• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مُجھے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا لکھا ادب پسند نہیں۔۔ ۔۔ ۔۔ گلفام غوری

مُجھے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا لکھا ادب پسند نہیں۔۔ ۔۔ ۔۔ گلفام غوری

“خان صاحب کبھی مخالفت کی باتوں کا جواب نہیں دیا کرتے تھے کیونکہ لکھنے والے کا کام دوسروں کو قائل کرنا یا اپنی بات منوانا نہیں ہوتا بلکہ تخلیق کار کا مقصد پیغام پہنچانا ہوتا ہے اور وہ پہنچ ہی جاتا ہے.” (بانو قدسیہ)
کل ایک انٹرویو کا چھوٹا سا ٹکڑا سُننے کا اتفاق ہوا جس میں علی اکبر ناطق صاحب نے قدرت اللّٰہ شہاب, ممتاز مفتی, اشفاق احمد, بانو قدسیہ اور بابا محمد یحییٰ خان پر تنقید کی. تنقید کیا بلکہ موصوف ان سب کو ادیب ماننے سے ہی انکاری تھے. ہر شخص کو حقِ رائے کی آزادی ہے. سو یہی سوچ کر نظر انداز کیا اور اک سرسری نگاہ ناطق صاحب کے دیگر خیالات پر ڈالی تو کُھلا کہ جناب تو احمد فراز کو بھی مفاد پرست گردانتے ہیں. تخلیق یا تخلیق کار سے نظریاتی اختلاف اور چیز ہے جبکہ کسی کی ذات پر اُنگلی اُٹھانا اور. لہٰذا اس سب کو سستی شہرت کا ہتھکنڈا جان کر نظر انداز کیا اور بانو قدسیہ صاحبہ کا مذکورہ بالا اقتباس یاد کر کے خاموش ہو گیا.
مگر آج ایک دوست کی مہربانی سے انٹرویو کا وہی ٹکڑا دوبارہ دیکھنے کو مل گیا. جس پر لوگوں کی ملی جُلی رائے بھی پڑھنے کو ملی. پھر سوچا کیوں نہ مکمل انٹرویو سُنا جائے.
یہ انٹرویو “ریختہ.او آر جی” کے پروگرام “ہم کلام” کے لئے ریکارڈ کیا گیا جس کے میزبان زمرد مُغل اور مہمان علی اکبر ناطق تھے. یہ انٹرویو بھارت میں 2015 میں ریکارڈ کیا گیا. انٹرویو کے دوران وقتاً فوقتاً ایک سُرخی نیچے دکھائی دیتی رہی جس میں سب سے بڑی اُردو شاعری کی ویب سائٹ ہونے کا دعوٰی کیا گیا ہے. عین ممکن ہے یہ دعوٰی سچ ہو مگر ذہن میں رہے “اُردو شاعری کی….”

انٹرویو کے آغاز میں علی اکبر ناطق کے کسی سابقہ انٹرویو کا حوالہ دیا گیا جس میں اُن سے سوال کیا گیا تھا کہ “اُردو ادب کے دو ایسے نام بتائیے جن کا لکھا ہوا آپ کو پسند نہیں, اور کیوں پسند نہیں؟” اس سوال کا جواب علی اکبر ناطق صاحب نے کچھ یوں دیا. “مُجھے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ دونوں کا لکھا ہوا ادب ایک آنکھ نہیں بھاتا. کیونکہ یہی وہ دونوں ادیب ہیں جنہوں نے پوری پاکستانی اور نوجوان نسل کو آمروں کی طرف گمراہ کُن نام نہاد صوفی ازم کی افیون سے نوازا اور اس کا بیڑہ غرق کر دیا. ان کے ادب کی پوری بنیاد دھوکہ, فراڈ, عقل و خرد سے دُور لے جانے والی اور ترقی سے ہٹانے والی تھی. یہ خود جعلی صوفی بنے ہوئے تھے اور ان کا پیر قدرت اللّٰہ شہاب ان سے بڑا فراڈیا تھا. جس کا ایک اور مُرید ممتاز مفتی تھا. یہ سب لوگ, ادیب کہہ لیں, جُھوٹے اور ڈکٹیٹروں, سرمایہ داروں, جاگیرداروں اور اشرافیہ کے لئے دراصل کام کرنے والے تھے. جنہیں ٹیلی ویژن کا سہارا دے کر پروموٹ کیا گیا اور قوم کا خانہ خراب کیا گیا. حالانکہ ان کا لکھا ہوا ادب سِرے سے ادب ہی نہیں تھا. بالکل خراب اُردو لکھتے تھے مگر ایک خاص مقصد کے تحت سی ایس ایس کے امتحانوں میں شامل کر کے اُن کے واہیات لکھے ہوئے لٹریچر کی جڑیں ہماری بنیادوں تک پہنچا دی گئیں. جس کی وجہ سے ہماری آئندہ کئی نسلیں فکر و عمل سے دُور رہ گئیں. اور ہوائی قلعے تعمیر کئے گئے. راجہ گدھ جو ایک ناول ہے وہ بھی کچھ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے.”

سابقہ انٹرویو کے اس سوال و جواب کا حوالہ دیتے ہوئے زمرد حیدر نے ایک بار پھر اسی سوال سے گفتگو کا آغاز کیا جو کہ شاعری کی ویب سائٹ پر یقیناً ایک سوالیہ نشان ہے کہ اس سے ایک خاص پروپیگنڈے کی بُو آتی ہے.
جواب میں علی اکبر ناطق کچھ اس انداز سے گویا ہوئے کہ جس میں ادب قطعی مفقود تھا. مُجھے علی اکبر ناطق کے اندازِ بیاں پر بات کرنی ہے اور نہ ہی اُن کا ادبی قد ماپنا ہے. جن صاحب کو یہ تک معلوم نہ ہو کہ پڑوسی ملک میں کس خاص ذہنیت کے تحت اُن سے ایسا سوال کیا جا رہا ہے. جبکہ وہ کئی معتبر ادیبوں کی تخلیقات میں تصوف میں ملفوف آمریت کے رموز پانے کے دعویدار ہیں.

انہوں نے “شہاب نامہ” کا ذکر کیا مگر “یا خدا” “ماں جی” “نفسانے” اور “سُرخ فیتہ” کو نظر انداز کر گئے. اگر انہیں تصوف ہی سے انکار ہے تو دیگر تصنیفات ادبی شہ پاروں میں اپنا ایک مقام رکھتی ہیں.
بات کی جائے ممتاز مفتی کی تو علی اکبر ناطق نے انہیں قدرت اللّٰہ شہاب کا مُرید کہا ہے. تھوڑی دیر کے لیے مان لیا جائے کہ مفتی جی شہاب صاحب کے پیرو تھے اور اُن کے گُن گاتے تھے. مگر یہ قصیدے تو صرف “الکھ نگری” اور “لبّیک” میں ملتے ہیں. حالانہ “لبّیک” ایک شاہکار رپورتاژ ہے. علی اکبر ناطق کا مطالعہ یقیناً میری طرح محدود ہوگا ورنہ اگر “تلاش” پڑھ لیتے تو جان لیتے کہ وہ صرف ایک قرآن کے قاری کی تصنیف ہے. جس کو سمجھنے کے لیے اس ایک آیت کو جان لینا کافی ہے جس میں کہا گیا ہے “اس میں نشانیاں ہیں اُن کے لئے جو غور کرتے ہیں.” اگر میں بات کروں “علی پور کا ایلی” کی, مفتی کے تمام افسانوی مجموعوں کی, خاکوں, سفر ناموں, ڈراموں کی, تو بات بہت دُور تک جائے گی.

بانو قدسیہ صاحبہ کے ناول “راجہ گدھ” پر موصوف نے تنقید کی. اس ناول کی توصیف و تنقید میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ کوئی بھی میرے جیسا ان تبصروں کو پڑھ کر خود کو صاحب الرائے سمجھنے لگتا ہے. بہت کم لوگ ہیں جو راجہ گدھ کی تکنیک کو سمجھ کر اُس پہ بات کریں. ویسے کوئی ناطق صاحب کو بتا دے کہ بانو قدسیہ نے صرف ایک ناول نہیں لکھا. اس کے علاوہ چھ ناول مزید ہیں اور افسانوی مجموعے اور ڈرامے الگ ہیں. سوانح میں اس لئے نہیں بتا رہا کہ ناطق صاحب اُن سے ویسے ہی منکر ہیں.
مُجھے واصف علی واصف کا ایک قول یاد آ گیا “کچھ لوگ صرف بُرائی کے شائق ہوتے ہیں.”

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی منٹو کے تقریباً دو سو تینتیس افسانوں میں سے اُن چار پانچ افسانوں کی مثال دے کر اُسے فحش نویس گردانے, جن پر اُسے مقدمات بھگتنے پڑے.

اب مُجھے تفصیلی بات کرنی ہے اشفاق احمد کی کیونکہ علی اکبر ناطق نے سب سے زیادہ تنقید انہی پر کی ہے. موصوف اور اُن کے ہم خیال و شیعان اشفاق صاحب کو جنرل ضیاءالحق کی پیداوار کہتے ہیں. اگر آپ بھول رہے ہیں تو یاد دلا دوں کہ جنرل ضیاء کا دورِ حکومت 1978 سے 1988 پر محیط ہے.
اشفاق احمد کا سب سے پہلا افسانہ “توبہ” 1942 میں مولانا صلاح الدین نے “ادبی دنیا” لاہور میں شائع کیا.
اشفاق احمد کے تیرہ افسانے بشمول “توبہ” افسانوی مجموعے “ایک محبت سو افسانے” میں 1951 میں شائع ہوئے. اور “ایک محبت سو افسانے” کی ادبی حیثیت کسی با ادب سے ڈھکی چھپی نہیں.
“مہمان بہار” نامی ناولٹ مکتبہ میری لائبریری, لاہور نے 1955 میں شائع کیا.
ادبی مجلّہ “داستان گو” 1956 میں شروع کیا.
1957 میں اُن کا دوسرا افسانوی مجموعہ “اُجلے پھول” شائع ہوا جس میں آٹھ افسانے اور ایک رپورتاژ شامل ہیں. انہی آٹھ افسانوں میں “گڈریا” جیسا شاہکار بھی ہے.
انگریزی ناول “A Farewell to Arms” کا ترجمہ “وداعِ جنگ” کے عنوان سے 1960 میں شائع ہوا.
غالباً 1960 ہی میں “The Golden Hawks of Genghis” کا اُردو ترجمہ “چنگیز خاں کے سنہری شاہین” کے نام سے شائع ہوا.
1968 میں لاہور ریڈیو سے “تلقین شاہ” کا آغاز کیا. جو کہ دنیا میں سب سے طویل عرصے تک نشر کئے جانے والے ریڈیو پروگراموں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے.

اس کے علاوہ کئی ریڈیو, ٹی وی کے پروگرام, افسانے, ڈرامے, نظمیں, مزاح, سفر نامہ, ترجمہ اور ناول اشفاق احمد کے قلم سے نکلے ہیں. اور یقیناً یہ سب جنرل ضیاء کے دس سالہ دورِ اقتدار میں نہیں لکھا گیا. اور “زاویہ” تو ویسے ہی بہت بعد کی بات ہے. اور “بابا صاحبا” تو بہت بہت بعد کی بات ہے.

مُجھے حیرت ہوتی ہے علی اکبر ناطق اور اُن جیسی سوچ رکھنے والے ادب کے علم برداروں پر کہ انہیں “شہاب نامہ” “الکھ نگری” “راجہ گدھ” اور “زاویہ” ہی نظر آتی ہیں. حالانکہ “زاویہ” پر عوام اور حکومت دونوں کی طرف سے خاصی تنقید ہوئی تھی. اس کے موضوعات پر اعتراض کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ یہ باتیں قبل از وقت ہیں. جبکہ اشفاق صاحب کا موقف تھا کہ “انسان کو ماضی پرستی سے گریز کرتے ہوئے ترقی پسند انسان بننا چاہیے  اور آج کی دوڑ میں شامل ہونا چاہیے . اسلام بہت جدید علوم کا مذہب ہے.”
کیا وجہ تھی کہ “تلقین شاہ” اور “زاویہ” جیسے پروگراموں کو کتابی صورت میں شائع کر کے اُردو ادب کے فن پاروں میں شامل کیا گیا؟

اگر ناطق صاحب کو اشفاق احمد اور بانو قدسیہ صرف پسند نہ ہوتے تو اور بات تھی. اگر انہیں محض تصوف سے بیر ہوتا تو بھی خیر تھی. لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر وہ آپ کو پسند نہیں تو ادیب ہی نہیں. اگر آپ کو تصوف پسند نہیں تو اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں. بہت سے لوگ تب بھی کہا کرتے تھے کہ سارے بابے اشفاق احمد ہی کو کیوں ملتے ہیں؟ جیسا کہ ناطق صاحب کہتے ہیں کہ “مُجھے تو کوئی بابا نہیں ملا آج تک. اشفاق احمد نے کوئی مُجھ سے زیادہ تو نمازیں نہیں پڑھیں. مُجھ سے زیادہ عبادات تو نہیں کیں.

تو جناب سے میں بس دست بستہ اتنا ہی کہوں گا کہ اگر میں ستاروں کے وقوع کا علم نہیں رکھتا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ جُھوٹ ہے. رہی بات آپ کی نمازوں اور عبادات کی تو اُس کا اجر ذاتِ اقدس کے پاس ہے.
آخر میں ناطق صاحب کے انٹرویو سے متعلق میں یہ کہوں گا کہ جن کو میری باتوں سے اختلاف ہو وہ ضرور کریں. اختلاف میں ہی سارا حُسن ہے. مگر ایک بار موصوف کا مکمل انٹرویو سُن لیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ بھارت میں پاکستانی ادب کی نمائندگی کرنے والے کس سرشاری میں ہیں. ظفر اقبال پر تنقید کرنے اور انہیں للکارنے والے بعد میں انہیں ہی اپنا پسندیدہ شاعر کہہ رہے ہیں. جب انہیں ظفر اقبال کی شاعری سے انتخاب کرنے کو کہا گیا جو بقول انہی کے تینتیس کتابوں میں سے 150 صفحات بھی نہ بنیں تو محترم فرمانے لگے “مُجھے پیسے دیں تو میں نکال دیتا ہوں. میں مفت میں کام کیوں کروں؟”

یہاں میں زمرد مُغل کے الفاظ بھی دہراتا چلوں جو انہوں نے انٹرویو کے آخر میں کہے. “ناظرین یہ تھے علی اکبر ناطق. علی اکبر ناطق کی بے کار…. بے باک گفتگو آپ نے سُنی.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *