نااُمیدی کے نام/طیبہ خالد

سنو !
پیاری اور یا عزیز تو تم ہو نہیں مجھے،
مجھے تم سے پوچھنا ہے کہ کیوں تم ہر وقت پیچھے پڑی رہتی ہو؟
ذرا سے حالات خراب ہوں، کوئی پریشانی آ جائے تم فوراً پہنچ جاتی ہو ذہن پر سوار ہونے کے لیے اور کفر (مایوسی) میں مبتلا کرنے کے لیے؟
اور کوئی کام نہیں ہے تمہیں؟
میں بہت دیر سے چاہ رہی تھی تم سے بات کروں، آج وقت ملا ہے تو سوچا تم سے دو دو ہاتھ کر لوں
اب چپ کیوں کھڑی ہو؟ جواب دو نا مجھے۔۔
اگر تم سمجھتی ہو کہ تم حاوی ہو کر مجھ سے امید چھین لو گی تو یہ تمہارا وہم ہے
ایسا کبھی نہیں ہوگا یاد رکھنا
یہ کیا کہ بندہ ساری زندگی بے شمار نعمتوں سے مالا مال رہے، اور ذرا تنگی ںاور آزمائش آئی تو تمہارا دامن تھام لے،
ہم ایسے لوگوں میں سے نہیں اور نہ ہی خدا ہمیں ایسی توفیق دے

julia rana solicitors

جیسے منیر نیازی کہتے ہیں نا،
“ہیں سختی سفر بہت تنگ پر منیر
گھر کو پلٹ ہی جائیں گے ایسے بھی ہم نہیں”
ہم وہ مسافر نہیں ہیں جو رکاوٹیں اور مشکلات دیکھ کر راستہ بدل لیں، ہم تو چلتے چلے جائیں گے جب تک منزل پر نہیں پہنچ جاتے
تم لاکھ کوششیں کر لو یہاں تمہاری دال نہیں گلنے والی
تمہارے اندھیروں سے خدا بچائے
ہم امید اور یقین کی شمع کو کبھی بجھنے نہیں دیں گے اور کوشش جاری رکھیں گے
کیونکہ “انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے وہ کوشش کرے”

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply