حال ہی میں قومی اسمبلی نے آئین میں 27 ویں ترمیم پاس کی ہے۔ یہ تبدیلی خاص طور پر عدلیہ کے ڈھانچے، ججوں کی تعیناتی اور پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات سے متعلق ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد، بہت سے لوگوں کو لگ رہا ہے کہ ملک ایک ایسے سسٹم کی طرف جا رہا ہے جہاں عوام کے حقوق کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔ جو مراعات یافتہ طبقہ پہلے ہی آئین میں کسی تبدیلی کے بغیر سسٹم پر حاوی ہے، اب وہ آئین کو استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کو مستقل کر رہا ہے۔ ایک عام شہری کا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے نمائندے کبھی عوام کے لیے بھی آئین میں کوئی تبدیلی کریں گے؟ کیا قرضوں کے بوجھ، لوڈ شیڈنگ، تباہ حال انفراسٹرکچر اور کاروبار کی تباہی کے ساتھ یہ ملک واقعی قائد اعظم کا پاکستان بننے کے بجائے ایک بادشاہت بنتا جا رہا ہے؟۔ حکومتی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ آئین میں 27 ویں ترمیم کا مقصد عدلیہ میں بہتری لانا ہے۔ اس کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کی سلیکشن کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کو زیادہ طاقت دی گئی ہے، جبکہ چیف جسٹس کی مدت اور بینچوں کی تشکیل پر کچھ پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اس کے ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو پارلیمنٹ کے ماتحت کر کے جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔ لیکن تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دراصل یہ طاقتور لوگوں کی طرف سے عدلیہ کی آزادی پر ایک حملہ ہے۔ اور یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک معاشی مسائل کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کی وجہ سے حالات خراب ہیں، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور عام لوگوں کی حالت بری ہے۔ کراچی جیسا شہر جو پاکستان کی معیشت کے لیے بہت اہم ہے، وہاں روزانہ تقریباً 20 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی۔ شہر کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے: سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے ہیں، گندا پانی گلیوں میں بہہ رہا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بالکل ناکارہ ہو چکا ہے۔ جب بجلی ہی نہیں ہوگی اور انفراسٹرکچر اتنا خراب ہوگا، تو کاروبار کیسے چلیں گے؟ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، دکانیں خالی ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ براہ راست عوام پر اثر انداز ہو رہا ہے، جبکہ حکمران طبقے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے مراعات یافتہ طبقے کو مزید طاقت ملے گی۔ پارلیمانی کمیٹیوں میں بیٹھے لوگ، جو خود بھی منتخب تو ہوئے ہیں لیکن انھیں عوام کے مسائل کا کوئی اندازہ نہیں ہے، اب وہ عدلیہ کو بھی کنٹرول کریں گے۔ یہ ایک بادشاہت کی طرح ہے جہاں عوام کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں۔
اس معاملے میں ایک عام آدمی کا سوال یہ ہے: جب ہم ووٹ ڈال کر قومی اسمبلی کے ممبران کو منتخب کرتے ہیں، تو وہ عوام کے لیے آئین میں کب تبدیلی کریں گے؟ اب تک جتنی بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں، ان میں سے زیادہ تر اداروں کو طاقت دینے یا سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ کیا کبھی صحت، تعلیم، روزگار یا بجلی جیسے مسائل کے لیے بھی آئین میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ نہیں! طاقتور لوگ بغیر کسی تبدیلی کے سسٹم پر حکومت کر رہے ہیں۔ فوج، بیوروکریسی اور سیاستدان مل کر ملک چلا رہے ہیں، جبکہ آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو ایک جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی ہوگی، عوام کے حقوق محفوظ ہوں گے اور کوئی بادشاہی نظام نہیں ہوگا۔ لیکن آج کا پاکستان اس خواب سے بہت دور ہوتا جارہا ہے۔ قرضوں کا بوجھ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ بیرونی قرضے 130 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکے ہیں، اور ہر بجٹ میں ان پر سود کی ادائیگی عوام کی جیب سے کی جاتی ہے۔ مہنگائی 30 فیصد سے زیادہ ہے، غربت بڑھتی جا رہی ہے اور نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ اگر یہ بادشاہی نظام جاری رہا تو یاد رکھیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب عوام کی برداشت ختم ہو جاتی ہے، تو وہ بغاوت کر دیتے ہیں۔ فرانسیسی انقلاب میں ماری اینٹونیٹ اور لوئی XVI کے سر قلم کیے گئے۔ روسی انقلاب میں زار خاندان کا خاتمہ ہوا۔ ایران میں بادشاہت ختم کر دی گئی۔ سری لنکا ، بنگلہ دیش اور نیپال کی تازہ مثال دنیا کے سامنے ہے،یہ سب حکمران طبقے تھے جو عوام کو بھول گئے تھے۔ پاکستان میں بھی 1971 میں ملک کا ٹوٹنا ایک سبق ہے جب عوام کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ بہتر ہوگا کہ قائداعظم کے پاکستان کو بادشاہی نظام کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ اب عوام خاموش نہیں رہیں گے۔ سوشل میڈیا، احتجاج اور ووٹ کی طاقت اب بھی موجود ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ عوام کے فائدے کے لیے آئین میں تبدیلی کرے۔ صحت اور تعلیم کو بنیادی حق بنایا جائے، بجلی اور اچھے انفراسٹرکچر کو یقینی بنایا جائے اور قرضوں سے نجات کے لیے آئینی پابندیاں لگائی جائیں۔ طاقتور لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے شفافیت اور احتساب کو آئین کا حصہ بنایا جائے۔ اگر حکمران نہ جاگے تو عوام خود جاگ جائیں گے۔ پاکستان زندہ باد، عوام زندہ باد! لیکن بادشاہی نظام نہیں چلے گا۔ یہ ملک قائداعظم کا ہے، مراعات یافتہ طبقے کا نہیں۔

عدلیہ کی آزادی پر حملہ،پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات،پاکستان میں مہنگائی،کراچی میں لوڈشیڈنگ،عوامی حقوق اور آئینی اصلاحات،قائداعظم کا وژن،پاکستان میں بے روزگاری،آئی ایم ایف قرضے اور عوام،طاقتور طبقے کی اجارہ داری،جمہوریت بمقابلہ بادشاہت،آئین میں عوامی مفاد کی شمولیت،سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل،پاکستان کا معاشی بحران،نوجوانوں کی بے روزگاری،عوامی بغاوت کی تاریخ،فرانسیسی انقلاب اور سبق،1971 کا سانحہ اور عوامی حقوق،آئینی شفافیت اور احتساب،پاکستان میں فلاحی ریاست کا خواب
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں