خط نمبر ۱۷۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹرعابد نواز کو خط
حضرت عابد و زاہد و متقی و پرہیزگار
آپ کو ایک پاپی و عاصی و گنہگار
کی طرف سے دوستانہ سلام قبول ہو
آپ نے صنعت تضاد کی ایسی دل چسپ و دل فریب وہ دل پزیر و دل نواز روداد سنائی کہ بندہ ناچیز و ناہنجار داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ داد ایسی کھاد ہے جس کی امداد سے
ناشاد شاد ہو جائے
برباد آباد ہو جائے
اور نامراد کو اتنی پرشاد ملے کہ وہ بامراد ہو جائے
جب سے خطوط کا یہ سلسلہ آباد ہوا ہے فدوی سوچ رہا ہے کہ عابد نواز کی لفظوں سے شرارت اور اٹھکیلیاں کرنے کی یہ خاصیت خدا داد ہے یا یہ کہانی ان کی محنت شاقہ اور عمیق مطالعہ اور ظریفانہ مزاج کی روداد ہے۔ میری سیکولر دعا ہے کہ آپ کا دل بامراد مشہور اور نیم مشہور اور غیر مشہور شعرا کے سنجیدہ و نیم سنجیدہ و نیم مذاہیہ و مذاہیہ اشعار سے ہمیشہ آباد رہے تا کہ آپ ظریفانہ ادبی محبت نامے لکھتے رہیں اور ہم مسکراتے رہیں مس حور کو سناتے رہیں اور دونوں مل کر آپ کو غائبانہ داد دیتے رہیں۔
قبلہ و کعبہ و جامع مسجد دہلی و بادشاہی مسجد لاہور و عید گاہ پشاور و چند دیگر مقدس مقامات !
جہاں ہماری شخصیات اور زندگی کی روایات میں کئی صنعت تضاد ہیں وہیں ان سے کہیں زیادہ صنعت اشتراک بھی ہیں
جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں
ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھے
ہم دونوں نے ایک ہی کالج سے تعلیم حاصل کی
ہم دونوں ڈاکٹر بن گئے
ہم دونوں نے کچھ عرصہ ایران میں گزارا
ہم دونوں ایک سال اکٹھے کینیڈا میں رہے
ہم دونوں ادب دوست ہیں
اور
ہم دونوں ایک دوسرے کے خطوط بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں اور دل لگا کر جواب دیتے ہیں۔
آج کے دور میں ایسی دوستی نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔
ہماری سب سے بڑی قدر مشترک یہ ہے کہ ساٹھ برس سے زیادہ عمر کے باوجود ہم دونوں سٹھیائے نہیں ہیں۔
آپ جس قسم کے مسجا و مقفا محبت نامے لکھتے ہیں وہ آپ کی ادب دوستی اور زباں دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ آپ کے سامنے اردو زبان کے الفاظ دست بستہ کھڑے رہتے ہیں مبادا کسی کو یہ گماں نہ جائے کہ آپ اردو زبان سے کنیزوں جیسا سلوک کرتے ہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے علاوہ میں کسی ایسے پٹھان کو نہیں جانتا جسے اردو زبان پر اہل زبان سے زیادہ عبور حاصل ہو۔
ہمارے خطوط میں کامریڈ چے گوارا کا ذکر خیر آیا تو یاد آیا کہ ایک زمانے میں مجھے ان کی سوانح عمری میں گہری دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔
چے گوارا کو امریکہ نے بولیویا میں ساٹھ کی دہائی میں پراسرار طریقے سے قتل کروا دیا تھا اور انہیں کسی خفیہ اور گمنام جگہ پر دفن کر دیا گیا تھا۔
مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس واقعہ و حادثہ کے تیس برس بعد ایک جرنلسٹ اپنے ایک فوجی جرنیل دوست سے ملنے اس کے گھر گیا۔ وہ دونوں سومنگ پول کے پاس بیٹھے سکاچ پی رہے تھے اور گپیں لگا رہے تھے کہ جرنلسٹ نے فوجی جرنیل سے کہا
عجیب بات ہے کہ چے گوارا اس شہر میں تیس برس سے دفن ہے لیکن کسی کو کوئی خبر نہیں کہ کہاں دفن ہے؟
فوجی نے کہا
مجھے پتہ ہے
جرنلسٹ نے پوچھا
تمہیں کیسے پتہ ہے؟
جرنیل نے کہا
اس کے قتل کی اور دفن کرنے کی ساری پلیننگ میں نے کی تھی
جرنیل نے جرنلسٹ کو جگہ بتا دی
جرنلسٹ نے ساری دنیا کو وہ راز بتا دیا
جرنیل کو سزا ہوئی کہ اس نے حکومت کا راز فاش کر دیا
لیکن
چے گوارا کے دوستوں اور پرستاروں نے حکومت پر دبائو ڈال کر چے گوارا کی لاش نکالی اور انہیں بڑی عزت و احترام سے کیوبا کے شہر سینٹا کلیرا لے جا کر دفن کیا۔
میں جب کیوبا گیا تو میں نے تین سو ڈالر دے کر ایک ٹیکسی لی اور ویرا ڈیرا سے سینٹا کلیرا گیا
چے گوارا کی قبر دیکھی جہاں ایک شمع دن رات جلتی رہتی ہے
وہاں چے گوارا کا میوزیم بھی ہے جس میں ان کے کپڑے اور ان کی کلاشنکوف موجود ہیں
وہاں ایک چے گوارا کا سٹیچو آف لبرٹی کی طرح بلند و بالا مجسمہ بھی ہے جس پر وہ خط کندہ ہے جو چے گوارا نے کیوبا چھوڑنے سے پہلے فیڈل کاسٹرو کو لکھا تھا۔
میرا وہ سینٹا کلیرا کا سفر یاد گار سفر تھا۔ میں نے اس سفر کے حوالے سے ایک مضمون بھی لکھا تھا۔۔۔چے گوارا کی تلاش میں۔۔
حضور والا !
آپ کے خط سے پتہ چلا کہ اب آپ کے شہر اور صوبے میں بے شمار میڈیکل کالج کھل گئے ہیں جو ہر سال بہت سے ڈاکٹر پیدا کرتے ہیں۔امید ہے ان کالجوں کی تعلیم کا معیار اعلیٰ ہوگا اور وہ اپنے مریضوں کی دل لگا کر خدمت کرتے ہوں گے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان ڈاکٹروں سے مل کر کسی کو یہ شعر یاد آ جائے
فیس گر کم لی تو بیماری کو لمبا کر دیا
یوسفان شہر کو ہم نے لوممبا کر دیا
آپ کی باتوں سے یوں لگا کہ اگر میں آپ سے ملنے پشاور آیا تو شاید آپ کی امداد کے بغیر شہر پشاور کو پہچان نہ پائوں جیسے کئی عاشق دہائیوں بعد اپنی پری چہرہ دختر خوش گل محبوبہ سے ملتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے کیونکہ وہ نانی دادی بن چکی ہوتی ہے اور زندگی کے تجربات نے جھریوں کی صورت اختیار کر لی ہوتی ہے۔
مجھے آپ کا ادبی محبت نامہ پڑھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ آپ اردو نہیں انگریزی زبان کے بھی Wordsmith ہیں اور انگریزی زبان کے الفاظ کی گہرائیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کا خط پڑھ کر مجھے اپنی ایک نوے برس کی مریضہ یاد آ گئی جو انگریزی زبان پر عبور رکھتی تھی ۔
ایک دن نفسیاتی انٹرویو کے بعد میں نے اس سے کہا کہ میں جتنی زبانیں جانتا ہوں ان میں جب دو دوست جدا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں
خدا حافظ
خدا حافظ شما
اللہ حافظ
رب راکھا
لیکن انگریزی میں کہتے ہیں گڈ بائے
وہ مسکرائی اور کہنے لگی۔ شروع میں یہ بھی ایک مذہبی اور خدا پرستانہ جملہ تھا
GOD BE WITH YOU
جو کثرت استعمال سے سیکولر گڈ بائے بن گیا۔
حضور والا !
آپ کو یاد ہے کہ جہاں میرے پروفیسر ڈاکٹر وولف سائیکو تھیرپی کو بہت پسند کرتے تھے وہیں ڈاکٹر ہونگ اسے بہت ناپسند کرتے تھے۔ اس بات سے مجھے ورجینیا وولف یاد آ گئیں جو تھیریپی کو اتنا برا سمجھتی تھیں کہ THERAPISTکوTHE RAPIST OF THE MIND کہتی تھیں۔ انہوں نے اپنی ڈیپریشن کے لیے تھیریپی نہ لی اور ایک دن اپنی کوٹ کی جیبوں کو پتھروں سے بھرا اور سمندر کی طرف چل پڑیں اور اتنی دور تک چلتی چلی گئیں کہ پانی میں ڈوب گئیں۔
اگر وہ تھیریپی پر ایمان رکھتیں تو شاید خود کشی سے بچ جاتیں۔
میرا مذاہیہ خط کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے اب اجازت چاہتا ہوں
آج عید کا دن ہے اور مجھے پشاور کی عید گاہ یاد آ رہی ہے کیا وہ عید گاہ اب بھی موجود ہے یا چارسدہ روڈ پر عید گاہ کی جگہ کوئی سوپر مارکٹ بن گئی ہے؟
یار زندہ صحبت باقی
آپ کی ادب دوستی اور انسان دوستی کا مداح
خالد سہیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خط نمبر ۱۸۔۔۔۔ڈاکٹرعابد نواز کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط
شتاب الجواب، سریع الحساب، رفیق الکتاب، عزت مآب، مداح الشباب، رشک طاؤس و ناز رباب، نادر و نایاب، فوقِ سحاب، کشاف سراب، شارح خواب، جویائے ارفع اسباب، نگاہ عقاب، عزیزِ احباب ، فرزند پنجاب و راوی و چناب، لب لباب کثیر الالقاب و آداب ، عالی جناب خالد سہیل صاحب
آپ کا محبت نامہ دیکھا جسے بیک وقت کئی نام دینے چاہئیں یعنی والا نامَہ، نوازش نامہ، گرامی نامہ ،سِپاس نامَہ ، نیاز نامہ اور مزید نامے جو میرے ذخیرہ الفاظ میں موجود نہیں ہیں البتہ ایک اور طرح کے ذخیرے کی کمی نہیں ہے
ہمارے پاس گناہوں کا اک ذخیرہ ہے
بتائیں شیخ کیا کبیرہ کیا صغیرہ ہے
آپ کا کثیر الاوصاف نامَہ حسب معمول خلوص اور اپنائیت کی جامع تصویر ہے
آپ نے صنعت اشتراک کی دلچسپ لسٹ لکھی ہے البتہ اس میں ادب دوستی کی صنعت اشتراک میں تھوڑی سی صنعت تضاد یوں در آتی ہے کہ آپ ادب کے تخلیق کار اور ادب دان ہیں جب کہ میں صرف ادب خوان اور ادب کا ادنیٰ ادا شناس ہوں آپ کے قلم سے بلا تردد ادب پاروں کے چشمے پھوٹتے ہیں جب کہ یہاں عالم یہ ہے کہ اس شغل میں جُتنا بھی پڑے تو اُس حالت سے دامن بچانے ہی میں عافیت محسوس ہوتی ہے جس کے بارے میں داغ دہلوی کا ایک واقعہ پیش خدمت ہے
بشیرؔ رامپوری حضرت داغؔ دہلوی سے ملاقات کے لیے پہنچے تو وہ اپنے ماتحت سے گفتگو بھی کررہے تھے اور اپنے ایک شاگرد کو اپنی نئی غزل کے اشعار بھی لکھوا رہے تھے۔ بشیر ؔصاحب نے سخن گوئی کے اس طریقہ پر تعجب کا اظہار کیا تو داغؔ صاحب نے پوچھا، آپ شعر کس طرح کہتے ہیں؟ بشیرؔ صاحب نے بتایا کہ حقہ بھروا کر الگ تھلگ ایک کمرے میں لیٹ جاتا ہوں۔ تڑپ تڑپ کر کروٹیں بدلتا ہوں، تب کوئی شعر موزوں ہوتا ہے۔ یہ سن کر داغ مسکرائے اور بولے، بشیر صاحب! آپ شعر کہتے نہیں، شعر جنتے ہیں۔
ظاہر ہے ہم داغ صاحب کی ذکر کردہ کیفیت میں مبتلا ہونا نہیں چاہتے ورنہ جننے سے پہلے حمل کا متحمل ہو کر اُسے تحمل کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے زیادہ نقل و حمل سے پرہیز لازم ہوگا ورنہ مصائب کا حملہ ہو سکتا ہے اور شاید
Couvade syndrome
کی علامات بھی ظہور پذیر ہوں
جیسا کہ آپ جانتے ہیں
Couvade syndrome or couvade is a term used to describe sympathetic pregnancy in men; the word couvade comes from the Breton word couver, which means to brood, hatch, or incubate. In this situation, some men experience symptoms that mimic those experienced by their partners during pregnancy.
دلچسپ بات یہ ہے کہ نجومی حضرات کے نزدیک آج کی تاریخ برج حمل میں آتی ہے
ظاہر ہے کہ ادب کا دعویٰ نہیں نہ ہی اس پر اترانا بنتا ہے ورنہ
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
کلیم عاجز
اہل زبان سے ہمارا کیا موازنہ ہو سکتا ہے جہاں تک اہل ہونے کی بات ہے تو اُس میں تذکیر و تانیث کی مداخلت کا الگ ہی رنگ ہے جس کا ذکر یوں بھی ہوا ہے کہ
میں تو اہل ہوں کسی اور کا مری اہلیہ کوئی اور ہے
میں ردیف مصرعۂ عشق ہوں مرا قافیہ کوئی اور ہے
خالد عرفان
آپ نے استفسار کیا ہے کہ ہماری اردو میں محنت شاقہ اور عمیق مطالعے کا عمل دخل ہے یا یہ صلاحیت خداداد ہے تو عرض ہے کہ ان سب کا ملغوبہ ہے اور یوں کھچڑی پک کر پٹھان برانڈ کی اردو وجود میں آجاتی ہے
آپ نے یہ بھی خوب کہا ہے کہ ہم ابھی تک سٹھیائے نہیں ہیں اگرچہ ستریا چکے ہیں ہمارے کچھ احباب ایسے بھی ہیں جو ستر کے پیٹے میں پہنچ کر پیٹ کی نمایاں جلوہ نمائ کے باوجود اپنی عمر چھپانے کا جتن کرنے میں جت جاتے ہیں یعنی ستر کے ہو کر سترپوشی کا ارتکاب کرتے ہیں
اس سلسلے میں کچھ مصرعوں کا دلیہ بنا رہا ہوں شاید آپ پسند کریں نہیں تو اسے ایک پٹھان کی خامہ فسادی اور ریختہ بربادی جان کر نظر انداز کر دیں
ستر کے ہو کے آج سترپوش ہو گئے
سچ بولنے کی خو سے سبک دوش ہو گئے
اپنی مدح سرائی میں مد ہوش ہو گئے
تحسین ڈٹ کے پی لی بلانوش ہو گئے
تعریف کے لیے ہمہ تن گوش ہو گئے
توصیف کی بہا میں خود فروش ہو گئے
اپنی ثنا کے بارے صد خروش ہوگئے
مطلوبِ خوش گمانیِ سروش ہوگئے
جتنے بھی یار تھے وہ فراموش ہو گئے
اور یہ جناب خود سے ہم آغوش ہو گئے
جب یار ان کی لاف پہ خاموش ہو گئے
موصوف ہرزہ گوئی میں پرجوش ہوگئے
جتنے تھے سننے والے کند گوش ہو گئے
یا ان کی یاوہ گوئی سے سخت کوش ہو گئے
احباب آن سے چھٹ کے حق نیوش ہو گئے
اپنے شبانہ روز میں سنتوش ہو گئے
آپ نے پشاور میں گوناگوں تغیرات کی وجہ سے اسے پہچاننے میں دقت کا خدشہ ظاہر کیا ہے یہ درست ہے مگر رہنمائی سے یہ مرحلہ بہ آسانی طے ہو جائےگا
آپ کی رہائش کے قریب واقع عیدگاہ اب بھی موجود ہے جس میں نماز عید کا اہتمام ہوتا ہے
آخر میں آپ کی سیکولر دعاؤں کے لئے سہ چند مشکور ہوں ان سے اس قدر لطیف اور فرح بخش ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے جیسے اطراف میں سہ کولر ہواپاشی کر رہے ہوں
آپ کے لیے بھی دعا ہے کہ
May you stay cooler and serene.
اب اجازت
دوستِ درویش
عابد نواز
خط نمبر ۱۹۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹرعابد نواز کو آخری خط
ایک پارسا نے ایک پاپی کو لکھا
ہمارے پاس گناہوں کا اک ذخیرہ ہے
جسے پڑھ کر پاپی کو شعر یاد آیا
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
جب یہ پڑھا کہ داغ دہلوی نے فرمایا
بشیر صاحب ! آپ شعر کہتے نہیں جنتے ہیں
تو عارف عبدالمتین کا شعر یاد آیا
معراج پر ہے کرب گوارا دماغ کا
تخلیق ہو رہا ہے سخنور کے ہاں سخن
حضرت عابد !
میں شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کو بھی تخلیقی مائیں سمجھتا ہوں جو
تخلیقی طور پر حاملہ ہوتے ہیں
اس حمل کی پرورش کرتے ہیں
درد زہ برداشت کرتے ہیں
اور ایک فن پارے کو جنم دیتے ہیں
یہ علیحدہ بات کہ بعض لکھاریوں کا تخلیقی اسقاط ہو جاتا ہے اور بعض ایک دو کتابیں جنم دینے کے بعد تخلیقی سن یاس یعنی مینو پوز کا شکار ہو جاتے ہیں۔
میں اس حوالے سے خوش قسمت ہوں کہ ستر کی دہائی میں بھی نئے کالموں اور کتابوں کو جنم دے رہا ہوں اور تخلیقی مینو پوز کا شکار نہیں ہوا۔
آپ کا یہ مصرعہ
میں تو اہل ہوں کسی اور کا میری اہلیہ کوئی اور ہے
پڑھ کر ٹورانٹو کے مزاحیہ شاعر جمال زبیری کا یہ شعر یاد آ گیا
میری بیوی کہہ رہی ہے کہ طلاق مجھ سے لے گی
’میں خوشی سے مر نہ جاتا اگر اعتبار ہوتا‘
آپ جس انداز دلبرانہ سے خطوط لکھ رہے ہیں وہ انشا پردازی اور مزاح نگاری کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ اسی لیے میری جب کینیڈا کے مستند و معتبر و معزز مزاح نگار احمد رضوان سے ڈنر پر ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں آپ کا ایک خط پڑھ کر سنایا۔ وہ بھی میری طرح آپ کی انشا پردازی اور مزاح نگاری سے بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمیں ان خطوط ان کے انٹرنیٹ کے مجلے
مکالمہ
میں چھپوانا چاہیے۔
میں نے کہا کہ میرے لیے تو فخر کی بات ہوگی۔
ادبی محبت ناموں کا یہ سلسلہ یہاں اختتام پزیر ہوتا ہے۔
عابد نواز اور ۔۔۔مکالمہ۔۔۔کے قارئین کو الوداع
آپ کا بچپن کا دوست
خالد سہیل

Reply, Reply All or Forward
Thank you.
Got it.
Cool.
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں