ارض پاک میں گُزرے ایام(7)-سراجی تھلوی

*شمس الدین شگری کے سنگ 

یادِ ایّام لکھ رہا ہوں۔ زندگی ایک سفر ہے جہاں قدم قدم پر محبتوں کا مالا، نفرتوں کا جالا اور اذیّتوں کا ہالا ملتا ہے۔جہاں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے ہوئے تنگ و تاریک گلیوں،سربفلک پہاڑوں،گنجان علاقوں خاردار جھاڑیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔یہی سفر اگر فکری و علمی ہو تو اور بھی ازیّت ناک و درد ناک ہوتا ہے۔اک سیماب طبیعت ،آوارہ مزاج شخص کےلیے فکری جمود نہایت جانگسل ہے۔وہ علمی و فکری دنیا کے ہر وادیوں کا سیر ، ہر پہاڑ کو سر ،ہر بند دروازوں کو فتح کرنا چاہتا ہے۔چاہیے وہ دنیا کی نظر میں معتوبِ جہاں ٹھہرے یا مجذوب زماں اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔مجھے اس سال اک ایسے شخص سے بالمشافہ ملاقات کا موقع ملا۔جی ہاں سروش نام ہے۔نہیں نہیں شمس الدین حسن شگری نام ہے۔غائبانہ تعارف تو اک عرصے سے تھا ۔سوشل میڈیا پر انکی تحریریں،ویڈیوز مختلف مسلک و مذھب و فرق بارے انکے خیالات ،پوڈکاسٹ ،مختلف علمی و فکری شخصیتوں کے ساتھ نشستیں دیکھتا ،سنتا رہتا تھا۔

اصل تعارف کا سبب تو “مفتی امجد “صاحب کے وال پر سروش شگری کے بارے پہلی مرتبہ دیکھا۔پھر سوشل میڈیا پر گشت کی تو انکی کتاب “مذھبی انتہا پسندی اسلامی حکومت و انقلاب اور جوابی بیانیہ ” کے بارے میں بہت کچھ تبصرے تنقید پڑھنے کو ملے ۔وہاں سے شمس الدین حسن شگری صاحب کی نسبت یگونہ مانوسیت ہوئی۔فکر و نظر سے اختلاف ہونے کے باوجود قبیلہِ قرطاس و قلم کا حوالہ ،تحقیق وجستجو کا مزاج ہی اک شخص سے محبت کا زینہ تعلق کا سبب بنا۔مجھے اس گھٹن زدہ ماحول میں تحقیق و جستجو ،مطالعہ و تفحص والے لوگ نہایت پسند ہے۔کہ اس عہدِ ناہنجار میں بھی کچھ ایسے سرپھیرے موجود ہیں۔خیر بات سے بات نکلتی گئی۔حسن شمس الدین صاحب دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج رکھتے ہیں۔بین المذاھب والادیان مکالمے کا خواہاں ،غالبٙٙا وحدت ادیان کا داعی،یوٹیوب چینل”وحدت انسانیت”کے پلیٹ فارم سے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے منہج پر کام کر رہے ہیں۔میرا کراچی جانے سے پہلے بھی کئی بار حسن صاحب نے مسلکِ نوربخشیہ کے بارے اک پوڈکاسٹ کرنے کےلیے کئی بار کہا پر میں اپنی علمی کم مائیگی و بے بضاعتی کی بنا پر ٹالتا رہا۔اس بار سفر پاکستان سے پہلے بھی حسن صاحب نے مجھے مسیج کی کہ مسلکِ نوربخشیہ کے بارے میں اک پوڈکاسٹ کرنے کا مجھے شدید خواہش ہے۔تو میں نے کہا موقع غنیم ہے کہ میں خود کراچی آرہا ہوں پھر کوئی سبیل نکالتا ہوں۔پس اسی سلسلے میں اک طویل عرصے کا غائبانہ تعارف بالمشافہ ملاقات پر منتج ہوا۔
21فروری 2025ء کو حسن شگری صاحب اور برادر حمیداللہ صاحب دونوں مادر علمی”جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ”محمود آباد کراچی تشریف لائے۔اور پوڈ کاسٹ سے قبل اک طویل نشست ہوئی۔جس میں علامہ شیخ سکندر حسین صاحب مہتمم اعلی جناب علامہ شیخ محسن اشراقی اور خاکسار نے شرکت کی۔جناب علامہ شیخ سکندر صاحب سے وحدت ادیان کے بارے شمس الدین حسن صاحب کا غیر رسمی گفت و شنید ہوئی۔یہ پوڈکاسٹ تقریبا 1گھنٹے 35منٹ پر محیط ہے۔اس پوڈکاسٹ کے حوالے سے اُس وقت میں نے اک مختصر تحریر لکھی تھی وہ بھی اس حوالے سے شامل کرتا ہوں۔
“سوشل میڈیا پر مختلف نظریات و افکار، مختلف مذاہب و مسالک، ادیان و فرقوں کی چنیدہ و برجستہ شخصیات سے حیرت انگیز، منفرد، بنیادی و اصولی سوالات پوچھنے والے وحدتِ ادیان کے داعی جناب Shamsuddin Hassan Shigri صاحب نے آج جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ میں تشریف لا کر استادِ محترم علامہ شیخ محسن اشراقی حفظہ اللہ کے ساتھ ایک نہایت اہم علمی نشست کا انعقاد کیا۔ اس نشست میں علامہ شیخ محسن اشراقی حفظہ اللہ نے ان تمام سوالات کے نہایت عالمانہ و دقیق جوابات فراہم کیے۔
یہ پروگرام اس لحاظ سے نہایت ہی اہم تھا کہ اس میں اہم بنیادی سوالوں کا نہایت خندہ پیشانی،فراخ دلی اور وسعتِ فکر کے ساتھ جوابات فراہم پیش کی۔
اور یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ جب نوربخشی دنیا میں کسی بھی علماء یا اسکالر کا ذہن اس طرح کے بنیادی و فکری ،مبنائی سوالات سے روبرو ہی نہیں ہوئے تھے بقول مناطقین مواجھہ مشکل ہی نہیں تھے تو حل مشکل بہت دور کی بات ہے۔اس قحط الرجال میں علامہ شیخ محسن اشراقی صاحب نے “ماخذ اور جدید مسائل کا حل”اصول عقائد سوالا و جوابا” کے شکل میں مختصر مگر جامع کتاب لکھ کر صاحب علم ،اور صاحب درد ہونے کا مظاہرہ کیا۔
آج سوشل میڈیا کی توسط سے صرف لفظوں کو صوتی پیرائیہ میں نشر کیا ہے۔ورنہ صاحبانِ مطالعہ سے مخفی نہیں کہ ان سوالوں کا جواب شیخ محسن اشراقی صاحب نے آج سے برسوں قبل “نوائے صوفیہ “میں اک مقالے کے شکل میں پیش کیا۔اور اک کانفرنس میں بھی ۔لیکن ستم ظریفی یہ ہوئی کہ نوائے صوفیہ والوں نے اس مقالے میں تحریف اور ردو بدل کی۔بعد میں علامہ اشراقی نے دوبارہ تنظیم و تسوید ،رد و قدح کرکے کتابی شکل میں شائع کی۔
پھر جناب حسن شمس الدین نے غالبٙٙا سوالات کی بنیاد علامہ شیخ محسن اشراقی کی کتاب”ماخذ فقہ “کو ہی بنا کر کیا ہے۔”

julia rana solicitors london

جاری ہے۔۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply