیا تو روسی وزیر خارجہ حد درجہ حیران ہوئے بلکہ خاموشی سے بیٹھے رہے۔بنیادی طور پر یہ ایک فکری رابطہ تھا۔لاروف یاجوج ماجوج سے بھی ناواقف تھے۔ کتاب کا ایک باب عثمانی سلطنت کی روس کے خلاف جنگیں جیسی تاریخی دشمنیوں کا ذکر کرتا ہے اور مسلمانوں کو دوبارہ تعلیم دینے کی اپیل کرتا ہے کہ تمام عیسائیوں کو کافر (کفار) نہ سمجھیں۔
شیخ عمران حسین کے موضوعات منفرد بھی ہوتے ہیں اور آخرت شناسی کے لیے مشہور بھی۔ابھی ان کی ایک اور کتاب کا چرچا بھی ہے۔
شیخ عمران حسین کی نئی کتاب The Qur’an and Pakistan’s Destiny کی سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام معنون کی جائے گی۔ یہ کتاب ابھی تک شائع نہیں ہوئی بلکہ حال ہی میں اعلان کی گئی ہے (یعنی اسی ماہ نومبر 2025ء میں)۔ شیخ حسین نے ایک ویڈیو میں بتایا کہ یہ کتاب قرآن کی روشنی میں پاکستان کی تقدیر کا جائزہ لے گی جو اب تک کسی نے نہیں لکھا۔ یہ ان کی تازہ ترین کتاب The Qur’an and Russia’s Destiny کا تسلسل ہے۔پچھلے دو عشروں میں ان کی متعدد کتابیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں یروشلم، یاجوج ماجوج، اسرائیل اور بنو اسرائیل کو موضوع بنایا گیا ہے۔یہ بات شیخ نے سولہویں اور سترہویں صدی کے مشہور راہبوں کے سرکاری نظریے کے تناظر میں کی کہ
Two Romes have fallen, the third (Moscow) stands, and there will not be a fourth.
بلکہ یہ بھی کہنا ہے کہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ بھی روس ہی کرے گا۔
وہ نیٹو کو یاجوج ماجوج کہتے ہیں اور روس کا کردار انسانیت کو مغربی ممالک اور NATO یاجوج ماجوج سے بچانا ہے جن کا اسرائیل اتحادی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے متعلق ان کی کتاب کا خیال الٰہی الہام ہے۔ کیونکہ عمران خان جیل میں ان کی کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ کتاب کا مقصد عمران خان کو حوصلہ دینا ہے، جو یا تو شہید ہوں گے (جیسے جناح اور بھٹو) یا آزاد ہو کر دوبارہ وزیراعظم بنیں گے۔انہوں نے جناح، اقبال اور بھٹو کے ساتھ عمران کا نام لیا۔انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ ہم لوگ ابھی ایک عمران ہی سے نمٹ رہے تھے کہ شیخ عمران کا ظہور ہو گیا۔گویا ابن صفی کی عمران سیریز ہی ہو گئی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں