کتاب : زین کی شادی
مصنف : طیب صالح (سوڈان)
مترجم : اسداللہ میر الحسنی
اشاعت : کولاج
شروعات سے ہی غلط پڑھایا جانے والا سبق نسلوں تک من و عن دہرایا جاتا ہے
ہمیں بتایا گیا کہ گر خدا سے محبت کی جائے تو عشقِ حقیقی ہے اور اگر خدا کے سوا کسی بھی اور شے، فرد و مرد سے محبت کی جائے تو عشقِ مجازی ہے ۔ یہ تعریف انتہا کی غلط تھی ۔
جب کہ درست معنی یہ ہے کہ “اگر ایسے محبت کی جائے جیسی خدا نے کی ہے کہ اس نے اپنے محبوب سے محبت کرنے کے بعد تمام دنیا سے کہا کہ میرے محبوب سے محبت اس لئے کرو کہ وہ مجھے محبوب ہے! محبت کا یہ انداز دراصل عشقِ حقیقی ہے ۔
اگر میرے رقیب کے لئے میرے دل میں نفرت ہے تو یہ محبت خدا کی کردہ محبت جیسی نہیں ہے، یہ عشقِ مجازی ہے!
ہاں ہمارے محبوب کو چاہنے والا ہر فرد ہمیں عزیز ہو، ہم اس سے بھی محبت کریں تو یہ انداز خدا کا ہے!”
گو کہ یہ بڑے ظرف کی بات ہے مگر عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کا یہ درس کسی کتاب کا حصہ تھا، نہ ہے اور نہ کبھی شاید ہوگا!
معلوم نہیں “زین کی شادی” نامی کتاب کے تبصرے کی شروعات میں، میری ذاتیات کا حصہ کیسے شامل ہوگیا مگر “دل” کو سمیٹ لیتا ہوں ۔
دوستا : گفتگو یہ ہے کہ ہم محبت کرتے ہیں اور ایسی محبت کرتے ہیں کہ اپنے محبوب کو محبت کرنا سکھلا دیتے ہیں کہ زندگی بھر وہ محبت بانٹتا بھی رہے تو بھی محبت نہ تو اس کے پاس اور اندر سے کم ہوتی ہے اور نہ اس سے ہماری محبت کم ہوتی ہے ۔
اور پھر جن کے مقدر میں ہمارے عزیز لکھے ہوتے ہیں وہ انہیں لے جاتے ہیں، اولین طور پر ہمارا رونا اور ہاتھ ملنا بنتا ہے، مگر سود و زیاں کا یہ کاروبار زندگی کے کس ورق پر نہیں لکھا ہوا؟ کیا جاتا محبوب دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے سے محبوب رک جائے گا؟ ہرگز نہیں، ہم تو کشتی بان ہیں جن کا کام اپنے عزیزوں کو اس کنارے سے اُس کنارے پہنچانے کا ہوتا ہے، ہماری تو یہ نیّتی ہے کہ جب تک ہمارے عزیز ہماری زندگی، ہماری کشتی میں شامل ہیں انہیں کوئی بھنور نہ بھینچے، کوئی ایذاء نہ ملے ۔ یہ اور بات کے دوسرے کنارے پر ان کے حقدار انہیں لے جانے کو منتظر ہوتے ہیں سو ہم محبت کرتے ہیں اور محبت ہم سے ہمارے لوگوں، ہمارے عزیزوں میں منتقل ہوتی جاتی ہے اور محبت کا یہ درس پھیلتا چلا جاتا ہے!
عزیزو : یہ کیا ہی خوبصورت بات ہے اگر ایسے ہی برتی جائے تو!
طیب صالح نے ایک طویل کہانی/ناولا لکھا، سوڈان کے اس کہانی کار نے یہ کہانی اس لئے نہیں لکھی کہ اس میں “زین” نامی کردار شامل کرنا تھا بلکہ “زین” نامی کردار نے طیب صالح سے کہانی لکھوالی
“زین” بے ڈھنگا اور ربط و بے ربط کی زندگی جینے والا ایسا کردار ہے جس کے جبڑے اور آنکھیں اندر دھنسی ہیں، جس کے دانت کم اور جسمانی نشونما خستہ ہے، جو دور کسی گاؤں میں اپنی مستیوں کے عوض مشہور اور رنگِ محفل ہے، جسے محبت ہو جاتی ہے اور جس سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے ملوایا جائے گا بلکہ سونپ دیا جائے گا، وہ اور لگن سے محبت کرتا ہے یہاں تک کہ عہد و پیمان کرنے والے مکر جاتے ہیں، بلکہ “زین” جس کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے پوری بستی اسی سے محبت کرنے لگ جاتی ہے اور اس لڑکی کا بھلے گھرانوں سے رشتہ آ جاتا ہے، عورتیں اور مائیں “زین” کو کام کاج کے بہانے اپنے گھر بلاتی ہیں پھر اپنی بیٹیوں اور پردہ نشین لڑکیوں کو “زین” کے سامنے آنے اور ناز و انداز دکھانے کا حکم صادر کرتی ہیں، “زین” سادہ اسلوب و دھان پان سا لڑکا جب نعرہ بلند کرتا ہے “میں تو فلانی کے صحن میں مارا گیا!” تب بستی کے بھلے اور معیاری شکل و صورت کے لڑکوں کے رشتے ان لڑکیوں کے لئے کچھ ہی روز میں دہلیز پر پائے جاتے ہیں
یہ کیسا خوبصورت کردار ہے کہ دکھ پہنچنے پر کبھی پلٹ کر رکتا نہیں ہے، گِلے کا ایک لفظ نہیں کہتا بلکہ آگے کو بڑھ جاتا ہے اور پھر سے اگلے روز عورتوں کے لائے ریوڑوں کو پانی پلانے، امیروں، چوہدریوں کے کھیت جوتتے ہوئے مل جاتا ہے
100 سے بھی کم صفحات پر سلیقے سے پھیلا یہ ناولا اپنے دور میں نئی شناخت کا ایسا حامل رہا کہ اب تک دنیا کی 30 اہم زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے، ترکیہ، پولینڈ اور اٹلی سمیت انگلستان میں اس ناولا کے ترجمے اور مقالے لکھے گئے، بظاہر عام اور رسمی سا یہ کردار وقت سے کہیں قبل 1976 کے سینما کے پردے پر کویتی ہدایت کار خالد صدیقی کی نگرانی میں فلمی صورت میں بھی ڈھل گیا
تصویر میں نظر آنے والے تمام سرورق اسی کتاب کے مختلف تراجم کے ہیں
ایک مختصر ناولا محبت کا درس دے جائے، اس سے سوا اور کیا کمائی ہو؟ اب سمجھ آتا ہے کہ برادرِ عزیز پاکستانی نوجوان مترجم اسداللہ میر الحسنی نے اس کا انتساب “ان لوگوں کے نام جو یہ کتاب نہیں خریدیں گے کیوں کہ ان کی جیب میں اس کی قیمت نہیں!” کیوں رکھا!
ایک بیش بہا کتاب کی کیا ہی قیمت ادا ہوسکتی ہے؟
“زین کی شادی” کا مرکزی کردار “زین” طیب صالح کی زندگی کا حقیقی کردار تھا، کتاب میں موجود ایک اور مستحکم کردار “سیف الدین” کے بارے میں ایسے شواہد میسر ہیں کہ جب اسے طیب صالح کی موت کی خبر ملی تب وہ دھاڑیں مار مار کر رو دیا تھا کہ وہ بھی حقیقی اور زندہ کردار تھا!
ذاتی طور پر میں اشاعتی ادارے “کولاج” کا اس لئے بھی معترف ہوں کہ انہوں نے ایک اہم کتاب کو اردو زبان میں چھاپنے کا بیڑا اٹھایا اور اسداللہ میر الحسنی کے بارے میں کیا ہی کہوں کہ اِس نوجوان نے سوا دو سال کے عرصے میں پاکستانی تخلیق کاروں کا کام عربی میں ترجمہ کرکے مصر، عمان، سعودیہ اور قاہرہ تک پہنچا دیا اور عربی زبان کا چیدہ چیدہ ادب اردو کے قالب میں ڈھال کر اس محدود عرصے میں 8 کتابیں ہم سے روشناس کروا دیں اور ابھی اسداللہ کا سفر الحمدلله جاری ہے!

“بڑا دل کسی بھی سینے میں دھڑک سکتا ہے، خدا اپنا راز کم زوروں میں منتقل کرتا ہے!” ص : 27
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں