یونیورسٹیوں کی یہ بہار بھی کچھ عجیب ہے۔ خیبر پختونخوا کے نقشے پر اگر تعلیمی اداروں کی نشانیاں لگائی جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر ضلع میں کسی وزیر، مشیر یا ایم پی اے نے ووٹ لینے کے شوق میں ایک نئی یونیورسٹی اگا دی ہو۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب صوبے میں چونتیس جامعات موجود ہیں، مگر علم کا دریا سوکھتا جا رہا ہے۔ عمارتیں شاندار ہیں، لیکن کلاس روم خالی۔ وائس چانسلرز کی گاڑیاں چمک رہی ہیں، مگر لیکچر ہالوں میں سناٹا ہے۔
پشاور یونیورسٹی جو کبھی خیبر کی علمی پہچان تھی، آج اپنی پچپن ویں سالگرہ اس دکھ کے ساتھ منا رہی ہے کہ اسے اپنے نو ڈیپارٹمنٹ بند کرنے پڑے، کیونکہ وہاں پندرہ طلبہ بھی داخل نہیں ہوئے۔ کبھی یہی یونیورسٹی علم و تحقیق کا محور تھی، اب بجٹ خسارے کا گڑھا بن چکی ہے۔ تعلیمی عملہ مہینوں تنخواہوں کا منتظر رہتا ہے، جب کہ غیر تدریسی عملے کی فوج ظفر موج یونیورسٹی کے مالی وسائل چوس رہی ہے۔ جنہیں کلاس پڑھانی تھی، وہ مایوس بیٹھے ہیں، اور جنہیں فائلوں پر دستخط کرنے ہیں، ان کے دفاتر اے سی سے ٹھنڈے ہیں۔
یہی وہ تضاد ہے جس نے تعلیم کو اشرافیہ کی جاگیر اور عوام کے لیے خواب بنا دیا۔ مہنگے ترین سمسٹر سسٹم نے متوسط طبقے کو اعلیٰ تعلیم سے عملاً بے دخل کر دیا ہے۔ فیسوں میں ہر سال بے لگام اضافہ ہوتا ہے، لیکن تعلیم کا معیار وہیں کا وہیں۔ اگر کسی غریب کے بچے نے ہمت کر کے داخلہ لے بھی لیا تو کتابیں، ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اسے بیچ راہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اب تعلیم کے بجائے روزگار کے لیے خلیج، یورپ یا کوریا جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
بیشتر جامعات نے ایسے مضامین کے شعبے کھول رکھے ہیں جن کا نہ بازار میں کوئی خریدار ہے، نہ قومی ضرورت میں کوئی حصہ۔ مثلاً جغرافیہ، ارضیات، بشریات اور فیملی اسٹڈیز جیسے مضامین میں چند گنے چنے طلبہ رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف کمپیوٹر سائنس، فارمیسی اور پولیٹیکل سائنس کے شعبے بھیڑ سے بھرے ہیں۔ یہ تضاد ہمارے تعلیمی فلسفے کی سطحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم علم کو قوم سازی کا ذریعہ نہیں بلکہ نوکری پانے کا شارٹ کٹ سمجھ بیٹھے ہیں۔
حکمران طبقے نے علم کو کبھی ترجیح نہیں دی۔ پچھلے تیرہ برس سے صوبے پر وہی جماعت مسلط رہی جس نے تبدیلی کے نعرے لگاتے لگاتے تعلیم کی جڑیں کاٹ ڈالیں۔ سکولوں میں اساتذہ کی کمی، کالجوں میں لیبارٹریوں کا فقدان، اور جامعات میں بجٹ کی بندش، یہی ان کی میراث ہے۔ وفاق اور صوبہ دونوں ایک دوسرے پر الزام دھر کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، اور بیوروکریسی فائلوں میں علم کے کفن لپیٹتی ہے۔
یہ المیہ صرف پشاور یونیورسٹی تک محدود نہیں۔ صوبے کی بیس کے قریب جامعات دیوالیہ پن کے دہانے پر ہیں۔ کچھ کے پاس اساتذہ کی تنخواہیں دینے کے لیے فنڈ نہیں، کچھ اپنے بل ادا نہیں کر سکتیں۔ لیکن نئی یونیورسٹی بنانے کے اعلانات پھر بھی جاری ہیں، شاید کیونکہ تختی لگانا آسان ہے، نظام چلانا نہیں۔
مزاح کا پہلو یہ ہے کہ اسی صوبے میں حالیہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں 1800 ایم بی بی ایس اور ڈینٹل نشستوں کے لیے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ امیدوار شریک ہوئے۔ گویا ہر دوسرا نوجوان ڈاکٹر بننے کا خواہاں ہے، جیسے قوم کی نجات کا راز بس سفید کوٹ پہن لینے میں پوشیدہ ہو۔ دوسری طرف سماجی علوم، تحقیق اور تعلیم کے شعبے ویران پڑے ہیں۔ گویا ہم نے علم کو پیشے میں بدل دیا اور عقل کو ڈگری میں ناپنے لگے۔
حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی زوال کا ذمہ دار کوئی ایک حکومت نہیں، بلکہ پورا نظام ہے جو فائلوں، مراعات، اور سفارشوں کی بنیاد پر چلتا ہے۔ علم اب چراغِ راہ نہیں رہا بلکہ بجٹ کا خانہ بن گیا ہے۔ پشاور یونیورسٹی اور اس جیسی دیگر جامعات کے مسائل رقم یا داخلوں کے نہیں، ترجیحات کے ہیں۔ اگر تعلیم کو قوم کی تعمیر کا ستون سمجھا جاتا تو آج خیبر پختونخوا کے نوجوان بیرونِ ملک ویزوں کی لائن میں نہیں، تحقیق کی لیبارٹریوں میں کھڑے ہوتے۔

یہ وقت محض افسوس کرنے کا نہیں، اصلاح کرنے کا ہے۔ بصورتِ دیگر آنے والی نسلیں شاید یونیورسٹیوں کو صرف تاریخی آثار میں شمار کریں گی، جہاں کبھی علم کے چراغ جلتے تھے، مگر اب صرف بجلی کے بل رہ گئے ہیں۔
بشکریہ فیسبک وال
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں