وزیر خزانہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ گندم، چینی سمیت دیگر بنیادی ضروریات زندگی کو حکومت مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، اس قدم کو مارکیٹ کی استعداد بڑھانے سے تعبیر کیا جا رہا ہے درحقیقت یہ قدم منڈی کی قوتوں کے نام پر اجاہ داریوں کے ہاتھوں کسانوں اور عوام کا مقدر دینے کی طرح ہے۔ یاد رہے کہ اسی طرح کے اقدام مودی سرکار کی جانب سے بھی بھارتی پنجاب میں نافذ کئے جانے کی کوشش کی گئی جسے کسانوں کی تحریک نے شکست دی۔ پاکستان میں زرعی شعبہ پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے. کسان قرضوں کے تلے دبا ہے اور اس کی محنت کا فائدہ ایک چھوٹی سی اقلیت اٹھا رہی ہے۔
یہ حکومتی فیصلہ کسانوں اور عوام کی بربادی ہے۔ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی پہلے ہی خوراک کی قلت اور مہنگائی کی آگ میں جل رہی ہے اور اب یہ زرعی پالیسی اس آگ میں پیٹرول کا کام کرے گی۔ یہ ڈی ریگولیشن کا ننگا ناچ درحقیقت ملٹی نیشنل اجارہ داروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کا ایک اور حربہ ہے۔ اس کے نتیجے میں روٹی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور غریب عوام دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو جائیں گی۔
یہ کہنا کہ پرانی پالیسیوں نے کسانوں کے مفاد میں نہیں کام کیا، ایک فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نئی پالیسی بھی انہیں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی۔ بازار کی نام نہاد “آزادی” درحقیقت اجارہ داروں کو مہنگے داموں غریب عوام کا استحصال کرنے کی مکمل چھوٹ ہے۔ کسانوں کو کم قیمت پر اپنی فصل بیچنی پڑے گی جبکہ عوام کو مہنگے داموں گندم اور چینی خریدنے پر مجبور کیا جائے گا۔
یہ اصلاحات غریب کسانوں کے خلاف ایک معاشی جنگ کا اعلان ہیں۔ جو کسان پہلے ہی قرضوں اور مہنگی ہوتی ہوئی کھاد و بیج کی وجہ سے مفلسی کا شکار ہیں، اب انہیں غیر منظم بازار میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ دیہی علاقوں میں غربت میں مزید اضافے، کسانوں کی خودکشیاں بڑھنے اور زرعی زمینوں کے مرکز میں تبدیلی کی صورت میں نکلے گا۔
حکمران طبقے کی یہ کارستانی درحقیقت پاکستان کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں مزید جکڑنے کی ایک کڑی ہے۔ یہ فیصلے عوام کے مفادات کے خلاف ہیں اور محنت کش کسانوں اور مزدوروں کو متحد ہو کر اس استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد تیز کرنی ہوگی۔ زراعت کو نجی سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا کوئی ترقی نہیں بلکہ معیشت کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔

پاکستان میں زرعی بحران،گندم اور چینی کی قیمتیں،ڈی ریگولیشن کے نقصانات،کسانوں کا استحصال،مہنگائی اور خوراک کی قلت،نیو لبرل پالیسیوں کا تجزیہ، اجارہ داری اور منڈی کی آزادی،دیہی غربت اور خودکشیاں،کسان تحریک اور طبقاتی جدوجہد،سرمایہ داری اور زرعی پالیسی،پاکستان میں خوراک کا بحران،عوامی مزاحمت اور معاشی انصاف،کسانوں کے حقوق،زراعت اور طبقاتی سیاست
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں