فلم ریویو: ہیومنز ان دا لوپ/فرزانہ افضل

پیشتر اس کے کہ میں آرنیئا ساہے کی لکھی اور ڈائریکٹ کی ہوئی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے موضوع پر مبنی اس فلم پر تبصرہ کروں میں ہیومن ان دا لوپ کے معنی واضح کرنا چاہوں گی اپنے قارئین کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے کہ ہو سکتا ہے چند ایک کو اس بارے میں پوری طرح سے آگاہی نہ ہو۔ ہیومن ان دا لوپ (HITL) ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے انسانی ذہانت کو آٹومیٹک مشینری مثلا ً آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں جو کچھ بھی فیڈ کیا جاتا ہے وہ انسان ہی فیڈ کرتے ہیں۔ انسان اپنی مہارت اور علم سے ان مشینوں کی کارکردگی کو قابل اعتماد بناتے ہیں۔

اس فلم میں دو مختلف موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے یکجا کیا گیا ہے۔ انڈیا کے قصبہ جھارکنڈ سے تعلق رکھنے والی قبائلی عورت کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ جو دو بچوں کے ساتھ اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد ایک ارٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا لیبلنگ سینٹر میں جاب ڈھونڈتی ہے۔ اس کی سن بلوغت کو پہنچتی ہوئی بیٹی کے ساتھ جذباتی کشمکش کو بہت خوبصورتی سے فلمایا گیا ہے۔ بیٹی گاؤں کی زندگی اور ماں کو پیش آنے والے چیلنجز کی وجہ سے اداس اور ناخوش دکھائی دیتی ہے گاؤں والے ان سے ملنا پسند نہیں کرتے کیونکہ اس عورت کی اپنے شوہر سے باقاعدہ شادی نہیں ہوئی تھی۔ بیٹی اپنے باپ کے ساتھ شہر میں بہتر سہولتوں کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اس کہانی میں ماں اور بیٹی کے رشتے اور ان کے جذبات و احساسات کا خاموش زبان میں آنکھوں کے ذریعے اظہار کیا گیا ہے اس فلم میں مکالمے بہت کم ہیں جو اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔

دوسرا پہلو یہ بتایا گیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں اگر صحیح معلومات اور ڈیٹا فیڈ نہ کیا جائے تو وہ انسانی تعصب کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ خاتون ڈیٹا لیبلر اپنے ایک کلائنٹ (جو شاید کیڑا مار ادویات بنانے والی کمپنی ہے ) کی مرضی کے برعکس کیٹر پلر کو کیڑا لکھنے سے انکار کر دیتی ہے اس کے لیے وہ اپنی باس یہ وجہ بتاتی ہے کہ کیٹر پلر پتوں کا گلا ہوا حصہ کھاتا ہے تاکہ باقی پتہ صحیح رہے لہٰذا وہ اس کو کیڑا نہیں لکھے گی۔ مگر باس کا اصرار تھا کہ چونکہ کلائنٹ نے کہا ہے لہذا اس کو کیڑا ہی لکھنا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی انسانی تعصب کا شکار ہو سکتی ہے۔ فلم کے اختتام پر اس کی مینجر اس بات کا اعتراف کر لیتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اے آئی تیار کرنے میں کس قدر انسانی محنت درکار ہوتی ہے جو عام دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے۔ اور یہ زیادہ تر محنت تیسری دنیا کے ممالک کے غریب قصبوں میں سستی مزدوری سے لی جاتی ہے۔

اس فلم میں   Porcupine جانور کو استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس کو عورت سے تشبیہ دی گئی ہے سیہہ ایک خاموش طبع جانور ہے، اس میں خطرے کو سونگھنے کی کڑی حس موجود ہے۔ جونہی یہ خطرہ محسوس کرتا ہے اس پر لگے ہوئے نوکدار کانٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جن سے وہ اپنے دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔
نیٹ فلیکس پر موجود یہ فلم جو گنتی کے کرداروں پر مبنی ہے میں ہر آرٹسٹ نے بہترین پرفارمنس دی ہے۔ اگر اپ ایک حساس انسان ہیں اس سماجی مسائل پر بنی فلموں کو گہرائی سے دیکھتے ہیں تو ایک اچھوتے موضوع پر بنی ہوئی اس فلم کو ضرور دیکھیے۔

ہیومن ان دا لوپ کیا ہے؟،Netflix فلم Porcupine،آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انسانی تعصب ،ڈیٹا لیبلنگ سینٹر کی حقیقت ،قبائلی عورت کی کہانی ، ماں بیٹی کا رشتہ

julia rana solicitors

AI ethics in South Asia،HITL in AI systems،Porcupine metaphor in film،Indian tribal women in tech

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply