یقین ایک احساس ہے جو دو دلوں کے درمیان پل بناتا ہے یہ رشتہ صرف ایک طرف سے قائم نہیں ہوتا بلکہ دونوں طرف سے جڑتا ہے اکثر ہم آپنے بڑوں سے کوئی خواہش یا فیصلہ شیئر کرتے ہیں تو وہ اس پر غور کرنے کی بجائے کہ وہ ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں حیرانگی سے کہتے ہیں مجھے یقین نہیں کہ تم نے مجھ سے ایسی بات کی مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی تم نے میرا یقین توڑا لیکن شاید وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ جس نے آپ سے اس کام کو عملی طور پر کرنے کی بجائے آپ سے مشورہ کیا اور آپ کا ساتھ مانگا اس نے بھی تو پورے یقین کے ساتھ آپ سے آپنی بات شیئر کی اب اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ اس نے آپ کا یقین توڑا ہے تو ذرا یہ بھی سوچیں اس نے بھی تو آپنا پورا یقین آپ کے سپرد کیا تھا وہ بھی یہ ایمان رکھتا تھا کہ آپ اسے سمجھیں گے اس کے احساسات کا احترام کریں گے یقین ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے اگر ایک دل ٹوٹتا ہے تو دوسرا بھی تو زخمی ہوتا ہے نا ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ صرف دوسروں کے یقین توڑنے کا گلا نہ کریں بلکہ کبھی آپنے رویے پر بھی نظر ڈالیں کہیں ہم نے بھی تو اسے وہی تکلیف نہیں پہنچائی؟جو اس نے ہمیں پہنچائی ہے کہیں ہم نے بھی کسی کا یقین تو نہیں توڑا یقین کو نبھانا محبت کا سب سے حسین ثبوت ہے اسے اگر ایک طرف سے توڑا جائے تو وہ دوسری طرف سے بھی زخمی ہو جاتا ہے لہذا رشتوں میں یہ بات یاد رکھیں کہ یقین کا بوجھ صرف ایک کندھے پر نہیں بلکہ دونوں کندھوں پر ہوتا ہے اگر آپ کے کسی پیارے نے آپ کا یقین توڑا ہے تو اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیں پتہ ہے کیوں کیونکہ جتنی تکلیف آپ کو ہوئی ہے اتنی ہی تکلیف اسے بھی ہوئی ہے اور اللہ تو معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اللہ کی رضا کے لیے اس سے معاف کر دے اور اگر کوئی آپ سے ناراض ہے تو اللہ کی رضا کے لیے اس سے معافی مانگ لی معاف کرنے والا بڑا ہوتا ہے یاد رکھیں یقین ایک طرف سے نہیں دونوں طرف سے ٹوٹتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں