خلطِ مبحث محض ایک منطقی لغزش نہیں، علمی اور فکری دنیا میں یہ کبھی کبھی ایک ایسا پوشیدہ ہتھیار بن جاتا ہے جو دلیل کے بوجھ سے بچنے، سوال کی طاقت کو بے اثر کرنے اور مکالمے کی روح کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ صحیح معنوں میں خلطِ مبحث اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب بحث کے مرکزی نکتے کو چھوڑ کر بات کسی اور سمت موڑ دی جائے، یا سوال ایک خاص تناظر میں ہو اور جواب بالکل مختلف فکری دائرے میں دے دیا جائے۔ فلسفہ اور علم میں موضوع کی صحت، تناظر کی وضاحت اور استدلال کی شفافیت بنیاد ہیں۔ جب ان بنیادوں سے ہٹ کر گفتگو کی جائے تو وضاحت کے بجائے ابہام پیدا ہوتا ہے اور مکالمہ اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔
یہ غلطی صرف سوال اٹھانے والے سے نہیں ہوتی، جواب دینے والا بھی اس میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ سوال کسی مخصوص زاویے میں پوچھا جائے اور جواب دینے والا فریم بدل کر اپنی پسند کے زاویے میں دلیل دینے لگے تو نہ سوال کی قدر باقی رہتی ہے نہ جواب کا وزن۔ اس طرزِ فکر سے علمی دیانت مجروح ہوتی ہے اور گفتگو کا ربط ٹوٹ جاتا ہے۔اسی لیے فلسفیانہ روایت میں خلطِ مبحث کو فکری بے اعتدالی اور عدمِ توازن سمجھا جاتا ہے۔
اصولی طور پر خلطِ مبحث کی نشاندہی تنقیدی دیانت کی علامت ہے مگر ہمارے علمی ماحول میں ایک اور صورت پیدا ہو گئی ہے۔ یہاں اسے مکالمہ روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی سوال گہرا، دلیل مضبوط، تنقید سنجیدہ یا فکر کا زاویہ وسیع ہو، فوراً کہا جاتا ہےیہ خلطِ مبحث ہے، یہ سوال موضوع کے فریم سے باہر ہے۔ لہجہ اکثر یوں ہوتا ہے جیسے سوال کرنے والا گستاخ ہو۔ حالانکہ سوال کا سفر سرحدوں سے باہر نکل کر نئی معانی تخلیق کرتا ہے۔ “پہلے سوال کرنا سیکھو” جیسے جملے کا مقصد سوال کرنے والے کی حیثیت کو گھٹا کر پیش کرنا ہوتا ہے ۔ یوں یہ اصطلاح علم کا آلہ نہیں رہتی، دفاعِ انا کی دیوار بن جاتی ہے۔
بعض اذہان اپنے مکتبِ فکراور اپنے ہی فکری دائرے کو حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں۔ مختلف علمیات کو غیر متعلق قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے۔ یوں خلطِ مبحث کا لیبل سوال کی گہرائی دیکھنے کے بجائے اس سے بچنے کا بہانہ بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ مکالمہ نہیں، نفسیاتی دفاع اور فکری فرار ہے۔ یعنی خلطِ مبحث کے معنی ہیں سیاق اور دائرۂِ فکر کی درست تنظیم کا نہ رہنا۔ مگر اس کا غلط استعمال یہ ہے کہ جس بات کو سمجھ نہ پاؤ، جس دلیل کا جواب نہ دے سکو یا جس زاویے سے ناواقف ہواسے فوراً خلطِ مبحث قرار دے دو۔ یہ طرزِ عمل مکالمہ نہیں، تعطلِ فکر ہے۔
علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ سوال کو اس کے سیاق اور فکری فریم میں سمجھا جائے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں وضاحت اور ترتیب کا راستہ اختیار کیا جائے۔ خلطِ مبحث صرف وہ نہیں جو سوال میں پیدا ہو جائے، اصل خلطِ مبحث وہ ہے جو ذہن کی جمود زدہ کیفیت اور انا کی حفاظت سے جنم لے۔ سوال فکر کی سانس ہے اور مکالمہ وہ فضا ہے جس میں علم نمو پاتا ہے۔ جہاں سوال کو خلطِ مبحث کہہ کر دبایا جائے، وہاں ذہنی تنہائی اور فکری کمزوری پروان چڑھتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ خلطِ مبحث کا مقصد سوال کو بند کرنا نہیں بلکہ اس کے اندر موجود مختلف پہلوؤں کو سمجھنا ہے۔ خلطِ مبحث کا درست مطلب سیاق اور فکر کی ہم آہنگی کا بکھر جانا ہے مگر اس کا غلط استعمال یہ ہے کہ جس بات کو میں نہ سمجھوں اسے غلط کہہ دوں، جس بات کا جواب نہ دے سکوں اسے غیر متعلق قرار دے دوں۔ بس چپ ہو جاؤ، یہ خلط مبحث ہے!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں