لفظِ کنے بلتی یا اُردو ؟-سراجی تھلوی

لفظِ کنے بلتی یا اُردو ؟ آج یوٹیوب پر رضوان احمد صاحب کا لیکچر سُن رہا تھا۔جو کہ اک ماہر لسانیات ہیں۔اُردو ،فارسی ،عربی نہایت رواں اور شُستہ بولتے ہیں۔خصوصٙٙا عربی یمنی لہجے میں ایسے بولتے ہیں۔کہ کوئی پیدائشی یمنی ہو ۔خیر اب بھی زبان و ادب کی باریکیوں پر نظر رکھنے والے ،زبان و ادب سے محبت کرنے والے بلکہ خدمت کرنے والے موجود ہیں۔رضوان احمد صاحب اس ویڈیو میں اردو کے متروک الفاظ کے حوالے سے گفتگو فرما رہے ہیں۔اور بطور شاہد اٹھارہویں صدی کے کچھ شعراء کے اشعار نقل فرماتے ہیں۔جہاں لفظِ “کنے”مستعمل ہے۔

میں اک بلتی ہونے کے ناطے تھوڑی حیرت بھی ہوئی کہ لفظِ “کنے “تو بلتی لفظ ہے۔لیکن فورا زہن اس بات کی طرف گیا کہ کیا لفظِ کنے بلتیُ الاصل ہے یا اردو سے بلتی میں نقل ہوا ہے۔؟
لفظِ “کنے” کا مطلب بلتی زبان میں بھی پاس ،قریب،نزدیک،قربت ٹیک لگانے کے معنی میں مستعمل ہے۔یہاں اردو میں بھی لفظ کنے انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
جیسا کہ میر تقی میر (اٹھارویں صدی)کا اک ہم عصر میر سوز کا اک شعر ؛
میں نہ بیٹھوں گا اُس کنے واللہ
ایسے وہ پارسا کہاں کا ہے۔

اس شعر میں کنے کا معنی یعنی میں اس کے قریب ،پاس نہیں بیٹھوں گا۔
اسی طرح میرتقی میر کے اک شعر میں ملاحظہ ہو؛

اتنے منعم جہان میں گزرے
وقتِ رحلت کے کس کنے زر تھا۔

یعنی کس کے پاس مال تھا ۔جائیداد تھے۔یہاں بھی لفظ کنے پاس و قریب کے معنی میں مستعمل ہے۔
اک اور شاعر حاتم کا شعر ملاحظہ ہو؛
اوقاتِ شیخ گو کہ قیام و سجود ہے
میرے کنے تو اک خدا ہی کا نام ہے

میر سوز کا اک شعر؛
ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تم
کیوں دیوانے ہوگئے ہو جان کیوں کھاتے ہو تم

julia rana solicitors london

فی زمانہ اردو شعراء کے ہاں یہ لفظ متروک ہے۔بلکہ نثر نگاروں کے ہاں بھی مفقود ہے۔سوشل میڈیا کے توسط سے معلوم ہوا کہ یہ لفظ ہندوستان کے مختلف شہروں مثلاٙٙ کرناٹک،آندھرا پردیش، مہار آشٹر ،بہار میں بھی بولا اور سمجھا جاتا ہے۔
زبان و ادب سے محبت رکھنے والے طالب علموں کےلیے دلچسپی کا باعث ہے کہ یہ الفاظ اُردو سے بلتی میں منقول ہوا ہے یا بلتی سے اُردو میں یا کسی اور قدیم زبان سے منقول ہو کر اردو اور بلتی میں مستعمل ہے۔
جہان تک بلتی تہذب و ثقافت ،زبان و ادب کے حوالے سے میرا مطالعہ ہے۔بلتی زبان قدیم بولیوں میں شمار ہے۔لیکن اس حوالے سے تحقیق و جستجو کی کمی سمجھیں یا مرورِ زمانہ کا تقاضا یا تہذیبِ جدید کا غلبہ بلتی زبان و ادب اس وقت زوال کا شکار ہے۔حالانکہ مستقل رسم الخط “آگے” ہونے کے باوجود اب اردو رسم الخط ہی مستعمل ہے۔گنتی کے چند سرپھیروں کے علاوہ اب “ایگے”سے آشنائی بھی کسی کو نہیں۔بلکہ بلتی زبان سے ہی آشنائی بہت کم ہے۔
خیر طویل کلام کرنا مقصود نہیں بلکہ زبان و ادب سے محبت رکھنے والوں کا توجہ اس مبذول کرانا یے۔اہل تحقیق اپنا رائے ضرور دیں۔تاکہ خالص زبان و ادب کی آبیاری ہو۔اور تہذیب و ثقافت کی بقا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply