ذہنِ نگار میں کچھ تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کی سطروں پر وقت کی دھول نہیں بیٹھتی—وہ خود وقت پر بیٹھتی ہیں، اسے اپنے معانی میں تولتی ہیں اور پھر فیصلہ سناتی ہیں کہ آنے والے کل کے نصاب میں کیا لکھا جائے اور کیا مٹا دیا جائے۔ 13 نومبر کی صبح پاکستان کے آئین پر جو نئی سطر کھینچی گئی، وہ بھی انہی تحریروں میں سے ایک ہے—لیکن افسوس یہ کہ اس کی روشنائی میں عوام کا لہو کم اور اختیار کا سیاہی آمیز زعم زیادہ ہے۔
یہ ترمیمیں نہیں ہوتیں، یہ ریاست کے بدن پر ہلکے ہاتھوں سے لگائے گئے وہ ٹانکے ہوتے ہیں جو دیکھنے میں باریک ہوں، مگر اندر سے پوری بناوٹ کو بدل دیتے ہیں۔ 18ویں ترمیم سے شروع ہونے والا یہ سفر—جو کبھی صوبائی خودمختاری کا عنوان تھا—اب 27ویں ترمیم تک آتے آتے ایسی مرکزی ریکاری میں بدل گیا ہے جس میں طاقت کے دھارے ایک ہی سمت بہنے لگے ہیں۔ سنارٹی کا اصول، جو عدلیہ کی آبرو تھا، ابتدا میں باریک دراڑ کی صورت کمزور ہوا، پھر 26ویں ترمیم نے اسے شکستگی میں بدل دیا، اور اب 27ویں ترمیم نے اسے مٹی کے گھروندے کی طرح بہا دیا ہے۔
آرٹیکل 42 میں قائم کردہ ’’وفاقی آئینی عدالت‘‘ بظاہر ایک نیا ستون ہے، مگر یہ عمارت کے سہارے کے لیے نہیں—قدیم ستونوں کے سائے کم کرنے کے لیے نصب کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے آئینی دائرہ اختیار چھین لینا ایسا ہے جیسے کسی بزرگ سے ان کی چھڑی لے کر کہنا کہ اب آپ زیادہ آرام سے چل سکیں گے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے بوجھ کم ہوگا۔ بوجھ؟ کس کا؟ عدالت کا یا اختیار کا؟
جوڈیشل کمیشن کی ساخت میں تبدیلی دراصل عدالتوں کے کمرے نہیں بدلتی، ان کی فضا بدل دیتی ہے۔ وہاں ہتھوڑے کی آواز ایک اصول کی نہیں—کسی خواہش کی بازگشت بن جاتی ہے۔ منتقلی کا اختیار جج کے تقدیر نامے میں ایک اضافی صفحہ ہے، جس پر لکھا ہوتا ہے: “اطاعت میں بقا ہے، انکار میں استعفا۔”
اور پھر استعفے بھی آگئے—منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ—دو نام جو اختلاف کے سفر میں دستخط نہیں، عہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عدالتیں جب آواز کھو دیتی ہیں تو جج قدم رکھتے ہوئے بھی شخصیت کو آواز بنا لیتے ہیں۔
اس ترمیم کی سب سے سنگین لکیر البتہ آرٹیکل 243 ہے، جہاں سے فوج کے اختیار کی نئی کنگنیاں بنائی گئیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ اپنے اندر پاکستانی ریاست کے مستقبل کا ایک خاموش مگر پتھر دل اعلان رکھتا ہے: کہ جہاں کبھی طاقت کا توازن تھا، اب یک طرفہ سلیوٹ ہوگا۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا خاتمہ محض عہدے کا خاتمہ نہیں—ایک نظریے کا خاتمہ ہے جس نے کبھی بھٹو کے تصورِ دفاع کو توازن دینے کی کوشش کی تھی۔
اور پھر فیلڈ مارشل منیر کی فوقیت—پانچ ستارے، عمر بھر کا امتیاز، مواخذے سے ماورا مقام—یہ سب ایک ایسے عہد کی یاد دلاتا ہے جس میں وردی، قوم کی تاریخ لکھتی تھی، اور شہری تخت صرف اس پر دستخط کرتا تھا۔ یہ استثنا کوئی قانونی ترمیم نہیں، یہ ریاستی معمار کی آخری اینٹ ہے، جس کے بعد دیواریں پختہ ہو جاتی ہیں اور راستے محدود۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون—وہ جماعتیں جو کبھی جمہوریت کے “چارٹر” پر اپنے دستخط کو اپنے سیاسی ایمان کا پہلا کلمہ کہتی تھیں—آج اسی صف میں کھڑی ہیں جس صف کے خلاف انہوں نے نسلوں کو تقریریں سکھائیں۔ سیاست شاید اصولوں کا نام نہیں رہا—ضرورت کا نام رہ گیا ہے، اور ضرورتیں جب عہد بن جائیں تو اصول ہجرت کر جاتے ہیں۔
اور پھر یہ سب کچھ ایک عجیب خوف کے سایے میں ہوا—کہ کہیں عمران خان کو عدالتی ریلیف نہ مل جائے۔ وہ سیاسی رہنما، جس کی جماعت نے 2020 میں فوجی سربراہ کی مدت میں توسیع کو آئینی منظوری دی تھی، آج اسی نظام کا غیر ارادی استعارہ بنا ہوا ہے۔ عدالت کبھی کبھی شہری حکومتوں کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے—کبھی لاپتہ افراد کی فائلوں پر روشنی ڈال کر، کبھی وزیرِاعظم سے حکم عدولی کا حساب لے کر۔ لیکن شاید طاقتور فیصلہ سازوں نے محسوس کیا کہ بادلوں کو دیکھ کر موسم بدل سکتا ہے، موسم بدلنے سے پہلے بادلوں کا راستہ بدل دینا چاہیے۔
یہ 27ویں ترمیم نہیں—یہ پاکستان کے “ہائبرڈ نصابِ حکومت” کا اگلا باب ہے—جہاں ریاست ایک سفینہ ہے جس کا بادبان عوام اٹھاتے ہیں لیکن رخ کوئی اور طے کرتا ہے۔
یہ وہ ملک ہے جہاں سیاستدان طاقت کے ساتھ صلح کرتے ہیں، اور طاقت کبھی کسی کے ساتھ صلح نہیں کرتی—صرف قبضہ کرتی ہے، پھر اسے تحفظ کا نام دیتی ہے۔
ریاستیں بنیادی طور پر تین اصولوں پر قائم ہوتی ہیں: عدل، اختیار اور وقار۔ جب عدل کمزور ہو جائے تو اختیار بے لگام ہو جاتا ہے۔ اور جہاں اختیار بے لگام ہو جائے، وہاں وقار رہتا ہی نہیں—صرف فرمان رہ جاتے ہیں۔

آج پاکستان فرمانوں کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اور جب تاریخ فرمانوں کے ذریعے لکھی جائے، تو قومیں فیصلوں کے بغیر رہ جاتی ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں