مارکس کے نزدیک فن اور ثقافت کوئی مقدس یا الگ دائرہ نہیں، بلکہ سماجی پیداوار (social production) کا حصہ ہیں۔ جیسے کارخانے میں مشینیں مادی اشیاء تیار کرتی ہیں، ویسے ہی فن بھی ایک پیداوار ہے ۔۔۔ سماج کے معاشی، طبقاتی اور مادی حالات سے جنم لینے والا نتیجہ۔ مارکس کے ہاں فن اور ثقافت کا درجہ کسی روحانی یا ماورائی شے کا بجاۓ دیگر اشیاء اور commodities جیسا ہے جو مخصوص معاشرتی نظام کے اندر بنتی اور گردش کرتی ہیں۔
ہر دور میں حکمران طبقہ صرف دولت نہیں بلکہ خیالات اور جمالیات پر بھی قابض ہوتا ہے۔ وہ طے کرتا ہے کہ ’’خوبصورتی‘‘ کیا ہے، ’’اچھا‘‘ کیا ہے اور ’’سچ‘‘ کیسا دکھتا ہے۔
اگر فن غربت کو تقدیر کا نتیجہ بتائے تو وہ طاقت کے نظام کو جائز بناتا ہے، لیکن اگر وہ دکھائے کہ غربت کا تعلق معاشی ڈھانچے سے ہے تو وہ مزاحمتی شعور پیدا کرتا ہے۔
مارکس کی خوبی یہ ہے کہ وہ فن کو سماج سے جڑا سمجھتا ہے، مگر کمی یہ کہ وہ اسے صرف طبقاتی عکاسی مانتا ہے، آزاد تخلیقی تجربہ نہیں۔ اس کے نزدیک فن حقیقت کی تصویر ہے مگر حقیقت سے آگے نہیں جا سکتا۔
مارکیوز اور جمالیاتی آزادی
مگر مارکوز کے نزدیک فن صرف پیداوار نہیں بلکہ پیداواری طاقت (productive force) ہے ۔۔۔یعنی فن خود نئی حقیقتیں، نئے احساسات اور آزادی کے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فن نظام کا محض نتیجہ نہیں ، بلکہ نظام بدلنے کی قوت بن سکتا ہے۔
اس کے نزدیک فن محض حقیقت کی عکاسی نہیں بلکہ اس کی نفی ہے، کیونکہ موجودہ حقیقت خود نامکمل ہے۔ طاقت کے نظام نے جو دنیا دکھائی ہے، فن اسی ترتیب کو توڑ کر نئی ترتیب تجویز کرتا ہے۔
جب کوئی شاعر دکھ کو استعارے میں بدل دیتا ہے، یا کوئی فلم مظلوم کو خواب دیکھنے کی جرات دیتی ہے تو یہی “art transcends reality” ہے ۔۔۔۔ یعنی فن اعلان کرتا ہے کہ زندگی جیسی ہے، ویسی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ویسی ہو سکتی ہے جیسی فن دکھاتا ہے۔۔۔۔ ایک متبادل دنیا کا امکان ۔
مارکیوز کہتا ہے کہ جمالیات بظاہر ’’غیرعملی‘‘ لگتی ہے مگر دراصل سب سے گہری سیاست ہے، کیونکہ وہ احساس اور تخیل کو آزاد کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نظم یا موسیقی ہمیں رک کر محسوس کرنے پر مجبور کرے تو وہ سرمایہ داری کے خلاف انسانی روح کی بحالی بن جاتی ہے۔
مارکسی نقاد فن کے مواد پر زور دیتے تھے، مگر مارکیوز نے بتایا کہ اصل انقلابی چیز Form (صورت، ساخت، آہنگ) ہے، کیونکہ یہی روزمرہ کے میکانکی نظم کو توڑتی ہے۔
“Form itself can be revolutionary.”
یعنی اگر فن اپنے اسلوب یا آہنگ میں طاقت کے نظام سے مختلف ہے تو وہ خود مزاحمت ہے، چاہے موضوع سیاسی نہ ہو۔
Picasso کی Guernica صرف جنگ نہیں دکھاتی بلکہ ٹوٹے اجسام اور چیختی اشکال کے ذریعے خود ’’form of protest‘‘ بن جاتی ہے۔
مارکیوز بیتهوون کی symphonies یا بریخت کے تھیٹر کو بھی ایسی ’’حسیاتی مزاحمت‘‘ کی مثال کہتا ہے ۔۔ وہ نظام کے اندر رہ کر اسی کے خلاف بغاوت پیدا کرتے ہیں۔
اسی طرح جب کوئی لوک گیت یا عورت ظلم کے خلاف اپنی آواز گاتی ہے تو وہ بھی جمالیاتی مزاحمت ہے، کیونکہ وہ نظام کی عائد کردہ خاموشی توڑ دیتی ہے۔ صفیہ حیات کے یہ اشعار اسی احساس کو ظاہر کرتے ہیں:
“مجھے وہاں نہیں رہنا
جہاں ریشمی اطلس پہنے
میرے محبوب کو جنسی دعوت دیں
اور میں نگینے جڑے تخت پہ بیٹھی انتظار کروں”
Form as Resistance
بلھے شاہ کا کلام محض روحانیت نہیں بلکہ سماجی و طبقاتی مزاحمت بھی ہے۔ انہوں نے رقص، محبت اور استعارے کے ذریعے مذہبی اجارہ داری اور ذات پات کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کے ہاں form .. یعنی رقص، قوالی، موسیقی … خود مزاحمت ہے۔
سائیں ظہور، عابدہ پروین اور شاہ لطیف بھٹائی کی گائیکی میں بھی یہی روح ہے.. جہاں دھن، تکرار اور وجد انسان کو مذہبی و طبقاتی قید سے آزاد کرتے ہیں۔
قوالی ایک عوامی اور روحانی form ہے جو اشرافیہ کے “کلاسیکل” معیار کو توڑتی ہے۔ نصرت کی “علی مولا” یا “دم مست قلندر” صرف نغمے نہیں بلکہ ایک اجتماعی وجد(collective trance) ہیں، جہاں انسان طبقے، نسل اور مذہب سے بلند ہو کر وحدتِ انسانیت کا تجربہ کرتا ہے۔
جب کسی فلم کے کلائمکس پر مغربی آرکسٹرا کے بجائے قوالی کی لے اُٹھتی ہے، تو یہ ثقافتی اعلان بن جاتی ہے کہ انسان کی اصل وحدت محبت اور روحانیت میں ہے، نہ کہ طبقے یا نسل میں۔
اسی طرح پُشپا میں ہیرو کا جملہ “Taggede le!” (جھکے گا نہیں) صرف مکالمہ نہیں بلکہ طبقاتی فخر کا اعلان ہے۔ اس کا انداز اور جسمانی حرکت طاقت کے جمالیاتی ڈھانچے کو چیلنج کرتی ہے۔
پنجابی فلموں میں مولا جٹ یا نظام ڈاکو جیسے کردار جاگیرداروں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو وہ محض کہانیاں نہیں بلکہ بیانیے کا الٹ جانا ہیں ۔۔ جہاں طاقتور نہیں بلکہ محکوم مرکزی کردار بنتا ہے۔ یہی ’’جمہوری جمالیات‘‘ ہے۔
فیض کا شعر “لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے” بھی صرف نعرہ نہیں، بلکہ حسن، امید اور بغاوت کا جمالیاتی اظہار ہے جہاں فن خود انقلابی بن جاتا ہے۔
ٹری ایگلٹن — Art Against Art
ٹری ایگلٹن کے نزدیک جمالیات بذاتِ خود سیاسی ہیں۔ وہ کہتا ہے:
“Aesthetics is not an escape from politics; it is politics by other means.”
جو طبقہ طے کرتا ہے کہ کیا خوبصورت یا مہذب ہے، وہی طاقت رکھتا ہے کہ کیا قابلِ قبول ہے۔ ایگلٹن کے مطابق سرمایہ داری نے ’’جمالیاتی آزادی‘‘ کا نعرہ دے کر اجتماعی شعور کو غیرسیاسی بنا دیا۔ فنکار کو کہا گیا کہ وہ سیاست سے اوپر اٹھے، حالانکہ یہ مطالبہ خود سیاسی ہے، کیونکہ یہ اسے سماجی جدوجہد سے کاٹ دیتا ہے۔
ایگلٹن کے نزدیک ’’فن برائے فن‘‘ کا نظریہ سرمایہ داری کا پیدا کردہ فریب تھا، جس نے فن کو عوام سے جدا کر دیا۔ جمالیات اب خواص کی تفریح بن گئیں، جبکہ اصل میں یہ محکوم انسانوں کی آزادی کا وسیلہ تھیں۔
وہ کہتا ہے: ’’آرٹ اگینسٹ آرٹ‘‘ بھی مزاحمت ہے ۔۔ یعنی جب کوئی فن طاقتور طبقے کے جمالیاتی معیار کو الٹ دیتا ہے تو وہ بیانیہ ہی بدل دیتا ہے۔
مثلاً اشرافیہ کے نزدیک موسیقی پیچیدہ کلاسیکی راگ ہے، مگر عوامی فن قوالی یا لوک گیت کی صورت میں آتا ہے، جو انسانی تجربے سے جڑا ہوتا ہے۔ یہی ’’سادگی‘‘ طاقت کے بیانیے کو توڑ دیتی ہے۔
اسکے نزدیک خوبصورتی بذاتِ خود نظریاتی عمل ہے۔ اشتہارات میں حسن سرمایہ دارانہ خواہش کا استعارہ بن جاتا ہے، جبکہ حقیقی فن اس جھوٹے حسن کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایگلٹن کے الفاظ میں:
“فن ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ انسان محض مظلوم نہیں، بلکہ معنی پیدا کرنے والا وجود ہے۔”
متبادل جمالیات اور عوامی مزاحمت
بولی وُڈ کا مرکزی سنیما شہری خوابوں کے جادو میں محبت کو دولت، لباس اور مغربی دلکشی سے جوڑ دیتا ہے، مگر جنوبی ہند کا سنیما اس کے برعکس متبادل جمالیات تخلیق کرتا ہے۔ پُشپا اور کالا جیسے کردار محنت کش، دکھی اور سماجی حاشیے پر موجود انسانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے لباس دیہی ہیں، ان کی زبان عوامی ہے، ان کی موسیقی قوالی یا لوک دھنوں سے جڑی ہوئی۔ یہ سب مل کر ’’ریاستی طاقت‘‘ اور ’’کارپوریٹ جمالیات‘‘ کے خلاف ایک نئے بیانیے کی تشکیل کرتے ہیں۔
جب بولی وُڈ کے گلیمرس ہیروز کے مقابل جنوبی سنیما میں دھوتی، مٹی سے اٹے چہرے اور عام بولیوں والے کردار مرکزی مقام پاتے ہیں، تو یہ دراصل طاقت کے قائم کردہ جمالیاتی اصولوں کی مزاحمت ہے ۔۔۔ ایک ایسا اعلان کہ فن، جمالیات، اور مزاحمت الگ نہیں بلکہ ایک ہی تخلیقی عمل کے مختلف چہرے ہیں۔
جاری ہے
مارکس اور فن کی تعبیر،مارکیوز کا جمالیاتی نظریہ،جمالیات اور مزاحمت،فن بطور پیداواری طاقت،طبقاتی شعور اور فن،قوالی بطور جمالیاتی مزاحمت،جنوبی سنیما اور متبادل جمالیات،بلھے شاہ کی طبقاتی بغاوت،صفیہ حیات کی شاعری،فیض احمد فیض اور انقلابی جمالیات،ٹری ایگلٹن اور سیاسی جمالیات،فن برائے فن کا تنقیدی جائزہ،لوک گیت اور عوامی مزاحمت،مولا جٹ اور پنجابی فلموں کا بیانیہ،Pushpa اور طبقاتی فخر،قوالی، رقص اور وجد بطور مزاحمت،سرمایہ داری اور جمالیاتی اجارہ داری،آرٹ اگینسٹ آرٹ،سائیں ظہور، عابدہ پروین، شاہ لطیف،اشتہارات میں حسن کا استعارہ
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں