محبت اور مزاحمت، عمرانی تناظر میں/پروفیسر وسیم آکاش

سیاست کھیل نہیں، ایک عہد ہے۔ یہ اقتدار کا سنگھاسن نہیں بلکہ خدمت کی وہ آزمائش ہے جہاں کردار کے جوہر اور بصیرت کی روشنی پرکھی جاتی ہے۔ تاریخ کی گواہی ہے کہ جن رہنماؤں نے عقل و تدبر، دانش و متانت اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا، وہ نہ صرف اپنی جماعتوں بلکہ اپنی قوموں کی تقدیر بدل گئے۔ لیکن جنہوں نے سیاست کو محض جوش اور نعرے کا کھیل سمجھا، وہ اقتدار تو پا گئے مگر قیادت ہار گئے۔خیبر پختونخوا کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں وعدے اور حقیقت ایک دوسرے سے سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نئے وزیرِ اعلیٰ، سہیل آفریدی، کے بیانات نے نہ صرف صوبے کے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ۔یہ کہ کیا اقتدار کی مستی نے کچھ سیاست دانوں کو ریاستی نظم اور قومی اداروں کے احترام سے غافل کر دیا ہے؟۔
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات، اختیار ولی خان کے مطابق، سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں ’’عشقِ عمرانی‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ’’کور کمانڈر ہاؤس پر حملے‘‘ جیسا بیان دیا۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ محض بیان بازی نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی علامت ہے۔ وہ رجحان جو اداروں کے خلاف بغاوت، نظام کے خلاف نفرت، اور نوجوان ذہنوں میں انتشار بو رہا ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک صوبے کا وزیرِ اعلیٰ، جس کے ذمے امن، ترقی اور فلاح کی ذمہ داریاں ہیں، وہ خود اشتعال انگیزی اور بغاوت کے نعروں کا چہرہ بن جائے۔ سیاست کا حسن جذبات میں نہیں، بلکہ ہوش میں ہے؛ سیاست وہ چراغ ہے جو عقل، شائستگی اور تدبر سے روشن ہوتا ہے، نہ کہ نعروں کے شور سے۔تیرہ برس تک خیبر پختونخوا میں مسلسل حکومت کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کے پاس اب یہ عذر باقی نہیں کہ وقت کم تھا یا مواقع نہ ملے۔ اتنے برس میں نہ کوئی نیا ہسپتال بنا، نہ کوئی معیاری یونیورسٹی، نہ ہی عوامی سہولت کے لیے کوئی بڑی شاہراہ وجود میں آئی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ’’نیا پاکستان‘‘ کا خواب کیا صرف نعروں کی تشہیر تھا؟ یا مقصد صرف سابق پاکستان کو کمزور دکھانا تھا؟۔
اگر سہیل آفریدی اور ان کی جماعت نے قبائلی و پسماندہ علاقوں کے لیے کچھ نہیں کیا، تو پھر ’’عشق عمرانی‘‘ کا فلسفہ آخر کس کے لیے ہے؟ یہ عشق عوام سے ہے یا کسی ایک شخصیت سے؟ کیا یہ سیاست نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے؟ عوام اب سمجھنے لگی ہے کہ یہ عشق دراصل فلاح کے مقابلے میں عقیدت کی سیاست ہے، جہاں دلیل کی جگہ وابستگی نے لے لی ہے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا الزام کہ وزیرِ اعلیٰ دہشت گرد عناصر کو پناہ دیتے ہیں، اگر درست ہے تو یہ صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ صوبے کی سلامتی پر سوالیہ نشان ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کو واضح جواب دینا ہوگا: صوبے میں کون ان عناصر کو جگہ دے رہا ہے؟ کون ان کے لیے سہولت کار بنا ہوا ہے؟ اگر یہ الزامات بے بنیاد ہیں تو وضاحت لازم ہے، کیونکہ خاموشی خود گناہ کے مترادف بن جاتی ہے۔پختون روایت غیرت، عزت اور مکالمے کی روایت ہے۔ مگر آج انہی خطوں کے سیاسی کارکن سوشل میڈیا پر گالی، نفرت اور تعصب کے نعرے بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ روایت نہیں، بگاڑ ہے۔ ’’عاشقِ عمرانی‘‘ کہلانے والے یہ نوجوان اگر اپنی آواز میں دلیل کی بجائے دشنام کو رچائیں گے تو سیاست نہیں، فتنہ پھیلے گا۔
سہیل آفریدی سے ایک سادہ مگر تلخ سوال باقی ہے: آپ نے اعلان کیا تھا کہ بانی سے ملاقات کے بغیر کابینہ نہیں بنائیں گے، تو پھر آج یہ کابینہ کس کے اشارے پر وجود میں آئی؟ عوام اب سوال پوچھنے سے نہیں ڈرتے۔ وہ وعدوں کی لوریوں سے جاگ چکے ہیں۔ ان کے ذہن میں صرف تین سوال گونج رہے ہیں ۔کہاں ہے ترقی؟ کہاں ہے روزگار؟ اور کہاں ہیں وہ خواب جو ’’نیا پاکستان‘‘ کے نام پر سنائے گئے تھے؟ریاست کے خلاف بغاوت وقتی نعروں سے جذباتی ہجوم تو اکٹھا کر سکتی ہے، مگر تاریخ نے ہمیشہ ایسے کرداروں کو مسترد کیا ہے جو ذاتی عقیدت میں قومی مفاد بھول گئے۔ ایک وزیرِ اعلیٰ کا عشق کسی فرد سے نہیں، اپنے صوبے اور اپنی قوم سے ہونا چاہیے۔ قیادت کا پہلا سبق یہ ہے کہ رہنما کا دل سب کے لیے دھڑکے، نہ کہ کسی ایک کے لیے۔
اگر وزیرِ اعلیٰ واقعی عوامی نمائندہ ہیں تو انہیں اپنے قول و فعل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا عشق پاکستان سے ہے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت سے۔ کیونکہ سیاست، جذبات کا کھیل نہیں بلکہ یہ امانت ہے، جواب دہی کا عہد ہے، عوام کی عدالت میں ہر روز ہونے والا امتحان ہے۔پاکستان کا خواب کسی شخصیت کی عقیدت میں نہیں بلکہ ایک فلاحی مملکت کی بنیاد میں پنہاں ہے۔ وہ مملکت جہاں خدمت، انصاف اور ترقی کا سورج ہر بستی پر یکساں چمکے۔ اگر ہم نے اپنی سیاست کو منافرت، اقربا پروری اور شخصی وفاداری کے شکنجے میں جکڑ دیا، تو یہ قوم اپنے خوابوں سے محروم ہو جائے گی۔وقت آگیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی خود سے یہ سوال کریں کہ ان کا بیانیہ خیبر پختونخوا کے مستقبل کے لیے روشنی ہے یا اندھیرا؟ اگر ان کے الفاظ صوبے کے امن، ترقی اور وحدت کے دشمن بن رہے ہیں، تو انہیں رک کر سوچنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ وہی رہنما زندہ رکھا ہے جنہوں نے شخصی عشق کے بجائے قومی محبت کو اپنا مذہب بنایا۔سیاست، عشقِ حقیقی کی طرح مقدس ہے ،مگر شرط یہ ہے کہ یہ عشق کسی انسان سے نہیں، اپنے وطن سے ہو۔

بشکریہ نئی بات

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply