اقتدار (3)-مرزا مدثر نواز

اقتدار میں آتے ہی انسان کے رشتہ داروں‘ دوستوں‘ مدّاحوں اور حاسدوں میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کو یہ گمان ہو کہ اس کی ذات سے آج تک کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور اس کا کوئی مخالف ہے نہ حاسد‘ وہ ذرا اقتدار کو چھو کر تو دیکھے کہ کیا حشر ہوتا ہے اس کا‘ اسی طرح اگر کوئی کہے کہ بچپن میں ہی وہ سایہ پدری یا شفقت مادری سے محروم رہ گیا تھا تو وہ تھوڑی دیر کے لیے صاحبِ اقتدار ہو جائے‘ اسے نت نئے ماڈل کے والدین وافر مقدار میں مل سکتے ہیں۔ زوجہ جات کی تو کوئی کمی ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کے علاوہ یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ جن لوگوں کو ورثے میں صرف ایک آدھ چچا اور ڈیڑھ دو کزن ملے تھے‘ اقتدار کا  شہد لگتے ہی ان کے گرد مکھیوں کی طرح انکل اور کزن بھنبھنانے لگتے ہیں۔

آخر میں یہ جاننا ضروری ہے کہ اقتدار اور قیادت کے میدان میں پاکستان کو خصوصی انفرادیت حاصل ہے۔ بعض ممالک صاحبِ اقتدار افراد پیدا کرنے کے لیے پہلے قیادت کی نرسری لگاتے ہیں‘ پھر اس کے ننھے منے پودوں کو مقامی نرسری سے نکال کر ضلعی یا صوبائی کیاریوں میں سجاتے ہیں جہاں سے صرف چند ایک قومی سطح کے تناور درخت بنتے ہیں۔ ہم ان جھمیلوں میں نہیں پڑتے‘ ہم سب سے پہلے تناور درخت تلاش کرتے ہیں اور اگر پسند آ جائے تو اسے صحنِ اقتدار میں سجا لیتے ہیں۔ یہ بعد میں دیکھتے ہیں کہ یہ پھل دار ہے‘ صرف سایہ دار ہے یا سراسرخاردار ہے۔

julia rana solicitors london

اقتدار تک پہنچنے کے کتنے چور دروازے ہوتے ہیں اور ہر دروازے پر کتنے پہرے‘ جو لوگ حکومت میں ہوتے ہیں‘ شاید وہ بھی پوری طرح اس کو نہیں جانتے ہوں گے۔ اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے میں اقدار‘ اصول اور نظریات سب قربان کر دیے جاتے ہیں۔ اقتدار تک پہنچنے کا ہر ڈھنگ ہی عجیب و نرالا ہے‘ اگر مصاحبوں کی مصلحتیں راستے میں حائل ہوں تو مصاحب ہی قربان ہو جاتے ہیں اور اگر منزل کی راہ میں رکاوٹیں ہوں تو اصولوں کو ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اقتدار کی گزرگاہوں میں ہر وہ شخص ناپسندیدہ ٹھہرتا ہے جو پاکیزگی کا دم بھرے اور ہر وہ زبان خاموش کر دی جاتی ہے جو سچ کہنے کی ہمت کرے۔عام الفاظ میں اقتدار کا مطلب طاقت ہے۔ اقتدار کو لوگ ایک نشہ بھی سمجھتے ہیں جب یہ نشہ لگ جاتا ہے تو پوری زندگی یہ نشہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
؎ دربدر سر جھکائے پھرتا ہے
عارضی اقتدار کی خاطر
کتنا مجبور ہو کے جیتا ہے
آدمی اختیار کی خاطر (وسیم بریلوی)

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply