کامیاب شادی کے رہنما اصول / ماریہ بتول

ذرا سوچیں: جب دو روحیں، دو مزاج، دو پس‌منظر ایک ہی چھت تلے ملتی ہیں — کیا صرف محبت کافی ہے؟ یا پھر وہ “آلِ فٹ” ہونے کا احساس، وہ احساسِ تحفظ، وہ ارتقائی رفاقت درکار ہوتی ہے؟
شادی محض دو افراد کے درمیان ایک قانونی بندھن نہیں، بلکہ دو دلوں، دو خاندانوں اور دو دنیاؤں کے ملاپ کا نام ہے۔ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی ازدواجی زندگی محبت، سکون اور اعتماد سے بھرپور ہو۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ اُس وقت مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے جب اسے سمجھ بوجھ، برداشت اور ایثار کے اصولوں پر استوار نہ کیا جائے۔ کامیاب شادی کسی جادو یا تقدیر کا نتیجہ نہیں، بلکہ شعور، صبر اور تعلق نبھانے کی سنجیدہ کوششوں سے بنتی ہے۔
کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے چند ایسے رہنما اصول ہیں جن پر عمل کر کے ہر جوڑا اپنی زندگی کو بہتر، مضبوط اور پُر سکون کر سکتے ہیں ۔

اعتماد (اعتماد) اور سچائی (سچائی) ایک کامیاب شادی کے دو بنیادی اصول ہیں۔ ان کے بغیر کوئی بھی رشتہ مضبوط یا پائیدار نہیں رہ سکتا۔ آئیے ان دونوں اصولوں کو تفصیل سے سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ چند حقیقی مثالیں بھی دیکھتے ہیں۔
اعتماد کا مطلب ہے ایک دوسرے پر یقین رکھنا — کہ میرا شریکِ حیات میرے ساتھ مخلص ہے، میرے راز محفوظ ہیں، اور وہ میرے پیچھے میرے خلاف کوئی بات یا عمل نہیں کرے گا۔جب اعتماد قائم ہو جائے تو رشتہ سکون، محبت اور عزت سے بھر جاتا ہے۔جب بیوی اپنے شوہر پر اعتماد کرتی ہے، تو غیر ضروری شک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں۔جب شوہر اپنی بیوی پر یقین رکھتا ہے، تو وہ اُس کی رائے، فیصلے اور جذبات کی قدر کرتا ہے۔اعتماد رشتے میں خوف کے بجائے سکون پیدا کرتا ہے۔
مثال کے طور پر حضرت خدیجہؓ نے نبی اکرم ﷺ پر اُس وقت بھی مکمل اعتماد رکھا جب آپؐ نے پہلی وحی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بغیر کسی شک کے آپؐ کی سچائی اور نبوت پر یقین کیا۔ یہی اعتماد ان کے رشتے کو مثالی بناتا ہے۔
سچائی ہر رشتے کی بنیاد ہے۔ اگر شادی میں جھوٹ، دکھاوا یا دوغلا پن آجائے تو محبت آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے۔سچ بولنے والا شریکِ حیات نہ صرف اپنے رشتے کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ اللہ کے نزدیک بھی محبوب ہوتا ہے۔سچ بولنے سے دلوں میں صفائی پیدا ہوتی ہے۔غلط فہمیاں ختم ہوتی ہیں۔جھوٹ چھپانے کی عادت انسان کو ذہنی دباؤ میں ڈالتی ہے، جب کہ سچ بولنے والا پرسکون رہتا ہے۔
مثال کے طور پر حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا تعلق سچائی اور خلوص پر مبنی تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولا، نہ کسی بات کو چھپایا۔ یہی ان کے رشتے کی طاقت تھی۔
اعتماد اور سچائی ساتھ ہوں تودلوں میں امن ہوتا ہے۔غلط فہمیاں جگہ نہیں پاتیں۔ایک دوسرے کے فیصلوں کا احترام بڑھتا ہے۔اولاد کے سامنے بھی ایک مثبت مثال قائم ہوتی ہے۔
نتیجتاً کامیاب شادی کی بنیاد نہ خوبصورتی پر ہے، نہ دولت پر — بلکہ اعتماد اور سچائی پر ہے۔جو جوڑا ایک دوسرے پر اعتماد کرتا ہے اور سچائی سے زندگی گزارتا ہے، ان کا رشتہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔پہلا اصول اعتماد اور سچائی ہے۔ اعتماد کسی بھی رشتے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان اعتماد نہ رہے تو محبت بھی دم توڑ دیتی ہے۔ معمولی جھوٹ، چھپاؤ یا شک، اس مضبوط بندھن میں دراڑ ڈال دیتے ہیں۔ سچ بولنا اور دل کی بات صاف انداز میں کہنا رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔

احترام ایک کامیاب شادی کا دوسرا بنیادی اصول ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں تو رشتے میں اعتماد، محبت اور سکون خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ احترام صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ رویے، لہجے اور عمل میں بھی جھلکتا ہے۔
مثلاً، اگر شوہر اپنی بیوی کی رائے کو اہمیت دیتا ہے، اس کے جذبات کا خیال رکھتا ہے، تو یہ اس کے احترام کی علامت ہے۔ اسی طرح اگر بیوی شوہر کی محنت، قربانی اور فیصلوں کو تسلیم کرتی ہے تو یہ اس کے احترام کا اظہار ہے۔
احترام کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے خاندان، دوستوں، اور ذاتی وقت کا لحاظ رکھا جائے۔ بحث یا اختلاف کی صورت میں بھی تہذیب اور نرمی سے بات کی جائے۔ جب کوئی فریق دوسرے کو کمتر سمجھے یا اس کی تذلیل کرے، تو محبت اور اعتماد دونوں کمزور ہو جاتے ہیں۔
قرآن و سنت میں بھی ازدواجی زندگی میں احترام کی تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہو۔”(ترمذی)
عزت صرف مرد کا حق نہیں بلکہ عورت بھی اتنی ہی قابلِ احترام ہے۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے مقام، احساسات اور جذبات کی قدر کریں تو اختلاف بھی محبت میں ڈھل جاتا ہے.

تیسرا اصول برداشت اور درگزر ہے۔ کوئی بھی انسان کامل نہیں۔ غلطیاں سب سے ہوتی ہیں، مگر رشتے وہی قائم رہتے ہیں جہاں معافی دینے کا حوصلہ موجود ہو۔ “میں درست ہوں” کے رویے سے رشتہ نہیں چلتا، بلکہ “ہم درست ہوں” کا رویہ کامیابی کی کنجی ہے۔برداشت اور درگزر — ایک کامیاب ازدواجی زندگی کا سنہری اصول ہیں ۔ازدواجی زندگی دراصل دو مختلف مزاج، عادات اور سوچ رکھنے والے افراد کا ساتھ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر برداشت اور درگزر نہ ہو، تو معمولی باتیں بھی بڑے جھگڑوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
برداشت سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنے شریکِ حیات کی خامیوں، کمزوریوں یا کسی وقت کی ناپسندیدہ بات کو صبر و تحمل سے لیں، فوراً ردعمل نہ دیں، اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ انسان کامل نہیں ہوتا۔
درگزر یعنی معاف کر دینا — کسی غلطی، تلخ بات یا تکلیف دینے والے عمل کو دل سے نکال دینا اور دوبارہ اس کا ذکر نہ کرنا۔ درگزر دلوں کو جوڑتا ہے اور رشتوں میں نرمی پیدا کرتا ہے۔مثال کے طور پر فرض کریں شوہر کام کے دباؤ میں ہے اور گھر آ کر غصے میں بیوی سے سخت لہجے میں بات کر بیٹھتا ہے۔اگر بیوی فوراً جواب میں تلخ بات کرے تو معاملہ بگڑ سکتا ہے۔لیکن اگر وہ برداشت سے کام لے، خاموشی سے تھوڑا وقت دے اور بعد میں نرمی سے بات کرے تو نہ صرف معاملہ سلجھ جائے گا بلکہ شوہر کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگا۔یہی برداشت اور درگزر ہے، جو محبت اور اعتماد کو بڑھاتا ہے۔
اگر اسلامی نقطۂ نظرسے دیکھا جائے تو قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
“اور جو صبر کرے اور درگزر کرے، بے شک یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔”(سورۃ الشوریٰ: 43)
رسولِ اکرم ﷺ نے بھی فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔”(ترمذی شریف)
یعنی گھر کے رشتوں میں نرمی، صبر اور درگزر سے ہی اصل کامیابی ہے۔اس لیے کامیاب شادی وہ نہیں جس میں کبھی اختلاف نہ ہو،بلکہ کامیاب شادی وہ ہے جس میں اختلاف کے باوجود تعلق برقرار رہے —اور یہ صرف برداشت اور درگزر سے ممکن ہے۔

چوتھا اصول بات چیت اور سمجھ بوجھ ہے۔ خاموشی اور غلط فہمی کسی بھی رشتے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ جوڑے جب ایک دوسرے سے کھل کر بات کرتے ہیں، تو دل صاف ہوتے ہیں اور مسائل چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔ گفتگو محبت کا دروازہ کھولتی ہے۔شادی محض ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے — ایک ایسا وعدہ جس میں دو مختلف لوگ اپنی زندگی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر اس بندھن کو مضبوط بنانے کے لیے صرف محبت کافی نہیں، بلکہ بات چیت اور سمجھ بوجھ وہ دو ستون ہیں جن پر خوشگوار ازدواجی زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان مسائل کی جڑ خاموشی یا غلط فہمی ہوتی ہے۔ اگر ایک دوسرے سے کھل کر بات کی جائے تو چھوٹے چھوٹے اختلاف بڑے جھگڑوں میں نہیں بدلتے۔ بات چیت ایک ایسا ذریعہ ہے جو دلوں کے فاصلے کم کرتا ہے۔ اگر شوہر اپنی مصروفیات کے باوجود بیوی سے پوچھے، “آج تم تھکی ہوئی لگ رہی ہو، سب ٹھیک ہے؟” تو یہ معمولی جملہ بیوی کے دل میں سکون اور قربت پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح اگر بیوی کسی معاملے پر ناراض ہو، تو شوہر کا نرمی سے کہنا کہ “چلو بیٹھ کر بات کرتے ہیں” ایک بڑی غلط فہمی کو ختم کر سکتا ہے۔ گفتگو ہمیشہ احترام اور برداشت کے ساتھ ہو، کیونکہ سخت الفاظ کبھی کبھی محبت بھرے رشتوں میں دراڑ ڈال دیتے ہیں۔

سمجھ بوجھ بھی شادی کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ میاں بیوی کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہر انسان مختلف سوچ اور مزاج رکھتا ہے۔ اگر شوہر دفتر کے دباؤ میں خاموش ہے تو بیوی کو اسے شک یا بےرخی کے بجائے ہمدردی سے سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح اگر بیوی چپ ہے تو شوہر کو فوراً فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ضد کر رہی ہے، بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کسی بات سے دکھی ہے۔
مثال کے طور پر علی اور فاطمہ کی شادی کو چند سال ہوئے تھے مگر معمولی باتوں پر جھگڑے بڑھنے لگے۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ روزانہ رات کو دس منٹ ایک دوسرے سے صرف بات کریں گے۔ وقت کے ساتھ یہ بات چیت ان کے رشتے میں قربت، اعتماد اور سکون واپس لے آئی۔ یہ ثابت ہوا کہ گفتگو اور سمجھ بوجھ ہی اصل حل ہیں۔
لہذا شادی میں محبت ایک بیج کی مانند ہے، مگر اسے پروان چڑھانے کے لیے بات چیت پانی کا کام دیتی ہے اور سمجھ بوجھ دھوپ و ہوا کا۔ جب دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے درمیان صرف تعلق نہیں بلکہ ایک مضبوط دوستی بھی جنم لیتی ہے۔ یہی دوستی کامیاب شادی کا سب سے حسین راز ہے۔

کامیاب ازدواجی زندگی کا یہی اصول ہے کہ “جو وقت دیتا ہے، وہ رشتہ نبھاتا ہے۔”
پانچواں اصول وقت دینا ہے۔ ازدواجی زندگی کو صرف محبت نہیں، بلکہ موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ موبائل فون، کام یا سوشل میڈیا سے نکل کر اگر جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں، تو وہ ایک دوسرے کو بہتر سمجھ پاتے ہیں۔کامیاب شادی میں شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کو وقت دینا۔

کامیاب شادی کی بنیاد محبت، اعتماد اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے، لیکن ان سب جذبات کو زندہ رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز وقت دینا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں اپنی مصروف زندگی، کام، اور ذمہ داریوں میں الجھ کر اگر ایک دوسرے کے لیے وقت نہ نکالیں تو رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔

ایک دوسرے کو وقت دینے کا مطلب صرف ساتھ بیٹھنا نہیں بلکہ دل سے ایک دوسرے کو سننا، سمجھنا، اور احساس دینا ہے کہ آپ کی زندگی میں دوسرا شخص سب سے اہم ہے۔

julia rana solicitors

مثال کے طور پر اگر شوہر روزانہ اپنے کام سے تھکا ہارا گھر آئے، اور بیوی اس سے صرف چند منٹ پیار سے بات کرے، اس کے دن کا حال پوچھے تو وہ لمحے ان کے تعلق میں تازگی لے آتے ہیں۔ اسی طرح اگر بیوی گھر کے کاموں میں مصروف ہو اور شوہر تھوڑا وقت نکال کر اس کے ساتھ چائے پی لے، یا اس کی باتیں توجہ سے سنے، تو یہ چھوٹی سی توجہ بڑے رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔اس عمل سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔
وقت دینے سے ایک دوسرے کے احساسات اور ضروریات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔غلط فہمیاں کم ہوتی ہیں: جب بات چیت کا وقت ہو تو دل کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں اور رنجشیں ختم ہوتی ہیں۔پیار میں اضافہ ہوتا ہے: روزانہ چند لمحوں کی قربت محبت کو تازہ رکھتی ہے۔
نتیجتاً کامیاب شادی وہ نہیں جس میں شوہر اور بیوی ہر وقت ساتھ ہوں، بلکہ وہ ہے جس میں وہ ایک دوسرے کے لیے وقت نکالتے ہیں، چاہے مصروفیت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ وقت دینا دراصل محبت کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کامیاب شادی وہ نہیں جس میں کبھی لڑائی نہ ہو، بلکہ وہ ہے جس میں ہر اختلاف کے بعد ایک دوسرے کو چھوڑنے کے بجائے تھام لیا جائے۔ زندگی کی اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی بنیں، بوجھ نہیں۔محبت وقتی جوش سے نہیں بلکہ مستقل کوشش، خلوص اور ایثار سے پروان چڑھتی ہے۔ اگر ہم ان رہنما اصولوں پر عمل کریں تو شادی صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت بن سکتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply