ہر بار خبر صرف ایک خبر نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی کا آخری جملہ، آخری سانس یا کسی سچائی کی آخری گواہی بھی بن جاتی ہے۔کبھی کوئی صحافی اپنی رپورٹنگ کے دوران لاپتہ ہوتا ہے، کبھی کسی کے جسم سے سچ کے الفاظ نوچ لیے جاتے ہیں اور کبھی کسی کے قلم سے خون ٹپکنے لگتا ہے۔یہ سب کچھ ہمارے زمانے کی خوفناک ترین حقیقتوں میں سے ایک ہے سچ بولنے کی سزا اور سچ دبانے کی آزادی۔ابھی حال ہی میں راولپنڈی سے آنے والی ایک خبر نے ایک بار پھر یہ احساس تازہ کر دیا کہ اس ملک میں سچ بولنا اب زندگی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ڈان ٹی وی کے سینئر صحافی طاہر نصیر کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ صادق آباد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تین اجرتی قاتلوں کو گرفتار کر لیا جو کئی دنوں سے صحافی کے گھر کی ریکی کر رہے تھے۔ تحقیقات کے مطابق ان قاتلوں نے دو لاکھ روپے میں قتل کی سپاری حاصل کی تھی اور ابتدائی طور پر ننانوے ہزار روپے اپنے اکاؤنٹس میں وصول بھی کر چکے تھے۔
ملزمان احمد اور آکاش کو طاہر نصیر کو گولی کا نشانہ بنانا تھا جبکہ تیسرے ملزم وشال نے انہیں اسلحہ فراہم کیا۔ تینوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ گاڑی اور اسلحے سمیت صحافی کے گھر کے قریب موجود تھے۔ پولیس نے ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، مگر عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے تینوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
اقوامِ متحدہ نے دو نومبر کو اسی المیے کے نام کیا ہے ،
’’International Day to End Impunity for Crimes against Journalists‘‘
یعنی وہ دن جب دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ صحافیوں پر حملے کے بعد مجرم اگر آزاد گھوم رہے ہیں تو یہ صرف ایک انسان کا قتل نہیں، ایک سچائی کا قتل ہے، ایک معاشرے کا اندھا پن ہے۔گزشتہ
دہائی میں دنیا بھر میں ایک ہزار سے زیادہ صحافی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے نوّے فیصد کے قاتل آزاد ہیں اور انصاف کہیں فائلوں میں دفن ہے۔یہ وہ اعداد و شمار محض رپورٹ نہیں ہیں بلکہ سوال ہیں،وہ سوال جن کے جواب اکثر حکومتیں، ریاستیں اور مقتدر ادارے دینے سے گریز کرتے ہیں۔
پاکستان میں بھی یہ کہانی کسی عالمی رپورٹ سے کم نہیں۔یہاں ایک خبر چھپنے سے پہلے سو بار دیکھی جاتی ہے کہ کون ناراض ہو گا،ایک جملہ نشر ہونے سے پہلے طے کیا جاتا ہے کہ کتنا “قابلِ قبول” ہے اور ایک تجزیہ لکھنے سے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ “کس حد تک سچ بولنا محفوظ ہے؟”یہی وہ خوف ہے جس نے ہمارے معاشرتی شعور کو مفلوج کر دیا ہے۔ہم نے اپنی نسلوں کو یہ سکھا دیا کہ خبروں کے پیچھے بھی مفادات ہوتے ہیں۔مگر کبھی یہ نہیں بتایا کہ مفاد کے پیچھے کتنی لاشیں ہیں۔کوئی زمین کی کرپشن بے نقاب کرتا ہے تو زمین ہی اس کا قبر بن جاتی ہے۔کوئی اختیارات پر سوال اٹھاتا ہے تو اختیارات ہی اسے خاموش کرا دیتے ہیں۔اور جو بچ جاتا ہے، وہ اندر سے مر جاتا ہے ، وہ لکھتا ہے مگر جیتا نہیں۔
ایسا نہیں کہ صحافی صرف سیاست یا جنگ پر لکھتے ہیں۔وہ ماں کے بچھڑے بچے پر بھی لکھتا ہے، مزدور کے ٹوٹے خواب پر بھی اور اس کسان پر بھی جو بارش کے انتظار میں بوڑھا ہو گیا یا سیلاب میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھا۔مگر اس کے قلم کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ طاقت سے سوال کرتا ہے اور طاقت کو سوال پسند نہیں۔ طاقت صرف تالی چاہتی ہے اور بدقسمتی سے کہ طاقت کی دہلیز پر ایسے تاکہ بجانے والوں کی کمی نہیں۔پاکستان میں کئی صحافی ہیں جن کے نام آج بھی غیر واضح قتلوں کی فہرست میں ہیں،کچھ کی لاشیں کبھی ملی نہیں، کچھ کے کیس “نامعلوم افراد” کے نام کر دئیے گئے۔
اور کچھ نے ملک چھوڑ دیا تاکہ زندگی بچ سکے۔لیکن ایک سوال آج بھی زندہ ہے کہ کیا صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے خاموش رہنا ضروری ہو گیا ہے؟یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اظہار کی آزادی صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔اگر سچ بولنے والے محفوظ نہیں تو جمہوریت صرف ایک نعرہ ہے، ریاست صرف ایک خاکہ اور حقوق آئین کے پنوں پر لکھے ہوئے چند حروف۔جب کسی ملک میں صحافی خوف کے ساتھ لکھیں تو وہاں قاری بھی دھڑکتے دل سے پڑھتا ہے۔اور جب خبر پر خوف طاری ہو جائے، تو قوم کا شعور مرنے لگتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق صحافیوں پر حملے صرف انفرادی جرم نہیں بلکہ سماجی تباہی کے اشارے ہیں کیونکہ جب سچ دبایا جاتا ہے تو ظلم کو پرورش ملتی ہے اور جب ظلم پرورش پاتا ہے تو قومیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
یہ لمحہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ملکوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کس معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں ؟ ایسے جہاں خبریں لکھی جائیں یا ایسے جہاں خبریں لکھی نہ جا سکیں؟کیا ہم اپنے بچوں کو وہ معاشرہ دینا چاہتے ہیں جہاں “نامعلوم” کے خوف میں زبانیں بند رہیں؟یا وہ جہاں سچ لکھنا جرم نہ ہو؟انصاف کے نظام کو بھی اپنی خاموشی توڑنی ہوگی کیونکہ جب عدالتیں خاموش رہتی ہیں تو ظالم بولنے لگتے ہیں اور جب ضمیر خاموش ہو جائے تو لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔
صحافیوں کے لیے قانون کا تحفظ محض ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں یہ قوم کی فکری بقا کا سوال ہے۔سچ بولنا کبھی آسان نہیں رہا لیکن سچ کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہتا۔آج اگر ہم ان سب آوازوں کو یاد نہیں کرتے جو سچ بولتے ہوئے خاموش کرا دی گئیں تو کل ہمارا نام بھی کسی خاموش فہرست میں لکھا ہو گا۔دو نومبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف کا انتظار کافی نہیں،اس کے لیے بولنا ضروری ہے کیونکہ سچ جب خاموش ہوتا ہے تو جھوٹ قانون بن جاتا ہے اور جب جھوٹ قانون بن جائے تو قومیں تاریخ کے حاشیے پر چلی جاتی ہیں۔یہ کالم ان تمام معلوم اور نامعلوم چہروں کے نام ہے جنہوں نے سچ کے لیے قلم اٹھایا اور اپنی جان گنوا دی۔وہ آج نہیں ہیں مگر ان کے لفظ آج بھی زندہ ہیں۔شاید یہی لفظ ایک دن ہمیں یاد دلائیں کہ “خبر مر سکتی ہے مگر سچ کبھی نہیں مرتا۔”
بشکریہ نئی بات
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں