اقبالؒ کا تصورِ خودی /ڈاکٹر اظہروحید

’’گمنام ادیب‘‘ کے نام سے حضرت واصف علی واصفؒ کے مکتوبات کا ایک مجموعہ ترتیب دیا گیا ہے۔ مشاہیر کے مکتوبات کا مطالعہ ہمیشہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کیونکہ ان کے مکتوبات ان کے فکر کی تلخیص ہوا کرتی ہے۔ ایک خط کے ذریعے جب ایک قاری نے حضرتِ اقبالؒ کے ایک شعر کی تشریح دریافت کی تو اِس کے جواب میں آپؒ نے اسے لکھا: ’’اقبال کے شعر کی تشریح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بیان کرنے والا کم از کم قلندر ہو اور سننے والا کم از کم رموزِ قلندری سے آگاہ ہو۔ اِس بات پر آپ غور کریں۔ مَیں اپنا فرض ادا کروں گا۔ آپ اپنی استعداد دیکھ لیں‘‘۔
محاورے صدیوں پرانی دانائی کا اظہاریہ ہوتے ہیں۔ محاورہ ہے: ’’قلندر را قلندر می شناسد‘‘۔ قلندر کا قال اندر ہوتا ہے، حال باہر ہوتا ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارا قال ہمارے حال سے پیش قدمی کرتا ہے، یعنی ہمارا حال ہمارے اندر ہے … اورغالباً بُرے حال میں ہے … اس لیے اندر چھپے رہنے پر مجبور ہے۔ ہماری مجبوری ہے کہ ہمارا صرف قال باہر ہو۔ ہماری ذات اندر ہوتی ہے اور صفات باہر۔ قلندر اس کے برعکس ہے، اِس کا حال شدتِ احوال کے سبب باہر نمودار ہو جاتا ہے۔ یوں سمجھے کہ اس کی ذات اس کے پردۂ صفات سے چھن چھن کر باہر آتی ہے، اسے صفات کے غازے کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ قلندر سلوک کے طے شدہ راستوں پر سفر نہیں کرتا۔ قلندر رسومات اور مقامات سے بے نیاز ہوتا ہے۔ قلندر براہِ راست درِ علمؓ سے وابستہ ہوتا ہے، اور اسی سبب اسے ہر لمحے علمِ کی تازہ واردات میسر ہوتی ہے۔
صاحبو! حضرت واصف علی واصفؒ کی محافل میں ہم نے سنا کہ خودی کسی شَے کا وہ جوہر ِ ذاتی ہے کہ اگر اسے نکال دیا جائے، تو وہ شَے، وہ شَے نہیں رہے گی، مثلاً شاہین سے اگر ذوقِ پرواز نکال دی جائے تو وہ شاہین نہیں رہے گا، مومن اپنی خودی گم کر دے تو وہ ملت کا تصور ہی گم کر دے گا، مومن کی خودی عشقِ مصطفیٰؐ ہے۔ ابلیس اپنے چیلوں سے کہتا ہے:
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد اِس کے بدن سے نکال دو
خودی کسی بھی طور اَنا، انانیت، غرورِ نفس یا خود سری نہیں … یہ فقط خود داری ہے۔ خودی اپنی اصل کی پہچان ہے۔ نفس اپنی پہچان کرنے کے بعد ہی اپنی خودی تک پہنچتا ہے۔ خودی کے آئینے میں اپنے جوہر ِذاتی کو پہچان لینے کے بعد وہ حقیقتِ کُل کے ساتھ ایک خاص نسبت اور رابطے میں آ جاتا ہے۔ یہیں سے ’’من عرف نفسہ فقد عرف ربہ‘‘ کا عقدہ وا ہوتا ہے۔ خودی کی پہچان، خود شناسی ہے اور خود شناسی کا صلہ خدا شناسی!
حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک نایاب
مقالہ ہے، جو آپؒ نے علامہ اقبالؒ کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے 1977ء میں تحریر کیا تھا، یہ مقالہ لمز یونیورسٹی نے گزشتہ دنوں اپنے مجلے ’’بنیاد‘‘ میں شامل کیا تھا۔ اس میں آپؒ فرماتے ہیں: ’’اقبال نے خودی کو ایک روشن نوری نکتہ کہا ہے جو کسی شَے کے قیام کا سبب ہے۔ اس کا الگ کوئی وجود نہیں، لیکن ہر وجود کا قیام اس کے سبب ہے۔
کیا خوبصورت تشریحی نکتہ ہے۔ سچ ہے، قلندر ہی قلندر کی معرفت رکھتا ہے۔ اس تشریح میں یہاں وحدت الوجود کی تفہیم بھی ہوتی ہے۔ گویا وہ حقیقتِ ازلی ہر شَے کے ہمراہ ہے، لیکن کوئی اس کے ہمراہ کوئی نہیں۔ وہ اِس کائنات کے ذرّے ذرّے کو قوت اور زندگی دیتا ہے لیکن کوئی اسے زندگی اور قوت نہیں دیتا ہے۔ یوں اس جوہرِ خودی کا تعلق عالمِ صمدیت سے ہے۔
قلزم کو کُل سے تشبیہ دی گئی ہے، اور قطرے کو جزو کہا گیا ہے۔ قطرہ فراق سے قبل بھی وصل کی حالت میں تھا، لیکن وہ اس حالت میں اپنی پہچان نہیں کر سکتا تھا، اسے اپنی پہچان کے لیے فراق کے سفر پر روانہ ہونا ہی تھا۔ دراصل بعد اَز فراق وصل ہی واصل ِ شعور ہوتا ہے۔ فنا سے گزرے بغیر بقا، کا تصور محال ہے۔ معصیت کے بغیر شاید مغفرت کا شعور بھی مکمل نہ ہو سکے۔
قطرے کو جب فراق کے سفر پر روانہ کیا گیا تو وہ شعور کی مختلف وادیوں … آنسو، شبنم، جھیل، بادل، دریا … سے گزرتے ہوئے آرزوئے وصل میں یم بہ یم، سوئے قلزم رواں دواں و جاوداں ہوا۔ اِس سفر میں ہی اُس نے کسی مرحلۂ شوق کی طرح پہچان کے تمام مراحل طے کیے۔ اپنی پہچان کے اِس سفر میں اُس پر کھلا کہ اپنی ہستی کو گم کر دینا ہی مقصد ِ سفر ہے۔ یہاں اقبال، رموزِ فنا و بقا کے باب میں ایک تجدیدِ فکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قطرہ خود کو دریافت کرنے کے بعد قلزم میں واصل ہو کر اپنی پہچان یکسر گم نہ کر دے، بلکہ وہ سینۂ صدف میں اُتر جائے اور خود کو ایک گوہرِ تابدار کی صورت میں ڈھال لے … یہ گوہرِ تابدار بھی فنا سے ہمکنار نہ ہو گا، کیونکہ اسے قلزم سے نسبت حاصل ہے۔ وہ چاہتے ہیں، یہ گوہرِ تابدار قلزم کے ہمراہ رہے … اور تاابد رہے! اقبال اِس عالمِ شہود میں خودی کے جوہر کی نمود کے قائل ہیں۔ تصوف کی گزشتہ تیرہ سو سالہ روایات میں اقبالؒ نے اس طور ایک فکری اجتہاد کیا ہے۔ 14 اپریل 1914ء میں اقبالؒ اپنے ایک خط بنام مہاراجہ کشن پرشاد، میں لکھتے ہیں:
’’یہ مثنوی جس کا نام ’اسرارِ خودی‘ ہے، ایک مقصد سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ میری فطرت کا طبعی اور قدرتی میلان، سکر و مستی و بے خودی کی طرف ہے، مگر قسم ہے اُس خدائے واحد کی، جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان و مال و آبرو ہے، میں نے یہ مثنوی اَزخود نہیں لکھی، بلکہ مجھے اس کے لکھنے کی ہدایت ہوئی ہے اور میں حیران ہوں کہ مجھ کو ایسا مضمون لکھنے کے لیے کیوں انتخاب کیا گیا ہے‘‘۔
دَرحقیقت ہر دَور کا صوفی اپنے دَور کے طلب اور تقاضوں کے مطابق ’’کتاب‘‘ لے کر آتا ہے جو کتابِ مبین کی تشریح ہوتی ہے۔ خود آگاہ، خدا مست قلندر اقبالؒ نے ’’اسرارِ خودی‘‘ کے بعد پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ بھی لکھی ہے۔ ’’رموزِ بے خودی‘‘ دراصل ’’اسرارِ خودی‘‘ کا تکملہ ہے۔ اقبالؒ خود شناسی کے بعد خدا شناسی کی منزلوں سے روشناس کراتا ہے۔ اقبالؒ راہِ حق کا ایسا طالب ہے کہ اپنے کلام میں ہر طالبِ حق کے لیے قدم قدم پر سنگِ میل نصب کرتا چلا جاتا ہے۔ جہاں قوم کی خودی بیدار کرنے کے لیے اقبالؒ کا کلام اکسیر ہے ، وہاں خود شناسی کی منزلوں کی طرف بڑھتے ہوئے ایک سالکِ طریقت کے لیے بھی کلامِ اقبالؒ ایک کیمیا ہے۔ کلامِ اقبالؒ کے مطالعے سے ایک سالک کو یوں معلوم ہوتا جیسے اقبالؒ اس کے ہمراہ چل رہا ہے اور ایک مدبر راہ نما کی طرح اس کے راستے میں طرح طرح کے مشاہدات کے پرت کھولتا چلا جاتا ہے۔ اقبال قال سے نہیں، حال سے سمجھ میں آتا ہے۔ اپنی حیاتِ مستعار کے آخری ایام میں اقبالؒ نے ایک ایسی بات کہی ہے جسے پڑھ کر ایک کلمہ گو دنگ رہ جاتا ہے۔ اقبالؒ اپنے فارسی کلام میں رسولِ کریمؐ کے حضور حاضر ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر میں نے اپنے کلام میں قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہو تو بے شک قیامت کے دن مجھے اپنے دامن ِ شفاعت میں جگہ نہ دیجیے گا۔ اتنا بڑا دعویٰ اکتسابی کلام کے متعلق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہ دعویٰ الہام ہی کے شایانِ شان ہے۔ اسی الہامی کیفیت میں اقبالؒ کبھی مخلوق کا مقدمہ خالق کے سامنے رکھتا ہے اور کبھی خالق کی طرف سے مخلوق کو جواب دے رہا ہے۔ اقبالؒ جب مخلوق کی طرف سے خالق کے ہاں فریاد کناں ہوتا ہے تو ظاہر پرست اس واردات کو نہیں سمجھ سکے، وہ اسے فقط شکوہ بہ یزداں سمجھتے رہے اور فتویٰ جڑتے رہے۔ وہی اقبالؒ خالق کی طرف سے مخلوق سے مخاطب ہو کر ’’جوابِ شکوہ‘‘ بھی قلم بند کر رہا ہے۔
اِقبالؒ کو سمجھنے کے لیے اقبالؒ کے عشق کا قبلہ دیکھنا بہت ضروری ہے۔ ہمارا اقبالؒ وہی ہے جسے جلوۂ دانشِ فرنگ خیرہ نہیں کر سکا، جسے لندن کی خنک فضا آدابِ سحر گاہی سے غافل نہ کر سکی۔ اقبالؒ کا کلام مکالمہ نہیں، مشاہدہ ہے۔ اقبالؒ جس کتاب کی تلاوت کرتا ہے، وہ الکتاب ہے۔
لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب
یہ کلام فقط ایک نعتیہ شعر نہیں بلکہ یہ ایک صوفی کا مشاہدہ ہے … وہ صوفی کامل جس کی آنکھ میں خاک ِ مدینہ و نجف کا سرمہ لگ چکا ہے۔ سلام ہو … اقبالؒ صاحبِ حال پر!!
(دبستانِ اقبالؒ میں ’’اقبال کا تصورِ خودی حضرت واصف علی واصف کی نظر میں‘‘ کے موضوع پر ایک گفتگو)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply