حسین ابنِ حلاج

منصور کے سن ولادت کے حوالہ سے تاریخ خاموش ہے البتہ ان کی پیدائش کا مقام فارس کا علاقہ “طور” بتایا جاتا ہے جبکہ ان کی نشوونما” تستر” کے علاقہ میں ہوئی۔نام حسین بن منصور تھا اور حلاج کہنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ دلوں کے بھید بتا دیا کرتے تھے۔راز آشکار کرتے تھے ،اسی لیے حلاج کہلائے،سہیل بن عبداللہ تستری ،عمرو ابن عثمان مکی اور شیخ جنید بن محمد جیسے جید علماء کی صحبت میں رہے،طبیعت میں ٹھہراؤ نہ ہونے کے باعث کبھی ایک حلیہ اختیار کرتے تو کبھی دوسرا،کبھی علماء کی صحبت اختیار کرتے تو کبھی دنیاداروں کی،طبیعت کی جولانی کی وجہ سے اپنے شیخین عمرو ابن عثمان اور جنید بن محمد کو بھی ناراض کر بیٹھے۔ انہوں نے تمام زندگی توحید الٰہی کی تبلیغ و ترویج کی،اس سلسلہ میں بغداد خراسان سے لے کر ہندوستان تک مختلف علاقوں کے سفر بھی کیے،مکہ مکرمہ میں بھی کچھ عرصہ بطور بیعت اللہ کے مجاور قیام کیا،ان کی عمر کا بیشتر حصہ ریاضت اور مجاہدات میں گزرا،خدا کی عبادت میں اتنا مشغول رہتے تھے کہ اپنا بھی ہوش نہ رہتا تھا،یہاں تک کہ ان کو جب قید بھی کر دیا گیا تب بھی انہوں نےعبادت سے منہ نہ موڑا،ایک روایت کے مطابق ٹخنوں سے پاؤں تلک تیرہ بیڑیوں میں جکڑے ہو نے کے باوجود وہ ایک ہزار رکعت روزانہ ادا کرتے تھے۔.
منصور کی ساری زندگی مجاہدات و ریاضت میں گزری۔یہاں تک کہ قید کے دوران بھی انہوں نے عبادت و مجاہدہ سے منہ نہ موڑا ،اس پر کسی نے ان سے سوال کیا کہ جس درجہ پرآپ پہنچ گئےہیں ، اس قدر محنت و مشقت کس لیے؟یعنی وصل کے بعد تو مجاہدے کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔۔ابن حلاج نے فرمایا
“دوستو کے حال میں رنج و راحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا،اولیا فانی صفت ہوتے ہیں انہیں نہ رنج اثر کرتا ہے نہ راحت”۔مطلب یہ کہ وصل کے بعد مجاہدہ مجاہدہ نہیں رہتابلکہ غذا بن جاتا ہے،تمہارے نزدیک چار سو رکعت یا ایک ہزار رکعت پڑھنا مجاہدہ ہے،میرے نزدیک نہیں،کیونکہ یاد محبوب میری غذا بن چکی ہے اور میں اس کے مشاہدہ صفات میں فنا ہو چکا ہوں،میرے نزدیک جیل خانہ اور خسخانہ برابر ہےکیونکہ اپنی ذات کا فنا اور صفات محبوب کا مشاہدہ مجھے ہر جگہ حاصل ہے۔
جب حلاج کو سولی پر چڑھایا جانے لگا تو ان کے مریدوں میں سے ایک نے پوچھا کہ ہمارے ماننے والوں میں سے جو آپ کو مانتے ہیں اور وہ جو آپ کے منکر ہیں یعنی آپ کو پتھر ماریں گے،ان دونوں کے بارے کیا فرماتے ہیں؟۔۔۔منصور نے جواب دیا”ان کو دو ثواب ملیں گے اور تمھیں ایک ثواب، کیونکہ تمھیں مجھ سے حسن ظن ہے اس کے سوا کچھ نہیں اور وہ لوگ توحید کی قوت اور شریعت پر مضبوط رہنے کی وجہ سے ایسا کریں گے اور شریعت میں توحید اصل ہے اور حس ظن فروع”۔حلاج کا ذکر جو تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے اس کا نچوڑ نکالا جائے تو دو چیزوں کی وجہ سے منصور متنازعہ قرار پایا، ایک یہ کہ اس کے نظریات جن کو وہ بیان کرتا تھا وہ نظریات عام فہم نہ تھےجس کی وجہ سے لوگوں میں غلط فہمیاں پھیلیں،منصور نے نااہلوں کے سامنے وہ اسرار بیان کیے جو ان کی فہم سے بالاتر تھے۔دوسری بڑی وجہ اس کے وہ معتقدین بھی تھے جو منصور کو سمجھ نہ سکے،ان عقیدت مندوں نے منصور کے نظریات میں غلو کیا ،اس چیز نے بھی منصور کو متنازعہ بنا دیا۔ “انالحق” کا نعرہ بلند کرنے کی وجہ سے منصور کی مخالفت کی ابتدا ہوئی مگر اسے سولی پر چڑھانے کے لیے الگ ہی وجہ ڈھونڈی گئی،عباسی وزیر حامد منصور کا شدید مخالف تھا،اسے ایک بہانہ چاہیے تھا جس کی وجہ سے منصور کا خاتمہ کر سکے،عاجز عن الحج کے مسئلہ پر بحث کے دوران قاضی کے منہ سے منصور کے لیے “حلال الدم” کے الفاظ کیا نکلے وزیر حامد عباس ان الفاظ پر اڑ گیا اور ان الفاظ کی بنیاد پر باقی درباری علما سے منصور کے قتل کے فتوی پر مہر ثبت کرائی گئی۔ سولی چڑھانے سے پہلے انہیں ایک ہزار کوڑے مارے گئے،اس حال میں بھی ان کےلبوں سے آہ بلند ہوئی نہ کوئی شکوہ،بس “احد احد” پکارتے رہے۔ان سے سوال کیا گیا کہ تصوف کا ادنی درجہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ” وہ جو تم دیکھ رہے ہو،یعنی مشکل کی ہر گھڑی میں اللہ کا شکر بجا لانا تصوف ہےجس حال میں وہ ذات رکھے اس حال میں تشکر کرنا تصوف ہے”۔
نمونہ کلام!
امام العشق حضرت شیخ منصور بن حلاج!
واللہ لو حلف العشاق انہم،
موتی من الحب او قتل لما حنثوا،
بخدا اگر عشاق اس بات پر قسم کھائیں کہ وہ عشق کی
وجہ سے مردہ یا مقتول ہیں تو وہ اپنی اس قسم
میں غلط نہ ہوں گے!
قوم اذا ہجر و امن بعد ما وصلوا
ما تواوان عادوصل بعدہ بعثوا
یہ وہ لوگ ہیں جو وصال کے بعد ہجر میں مبتلا ہوں تو مر جاتے ہیں اور پھر وصال سے کامیاب ہو جائیں تو زندہ ہو جاتے ہیں۔
تری المحبین صرعی فی دیارھم
کفتیہ الکہف لا یدرون البثوا
تم عشاق کو منزل محبوب میں بچھڑا ہوا دیکھو گے جیسے اصحاب کہف بچھڑے پڑے تھے کہ ان کو بیداری کے بعد یہ خبر نہ تھی کہ کتنی مدت تک سوتے رہے۔
انا من اھوی ومن اھوی انا
نحن روحان ۔۔۔۔۔حللنا بدلنا
میں عین محبوب ہوں اور محبوب میرا عین ہے،ہم دو روحیں ہیں جو ایک بدن میں حلول کیے ہوئے ہیں۔
عجبت منک و منی۔۔۔افنیتنی بک عنی
ادنیتنی منک حتے۔۔۔ظننت انک انی
مجھے تجھ پر اور اپنے اوپر تعجب ہے،تو نے اپنے ساتھ مشغول کر کے مجھے اپنے سے فنا کر دیا، مجھے اپنے ساتھ اتنا قریب کیا کہ مجھے گمان ہونے لگا تو میں ہے۔
جب منصور کو سولی چڑھانے کے لیے قید خانے سے باہر نکالا گیا تو اس کی زبان پر یہ اشعار تھے۔۔۔۔۔ان اشعار میں منصور غالباً اپنے شیخ جنید کی جانب اشارہ کر رہا ہے،شیخ جنید کچھ کلمات پر منصور سے ناراض ہو گیا تھا اور منصور سے قطع تعلقی اختیار کر لی تھی۔
ندیم غیر منسوب الی شئی من الحیف
سقانی مثل ما یثرب کفعل الضیف بالضیف
میرا ندیم ،میرا دوست، میرا ساتھی، ذرا برابر بھی ظلم کی طرف منسوب نہیں۔۔۔یعنی اس کا کوئی قصور نہیں۔
اس نے مجھے ویسی ہی شراب محبت پلائی جیسی وہ خود پیتا تھا یعنی اس نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو ایک مہمان ،مہمان کے ساتھ کرتا ہے۔
فلما دارت الکاس دعا بالنطح والسیف
کذا من یشرب الراح من الطینین فی الصیف
پھر جب پیالہ کا دور چلنے لگا(جس سے نشہ پورا ہو گیا اور اس خمار میں مَیں آداب ضیافت بھول گیا) اس دوست نے تلوار منگوائی اور مجھے قتل کر دیا(کیونکہ وہ مہمان یعنی منصور میزبان جیسی خصوصیت یا برداشت نہ رکھتا تھا،میزبان کا ضبط مہمان کے ضبط سے اعلیٰ تھا) لہٰذا میزبان کا حق تھا کہ اس نے ترک ادب کرنے پر مہمان کے ساتھ جو کیا درست کیا۔ جب شراب کو زہر ملا کر پیا جائے گا تو ایک طرف اس شراب محبت کی گرمی اور دوسرا زہر کی گرمی سے ایسا ہی نتیجہ برآمد ہونا تھا۔

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *