جزیرے ۔۔۔ سید حامد علی زیدی

مشرق بعید میں اکثر ملک جزیروں پر مشتمل ہیں ۔۔ جاپان, انڈونیشیا اور فلپائن اس کی مثال ہیں ۔ بیس آدمیوں کی آبادی والے جزیرے سے لیکر بیس لاکھ کی آبادی والا جزیرہ آپ کو مل جائے گا ۔

فلیپائن کے سات ہزار سے کچھ اوپر جزائر ہیں ۔جاپان کے تو اس سے  بھی زیادہ ہیں ۔۔
جزیروں کی اپنی ایک تاریخ ہے یہ بنتے ہیں بگڑتے ہیں ۔۔ کبھی کبھی سمندر کے پانیوں سے جادوئی انداز میں ابھر آتے ہیں اور کبھی اسی پانی کی لہروں تلے غرقاب ہوجاتے ہیں ۔

ہزاروں جزیرے مل کر ایک ملک بنتا ہے ۔ ہر جزیرہ اپنے وسائل اور مسائل کے ساتھ زندگی گزارتا رہتا ہے ۔

وہاں قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ انسانی اور زمینی آفات بھی ہیں, ایک طرف بارشیں, تیز سمندری ہوائیں اور طوفان ہیں تو دوسری طرف زہریلے سانپ اور ہلاک کرنے والی مخلوق ، لوگ سخت موسموں سے لڑتے جیتے چلے جاتے ہیں اور پھر وہیں کہیں مرکھپ جاتے ہیں ۔

مصنوعی جزیرے بنائے بھی جاتے ہیں جس کی ایک مثال دبئی کا ” پام جمیرا ” ہے ۔۔
یہاں کبھی سمندر ہوا کرتا تھا اب یہاں کروڑ پتیوں کی بستی ہے ۔

جزیروں کی تمہید نجانے کیوں میرے دماغ میں آئی شاید کوئی یاد دماغ میں چپک کر رہ گئی ہوگی ۔

اس پتھریلے جزیرے کی یاد جہاں میں اختتام ہفتہ دوستوں کے ساتھ مچھلی کے شکار کے لئے جاتا تھا ۔ اندھیرا سناٹا, نم ہوائیں اور لہروں کی آوازیں اور کبھی کبھار ہلتی ہوئی مچھلی پکڑنے کی ڈور ۔

ڈوری زیادہ تن جاتی اور کھچاو بڑھتا تو ڈور کھینچنے پر پتہ چلتا کہ سمندری سانپ ہے تو ڈوری ہی توڑنی پڑتی ۔ یوں تو بام مچھلی بھی سانپ کی طرح کی ہوتی ہے لیکن اس میں سانپ سا دم خم نہیں ہوتا ۔

اونچی آواز میں دنیا جہان کی باتیں ۔ مدوجزر کا مشاہدہ جس میں چڑھتے پانی میں بڑی بڑی چٹانیں ڈوب جاتیں اور اترتے ہوئے پانی کا نظارہ جب سمندر کی ہیبت ختم ہوجاتی اور جزیرے کے پانی کی تہہ سے سفید ریت نمودار ہوتی تو گھونگے سیپیاں اور صدف صاف دکھائی دینے لگتے ۔م۔

پھر وہ جزیرہ جہاں ہمیں ایک مچھیرا لے گیا تھا۔۔
سمندر کی لہروں اور کشتی کے یاماہا انجن کی موسیقی پہ اونچی لے میں گیت گاتا ہوا ۔۔
یہاں ناریل اور کیلے کے درخت تھے سبزہ تھا تالاب تھا اور نسلوں سے آباد وہ لوگ تھے جنہوں نے نئی دنیا کی روشنی نہیں دیکھی تھی بس جزیرے کی حدود ہی ان کی دنیا تھی ۔
چند لوگ ساحلی گاوں میں مچھلی اور پھل دے کر ضرورت کی چیزیں لے آتے تھے بس یہ باہر کی دنیا سے ان کا واحد رابطہ تھا ۔

معاشرے اور معاشرت کے عالم کہتے ہیں کہ لوگوں کو مشترکہ مفاد، خوف اور نظریاتی ہم آہنگی ایک دوسرے کے قریب لے کر آتے ہیں ۔۔ بستیاں انہی اصولوں پر بستی ہیں اور جزیرے بھی اسی قانون پہ آباد ہوتے ہیں ۔۔

یہ جزیرے کہیں قبائل سے موسوم ہوئے, کہیں ذاتوں اور مذہب سے ۔
بھلا ہو متحدہ ہندوستان کے اس انگریز افسر کا جس نے ہندوستان میں بسنے والی ذاتوں کا انسائکلوپیڈیا لکھ کر یہاں ان جزیروں کی نشاندہی کی تھی ۔

اب تو پورا ملک اتنے جزیروں میں تقسیم ہو چکا ہے کہ شاید اس کے لئے اس انگریز کی لکھی ہوئی وہ ذاتوں کا انسائکلوپیڈیا بھی کم پڑے ۔
یہاں غربت و امارت کے جزیروں کی بات چھوڑیئے, بیگانگی و بے حسی کے جزیرے بھی ہیں ۔
غریب بستیاں ہیں جہاں دس ضرب دس فٹ کے کمرے گھر کہلاتے ہیں اور وہ ہزار ہزار گز کی زمین پر بنے بنگلے ہیں جہاں گھر کا مالک ایک کمرے میں ایک ہی چارپائی پہ سوتا ہے ۔

جھگیاں اور خانہ بدوشوں کے خیمے بھی ہیں اور ملک ریاض کے بنائے ہوئے وہ جزیرے بھی ہیں جہاں بقول ان کے ہم لوگوں کی سہولت و آسائش مدنظر رکھتے ہوئے پچاس لاکھ سے دس کروڑ تک کے گھر بناتے ہیں ۔۔

اشراف کے لئے چمچماتی سڑکوں والے جزیرے بھی ہیں اور عوام کے لئے دھول اور مٹی سے اٹے راستوں والے بھی ۔۔
یہ سب الگ الگ جزیرے ہیں ۔۔۔

ان سے الگ مذاہب مسالک و مکاتب کے جزیرے ہیں ۔۔
طاقت و اقتدار کے جزیرے ہیں ۔۔
رنگ نسل اور قوم کے جزیرے ہیں ۔۔
ذاتوں اور گوتوں کے جزیرے ہیں ۔۔
لسان و لغت کے جزیرے ہیں ۔۔
علاقے اور تہذیب کے جزیرے ہیں ۔۔

جن جزیروں پر امن پسند رہتے ہیں وہاں سیلانی آتے ہیں, ملاح اترتے ہیں- جہاں جان جانے  اور مال لٹ جانے کا خوف ہوتا ہے وہاں کشتیاں نہیں آتیں ۔۔ ان کے ساحل ویران پڑے رہتے ہیں ۔۔

جاپان, فلپائن اور انڈونیشیا اور ان کے جزیروں سے پتہ یہ چلتا ہے کہ قوموں کے نصاب میں جغرافیہ سے زیادہ تہذیب اور اخلاق اہم ہوتے ہیں۔
جغرافیہ اور تاریخ ساکت ہوتے ہیں اور تمدن و اخلاق متحرک ۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *