ہمیں اپنا نہیں جانِ تمنا غم تمہارا ہے ،،

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

انعام رانا سے میرا تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، اس لحاظ سے مجھے سب سے پہلے مکالمہ کو جوائن کرنا چاہئے تھا جیسا کہ انعام رانا کی خواہش بھی تھی ، مگر میرا معاملہ بہت عجیب ہے ، میں جدھر جاتا ہوں ملامت اور مخالفت و مخاصمت میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے ، میں اپنے دوستوں کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا ، اپنی ذات کی تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ ہم اس کو پہلے ہی دفنا کر میدان میں اترے ہیں ، البتہ جب میرے نئے نئے مضامین کو شیئر کر نے کے بعد میرے دوستوں کی درگت بنتی ہے اس پہ میرا دل جلتا ہے کہ میں نے اپنے محبت کرنے والوں کو کس مصیبت میں ڈال رکھا ہے ـ اس کی وجہ سے کئی بار بوریا بستر سمیٹ کر سوشل میڈیا کی دنیا سے نکل جانے کو جی چاہتا ہے ـ مگر اس پر بھی ثابت قدم نہیں رہ پاتا کہ احباب اس قدر اصرار کرتے ہیں کہ انکار کرنا تکبر و غرور لگنا شروع ہو جاتا ہے ـ ایسا ہی حال اپنے یار انعام رانا کا ہے کہ جب لوگ زبان کو بندوق بنا کر حملہ آور ہوتے ہیں تو کہتا ہے ’’ خصماں نوں کھاؤ ‘‘ پھر منت ترلہ کر کے کھڑا کرنا پڑتا ہے ـ اب اگر ہم دونوں ایک جگہ جمع ہو گئے تو مکالمے کا کیا بنے گا ؟
ہمیں اپنا نہیں جانِ تمنا غم تمہارا ہےـ
چنانچہ ہمیں خدشہ یہ ہے کہ مکالمہ ہماری وجہ سے کسی نئی مصیبت کا شکار نہ ہو جائے ـ لکھنے کو تو ہمارے پاس بہت کچھ ہے دیکھنا یہ ہے کہ مکالمہ اس کو سہار بھی سکے گا یا نہیں ؟ کوئی چوھدری صاحب اپنی نئی شیروانی سلانے درزی کے پاس گئے اور درزی کی گڈ ول کے پیشِ نظر طے کیا کہ کٹائی ان کی آنکھوں کے سامنے ہو گی ، درزی نے جب چوھدری صاحب کے نیک ارادے دیکھے تو ان کے ساتھ ’’ مکالمہ ‘‘ کرنے کا فیصلہ کیا ـ درزی نے جو کہانی شروع کی تو چوہدری صاحب اس کی کہانی کے سرور میں کچھ یوں گم ہوئے کہ درزی نے ’’ اپنا کام ‘‘ مکمل کر لیا ،مگر چوہدری صاحب کو کہانی کا کچھ ایسا مزہ آیا کہ اصرار شروع کر دیا کہ بھائی کوئی اور کہانی سناؤ ،، چوہدری صاحب کہانیاں تو میرے پاس بہت ہیں مگر پیچھے پھر شیروانی کی بجائے واسکٹ ہی بچنی ہے ، سوچ لیں درزی نے نہایت درد دلی سے جواب دیا ـ
رانا صاحب سوچ لیں۔۔۔ کہانیاں تو بہت ہیں ۔۔
کہیں مُکالمہ کہیں صرف مُکا ہی نہ رہ جائے !
احباب بھی میرا ٹریک ریکارڈ دیکھ کر مشورہ دیں کہ میرا مکالمہ جائن کرنا مفید رہے گا ؟

SHOPPING

Avatar
قاری حنیف ڈار
قاری محمد حنیف ڈار امام و خطیب مسجد مرکز پاکستان ابوظہبی متحدہ عرب امارات

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *