یہ ایمازون کا جنگل ہے۔ یہاں زمین پر روشنی بہت کم پڑتی ہے کیونکہ یہاں درخت بہت گھنے ہیں۔ اس جنگل میں پودوں اور درختوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف ایمازون کے جنگلات میں درختوں کی تعداد تقریباً تین سو نوے ارب ہے۔ یہاں کے درخت اتنے گھنے ہیں کہ بارش کا پانی زمین تک پہنچنے میں دس منٹ لگتے ہیں۔
یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے۔ ایمازون کا جنگل دنیا کے 9 ممالک میں پھیلا ہوا ہے جس میں برازیل سرفہرست ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگل کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے جب کہ پاکستان کا رقبہ 795 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ جنگل کتنا بڑا ہوگا؟
ایمازون یونانی زبان کا لفظ ہے یعنی A اور mazon. A کا مطلب بغیر یعنی نہیں، جبکہ Mazon کا مطلب ہے چھاتی۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر چھاتی والی خواتین۔ یہ نام اس لیے دیا ہے کیونکہ کچھ محققین لکھتے ہیں کہ پرانے زمانے کے جنگجو خواتین تیر اندازی کے لیے ایک چھاتی کاٹ دیتی تھیں ، یعنی یونانی زبان میں ایمازون جنگجو خواتین کی ایک بہادر قوم کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین کی آکسیجن کا بیس فیصد صرف ایمازون کے درخت اور پودے ہی پیدا کرتے ہیں۔ دنیا کے چالیس فیصد جانور، پرندے اور حشرات الارض ایمازون میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں 400 سے زیادہ جنگلی قبائل رہتے ہیں۔ ان کی آبادی 45 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ 21 ویں صدی میں بھی جنگلی انداز میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایمازون جنگل کے کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ سورج کی روشنی ان تک نہیں پہنچ سکتی اور دن کے وقت بھی رات کا آسمان ہوتا ہے۔
یہاں ایسے زہریلے کیڑے بھی پائے جاتے ہیں جو انسان کو کاٹ لیں تو چند منٹوں میں ہی مر جاتے ہیں۔ دریائے ایمازون پانی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے اور اس کی لمبائی سات ہزار کلومیٹر ہے۔ دریائے ایمیزون میں مچھلیوں کی تقریباً 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں۔ ایمیزون کے جنگلات میں موجود 60 فیصد مخلوقات ابھی تک بے نام ہیں، یعنی ابھی تک ان کا کوئی نام نہیں دیا گیا۔
یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہیں کہ پرندوں کو بھی پکڑ سکتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں اور اس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماہرین حیاتیات اس جنگل کے صرف دس 10 فیصد تک ہی پہنچ پائے ہیں۔ ایمازون جنگل میں قدرت کے ہزاروں راز دفن ہیں۔
اگر آپ ایمازون کے گھنے جنگلات میں ہیں اور بہت تیز اور موسلادھار بارش شروع ہو جائے تو بارش کا پانی تقریباً دس منٹ تک آپ تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس خوف ناک جنگل میں ابھی تک ایک بھی پاکستانی نہیں گیا۔ کیونکہ یہاں کے سانپ اور مکڑیاں اتنی خطرناک ہیں کہ بہادر آدمی بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں