جذبات-— جدید دنیا کا اہم ترین علم؟-ندااسحاق

میری زندگی میں زیادہ تر مسائل کا تعلق جذبات سے ہی جڑا رہا۔ وقت گزرنے اور نفسیات پڑھنے کے ساتھ سمجھ آیا کہ یہ مسئلہ صرف میرا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ کونسا کام صحیح اور کونسا غلط ہے تو پھر خود کو روکنا کیوں مشکل ہوتا ہے؟ کس چیز کی کیا منطق ہے سب کو معلوم ہوتا ہے تو پھر ہم اس پر عمل کیوں نہیں کرپاتے؟ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر وقت گزاری غلط ہے، پورن دیکھنا نقصان دہ ہے لیکن پھر بھی کنٹرول نہیں؟ آپ کے رشتے ہوں، صحت ہو یا پیشہ ان تمام پہلو میں آپ کے پاس منطق کی کمی نہیں لیکن پھر بھی مسائل کا حل نہیں نکل پاتا۔ یقیناً حل نہ نکل پانے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں البتہ ان میں سے ایک اہم وجہ ”جذبات“ کا علم نہ ہونا ہے۔
تمام کائنات کی منطق بھی معلوم ہونے پر جو قابو میں نہ آئیں انہیں ”جذبات“ کہتے ہیں۔
جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ میں اپنے جذبات سے کافی حد تک ناواقف ہوں، پھر سلسلہ شروع ہوا انہیں سمجھنے اور پراسس کرنے کا۔ جذبات کے لیے لفظ پراسس (process) استعمال ہوتا ہے، کیونکہ نفسیات دانوں کے مطابق انہیں دبانا شعوری یا لاشعوری (repression & suppression) طور پر نہ صرف نقصان دیتا ہے بلکہ جذبات کسی اسپرنگ کی مانند اور بھی طاقت سے سطح پر آتے ہیں اگر انہیں دبایا جائے۔ اس لیے آپ ان پر بنا کسی زور آزمائی کے ان کے ساتھ بیٹھنا اور انہیں پراسس کرنا سیکھتے ہیں۔
جذبات کو ”بائیو فیڈبیک“ کہتے ہیں، یہ اگر نہ ہوتے شاید آج انسانی نسل بھی نہ ہوتی، مثال کے طور پر جنگل میں شیر کے آنے کی آہٹ آئی، لیکن چونکہ آپ میں جذبات نہیں تو آپ کو ”خوف“ محسوس نہیں ہوگا، جب خوف نہیں تو بھاگیں گے نہیں اور شیر کا کھانا بن جائیں گے۔ ہمارے ماحول میں جو بھی ہوتا ہے ہمارا دماغ اسکا تجزیہ کرتا ہے، پھر جسم میں ہارمون خارج ہوتے ہیں، اور آخرکار ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کس طرح یا کیسے موجودہ ماحول میں برتاؤ کرنا ہے۔ یہ عمل بہت تیزی سے طے پاتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی آپ کے ساتھ ناانصافی کرے یا برا سلوک کرے، تو آپ کا دماغ اسکا تجزیہ کرتا ہے، ہارمون خارج ہوتے ہیں، آپ کے جسم میں طیش اور غصہ آنے لگتا ہے، پھر اسی وقت آپ کا دماغ ماحول کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ لڑنا ہے، غصہ کرنا ہے یا وہاں سے چلے جانا ہے۔ جذبات ہی آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کس صورتِ حال میں کیا لائحۂ عمل ہوگا، منطق نہیں!
اب مسائل وہاں جنم لیتے ہیں جب بچپن میں جذبات سے منسلک ٹروما سے گزرنا پڑا ہو، والدین کے جھگڑے، سیکشول ابیوز، خاندان میں ذہنی و جسمانی بیماریاں، غربت، نظراندازی، انسیسٹ، والدین کی وفات، جتنے بھی اس قسم کے مسائل ہیں جہاں ایک فیملی غیر فعال (dysfunctional family) ہوجاتی ہے وہاں پھر جذبات سے منسلک مسائل جنم لیتے ہیں۔ لیکن اس سب سے نہ بھی گزرے ہوں تب بھی اگر جذبات کو سمجھتے نہیں تو تکلیف اٹھانی پڑے گی زندگی میں۔ لیکن کیسے؟؟
بچپن میں ایک بہت اہم مرحلہ ”عکس بندی“ (mirroring) کا ہوتا ہے، چونکہ ہم سماجی مخلوق ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ہم اپنے جذبات کا اظہار کرنا سیکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر آپ افسردہ ہیں اور میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر افسردہ شکل بنا کر آپ سے ہمدردی کا اظہار کروں گی تو میں ”عکس بندی“ کروں گی، جس سے آپ کو اپنی افسردگی اور جذبات کو پراسس کرنے میں مدد ملے گی، میرا منظم نروس سسٹم (Regulated Nervous System) آپ کے غیر منظم افسردہ نروس سسٹم (Dysregulated Nervous System ) کی مدد کرے گا جذبات کو پراسس کرنے میں۔ یہی وجہ ہے کہ مشین یا اے-آئی (Artificial Intelligence ) آپ کا تھراپسٹ یا دوست نہیں بن سکتا، انسانوں کے نروس سسٹم ایسے ڈیزائن ہوئے ہیں کہ انہیں دوسرے انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
لیکن سوچیں کہ میں آپ کو جھٹک کر کہوں کہ ”کیا فضول کی ڈرامے بازی لگائی ہوئی ہے تم نے، اٹھ کر کام کرو“……. میں نے آپ کے جذبات کو سمجھنے اور عکس بندی کرنے کی بجائے انہیں دھتکارا، آپ کے ساتھ جو جذباتی اور نفسیاتی رابطہ میں قائم کرسکتی تھی وہ ٹوٹ گیا اور آپ کے ذہن کو یہ پیغام ملا کہ آپ کے جذبات کی میرے نزدیک کوئی قدر نہیں، اور یوں ہمارا کوئی رابطہ نہیں بن سکا۔ شاید دنیا کے سامنے ہمارا رشتہ قائم ہو لیکن نفسیاتی اور جذباتی اعتبار سے آپ مجھ سے غیر منقطہ ہونگے۔ اور نہ ہی میرے ساتھ بیٹھ کر کبھی آپ کا نروس سسٹم منظم ہوسکے گا، آپ غیر منظم نروس سسٹم کے ساتھ اس خوف میں مبتلا رہیں گے کہ معلوم نہیں اب ندا کب مجھے جھاڑ پلا دے۔ اور یوں انزائٹی اور خوف برقرار رہے گا جسے منظم کرنے کے لیے بہت ممکن ہے آپ مختلف لت (Addictions) کا سہارا لیں۔
اسی مثال کو ایک چھوٹے بچے پر لاگو کیجیے جو اس دنیا میں ناتجربہ کار اور نیا ہے، وہ اپنے ماں باپ اور ارد گرد والوں پر منحصر ہے کیونکہ بالغ جب تک بچے کے جذبات کی ”عکس بندی“ نہیں کریں گے وہ انہیں پراسس کرنا نہیں سیکھ پائے گا اور نہ ہی اسے کبھی سمجھ آئے گی کہ اس کے جسم میں عجیب و غریب سے جو احساسات جنم لیتے ہیں وہ کیا ہیں؟ ان جذبات اور احساسات سے کیسے نمٹنا ہے؟ ایک چھوٹا بچہ بچپن میں منطق نہیں سیکھتا، دماغ اگر ہارڈویئر (Hardware ) ہے تو اس میں میں سب سے پہلے ثقافت، زبان اور جذبات کا سافٹ ویئر (Software) انسٹال ہوگا۔
گھر میں موجود بالغ افراد جب غیر صحتمندانہ طریقے سے جذبات کا اظہار کریں گے تو بچہ بھی اسی طریقے کو اپنائے گا۔ اور اگر اسے بلکل بھی کوئی ”عکس بندی“ نہیں ملے گی تو وہ نرگسیت پسند یا اس ڈساڈر (Narcissistic Personality Disorder) کا شکار ہوسکتا ہے، جو اپنے جذبات کو دبا کر یا منقطع ہوکر ایک روبوٹ کی طرح دوسروں کے جذبات کی عکس بندی کرتا ہے بنا سوچے سمجھے۔
اکثر ہم اپنا خوف اور اضطراب بھی اپنے بچوں میں منتقل کردیتے ہیں لاشعوری طور پر، کیونکہ انسانوں کے درمیان لفظی رابطے (verbal communication ) سے زیادہ پراثر اور مضبوط غیر لفظی رابطہ (non verbal communication ) ہوتا ہے۔ ہر فیملی کے اپنے رویے، سوچ اور تصوارات ہوتے ہیں، ہم فیملی سے سیکھتے ہیں کہ ہم کون ہیں، محبت کرنا، دوسروں کی محبت محسوس کرنا، ہم انہی سے سیکھتے ہیں۔
ایموشنل انٹیلیجنس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ دوسروں کے جذبات کو سمجھ کر ہیرا پھیری کریں یا پھر آپ کے جذبات کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچے گی کیونکہ آپ ایموشنل انٹیلیجنس کے بعد فولاد بن جائیں گے! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اسکا مطلب اپنے جذبات (emotional body) کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہوتا ہے۔ ایموشنل انٹیلیجنس آپ کو سماج-دشمن شخصیت (Anti-social personality ) نہیں بلکہ ایک سماج-دوست شخصیت (Pro-social personality ) بناتی ہے۔
اگر آپ کے اندر انزائٹی، خوف، جلن، مایوسی، نفرت یا حسد اجاگر ہورہی ہے لیکن آپ ان سے منقطع یا بے خبر ہیں تو ان کا مناسب اظہار نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنا نقصان بھی کرسکتے ہیں، کیونکہ آگاہی نہ ہونے کی صورت میں غیر صحتمندانہ طریقوں سے اسکا اظہار ضرور ہوگا!
قدیم انڈیا میں یوگی یا مہارشی پہاڑیوں یا جنگل میں منطق یا گہرا فلسفہ سیکھنے نہیں جاتے تھے، بلکہ وہ اپنے جذبات کو پراسس کرنے، اپنے جسم کے ساتھ رابطہ قائم کرنے، ذہن کو قابو کرنے کے لیے عوام سے دور جنگلوں اور پہاڑیوں میں وقت گزارتے تھے۔
ہماری استاد جن سے میں نے انٹیگریٹو کاؤنسلنگ پڑھی تھی انہوں نے پہلے دن کہا کہ پہاڑوں پر جاکر مثبت رہنا بہت آسان ہوتا ہے، لیکن انسانوں کے بیچ، دنیا کے دلدل میں جہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی آپ کے منفی جذبات کو ہوا دیتا ہے، جہاں لوگوں کا رویہ آپ کو جذباتی طور پر محرک (trigger) کرتا ہے، کوئی ایک چھوٹی سی بات آپ کا موڈ اور مزاج بگاڑ جاتی ہے سارا مزہ کرکرا ہوجاتا ہے، کیا اس سب افراتفری میں آپ اپنے جذبات کو پراسس کرنا سیکھ سکتے ہیں؟ اسی ناقص نامکمل منفی اور مایوسی سے بھری دنیا میں؟ — اسی کام کے لیے ایموشنل انٹیلیجنس چاہیے ہوتی ہے، جس میں آپ اپنے جذبات کو سمجھتے، نام دیتے اور انہیں پراسس کرنے کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
مجھے کئی سال لگے اس عمل کو سیکھنے میں جسے ”پراسس کرنا“ کہتے ہیں، کیونکہ جسم اور دماغ کو کچھ بھی نیا سکھانا ہو اس میں سالوں نہ سہی تو مہینوں کا دورانیہ لگتا ہے۔ اس سب کے لیے آپ کو اپنے ساتھ وقت گزارنا سیکھنا ہوگا۔ دن میں کچھ وقت نکالنا ہوگا جب آپ اپنی سوچوں اور جذبات کے ساتھ بیٹھیں۔ یا پھر کونسے رویے، لوگ یا حالات آپ کو کب اور کیوں محرک کرتے ہیں اس پر غور کریں۔ آپ چاہیں تو ایک جرنل بنا کر روز لکھ سکتے ہیں یا پھر خاموشی سے بیٹھ سکتے ہیں۔ غور کرنے پر جب آپ اپنے ایموشن کو سمجھ کر اسے نام دیں گے پھر کچھ وقت پراسس ہونے کے لیے دیں گے تو یوں آپ کو اپنے جذبات پر قابو آنے لگے گا، آپ ردِ-عمل دینا اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے متاثر ہونا چھوڑ دیں گے— اسی کو ایموشنل انٹیلجنس کہتے ہیں۔
جن لوگوں کو کمپلیکس ٹروما (cptsd) ہو ان کے لیے یہ پراس مختلف اور پیچیدہ ہوسکتا ہے، انہیں کسی تھراپسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے اپنے جذبات کو سمجھنے اور پراسس کرنے میں۔
اس جدید دور میں جہاں جذبات کو دبانے، اکسانے، اس سے دھیان ہٹانے کے لیے ہر وقت فون آپ کی رسائی میں ہے وہاں اس سے ہٹ کر خود کو وقت دینا بہت ضروری ہوچکا ہے۔ ہم یوگی اور سنیاسی کی مانند پہاڑوں اور جنگلوں میں تو نہیں جا سکتے لیکن اپنے گھر کی چار دیواری میں اپنی سوچوں اور جذبات کے ساتھ چند لمحے گزار کر اس تیز رفتار دنیا میں سکون کے لمحات ضرور حاصل کرسکتے ہیں، اپنے جذبات کو بہتر طور پر سکتے سمجھ اور محسوس کرسکتے ہیں کیونکہ…………
جذبات سے آپ کہیں بھاگ نہیں سکیں گے، باہر کی دنیا سے فرار ممکن ہے لیکن جو ہمارے اندر موجود ہے اس سے فرار کیسے ممکن ہو!

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply