اگر ہم اپنی زندگی کے خالق خود ہیں تو ہمیں یہ حق ہونا چاہیے کہ اپنی مرضی کی زندگی گزاریں، جو چاہیں سو کر گزریں۔ حلال و حرام میں ردّ و بدل کر سکیں، کسی بھی وقت حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے سکیں۔ اگر ہم اپنی موت پر قدرت رکھتے ہیں، اسے ٹالنے کی قدرت رکھتے ہیں، تو ہمیں یہ حق ہونا چاہیے کہ زندگی کے قوانین اپنی مرضی سے تحریر کرسکیں۔ اگر ہم نئے قوانینِ فطرت پیدا کرنے کی قوت رکھتے ہیں تو ہمارا یہ حق مسلّم ٹھہرا، کہ ہم قوانینِ فطرت اپنی مرضی سے طے کر سکیں۔
ضد، انا اور کبر کی چوٹی سے ذرا سا نیچے اْتر کر دیکھیں تو صاف دکھائی دے گا کہ حقائق ِ حیات اس کے برعکس ہیں۔ ہم اپنے پیدا ہونے پر کوئی اختیار رکھتے ہیں، نہ اپنی موت کو اپنی مرضی سے طے کر سکتے ہیں۔ داخلی زندگی سے لے کر خارجی زندگی تک، زندگی کے اکثر شعبے ہماری دسترس سے باہر ہیں۔ ہماری ظاہری زندگی کو قائم رکھنے والے اعضاء کا تحرک و سکوت ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہمارے اپنے اعضائے رئیسہ ہماری اجازت کے بغیر ہی کام کیے جا رہے ہیں اور پھر ایک دن ہم سے اجازت طلب کیے بغیر ہی کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں۔ دل، گردے، پھیپھڑے سے لے کر ہمارے اعصاب اور پھر مجموعہ اعصاب، جسے دماغ کہتے ہیں، ہمارے کنٹرول میں نہیں۔ ہمارا اپنا دماغ ہمارے کنٹرول میں نہیں… بات بات پر گھوم جاتا ہے۔
ہم قوانینِ فطرت تخلیق نہیں کرتے، بلکہ پہلے سے تخلیق شدہ قوانین کا مطالعہ کر کے ان پر کچھ دسترس حاصل کر لیتے ہیں، اور پھر اْن کی مدد سے اپنے لیے کارآمد اشیاء اور ماحول تیار کرتے ہیں۔ ہم جن قوتوں اور قوانین کو بروئے کار لا کر اپنے لیے سازگار ماحول مہیا کرتے ہیں، وہ خود مستعار شدہ ہیں۔ ہم گویا ایک کرائے کے گھر میں ہیں اور اس گھر کی دیواروں کو اپنی مرضی سے پینٹ کر رہے ہیں… اور یہ یکسر بھول جاتے ہیں کہ ہمیں کسی بھی دن بغیر کسی پیشگی نوٹس کے، مالک مکان… مالکِ زمان… نکال باہر کر سکتا ہے۔ یہ حقیقت جانتے ہوئے، جانتے بوجھتے ہم اس پر قابض ہوئے پھرتے ہیں اور اپنی ملکیت کا ڈھول بجائے چلے جاتے ہیں۔
اس مستعار شدہ وجود کے باہر کی دنیا، یعنی
خارجی دنیا میں بھی ہمارا عمل دخل محض ذہنی اور زبانی کلامی ہے۔ داخلی دنیا کی طرح خارجی دنیا بھی ہمارے اختیار سے باہر ہے۔ اس قافلہِ حیات کے ہم تبصرہ نگار تو ہیں، میر کارواں نہیں۔ زندگی اور موت کے درمیان تار کے دونوں سرے بندھے ہوئے، درمیان میں اس تار کا ایک ارتعاش ہے… جو ہمیں زندہ اور بااختیار ہونے کی خبر دیتا ہے… سوال یہ ہے کہ جس کا آغاز اور اختتام دونوں بندھے ہوئے ہوں، اس کا درمیانی عرصہ آخر کس حد تک آزاد تصور کیا جا سکتا ہے؟
آمدم بر سرِ مطلب … جب ہم اپنی زندگی کے خالق و مالک خود نہیں، تو پھر اس کے خالق اور مالک کو دریافت کرنا چاہیے… اس سے کوئی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پھر اس سے یہ دریافت کرنا چاہیے کہ اس مستعار شدہ زندگی میں ہم کیسا رویہ اختیار کریں، ہم کون سے کام کریں اور کن کاموں سے بچیں ، تاکہ ہم اْس کی نظروں میں اور خود اپنی نظروں میں سرخرو ہو سکیں۔
بنظرِ غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اپنے خالق و مالک سے تعلق کی اصل بنیاد اطاعت ہے۔ بربنائے عقل، ذہانت یا صلاحیت ہم اس سے کوئی ایسا تعلق نہیں بنا سکتے جو قابلِ بھروسہ ہو۔ مخلوق کا مخلوق سے تعلق کسی صفت یا صلاحیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، کہ مخلوق اپنی صفت کے قیام کے لیے کسی ایسی صفت کی بھی محتاج ہوتی ہے جو اس کے پاس نہ ہو، لیکن دوسرے کے پاس موجود ہو۔ مثلاً محتاج سخی کا محتاج ہے کیونکہ اس کے پاس مال نہیں، اور سخی بھی اپنی صفتِ سخاوت کے اظہار کے لیے محتاج کا محتاج ہے۔ کوئی مخلوق عالمِ صمدیت میں قیام پذیر نہیں ہو سکتی ہے۔ مخلوق کے برعکس خالق مخلوق سے بے نیاز ہے، وہ مخلوق کی ہر صفت سے بے نیاز ہے۔ وہ اس وقت بھی اللہ ہی تھا، جب اسے اللہ کہنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ ذات جو خود انسان کی صلاحیتوں اور صفتوں کو پیدا کرنے والی ہے، اس سے تعلق پیدا کرنے کے لیے اس کے سامنے ہم اپنی کوئی صلاحیت اور صفت کیسے پیش کیا جا سکتا۔ اللہ اور بندے کے درمیان واحد اور بامعنی تعلق ، بندگی کا تعلق ہے۔ بندگی اپنی مرضی ترک کرنے کا نام ہے۔ اپنی من مانی سے دست کش ہونے کے بعد ہی بندے کو اپنے من میں ڈوبنے کا اذن ملتا ہے… سراغ زندگی پا جانے کا امکان اس کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس کے نزدیک اگر کوئی قابلِ تکریم ہے تو وہ متقی ہے… ان اکرمکم عندا للہ اتقٰکم… یعنی پرہیزگار ہی اللہ کے نزدیک عزت والا ہے— پرہیز گاری اس کی بندگی کا ایک عملی اظہار ہے۔ اس کے ساتھ تعلق کی سند تقویٰ ہے۔ بندگی اور تقویٰ کے سوا اس کے ساتھ تعلق کے سب دعوے، ہوا ہو جاتے ہیں۔
خالقِ کْل و مالکِ کْل ذات نے انسان سے معنوی ربط اور بامعنی مکالمے کے لیے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا اور آدمؑ تا خاتمؐ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رْسل اِرسال کیے، تا آن کہ انسان جان لے کہ اس کے خالق و مالک کو کس قسم کی زندگی پسند ہے، وہ کن کاموں سے راضی ہوتا ہے اور کون سے کام ایسے ہیں جو اس کی ناراضی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے حکم کو اپنی زندگی میں لاگو کرنا شریعت ہے، اس کے حکم کو محبت کے ساتھ قبول کرنے کی تربیت طریقت ہے۔
بندوں میں سے وہ بندے ، خاص بندے ، جنہیں بندگانِ خدا کہا گیا، جن کی طلب فقط ذاتِ حق ہے ، جن کی محبت خالصتاً فی اللہ اور الی اللہ ہے، یعنی جواللہ سے محبت کرنا چاہتے ہیں، انہیں بھی دَر قرآن بزبانِ رسولؐ بتا دیا گیا: ” آپؐ ان سے کہہ دیں! اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو پھر میری اتباع کرو، اللہ خود تم سے محبت کرے گا” یعنی محبت کرنا اللہ کا کام ہے، یہ مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ محبوبِ ازل کسی محب کا محتاج نہیں۔ اطاعت کے زمرے میں بھی ایسا ہی بیان دَر قرآن موجود ہے: “جس نے رسول کی اطاعت کی، پس اسی نے اللہ کی اطاعت کی”۔
القصہ… اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اطاعت کے بنا، محبت کی طرف کوئی راہ نہیں۔ بن اطاعت تعلق کا کوئی دعویٰ درست نہیں۔ اس کی بنائی ہوئی زندگی میں ، اس کی دی ہوئی زندگی میں، نعمتوں سے بھرپور زندگی کے عین درمیان میں اس کے حکم سے سرتابی… چہ معنی دارد؟ اسی کی دنیا میں، اْسی کے حکم کی نافرمانی؟…یہ غلطان نہیں، طغیان ہے… یہ معصیت نہیں، بغاوت ہے۔ معصیت قابلِ معافی ہوتی… توبہ کے راستے سے داخل ہو تو قابلِ مغفرت ہوتی ہے۔ غلطی پر سرزنش ہے، سرکشی پر سزا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں