صحرائی سرگوشیاں (حصّہ دوم )-علی عبداللہ

 زہرہ کا پہلا خط

عبداللہ،
کچھ دن ہوئے، میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ نہ الفاظ بلاتے ہیں، نہ خیال جاگتے ہیں۔
شاید میں لفظوں سے باہر آ گئی ہوں، یا لفظ مجھ سے خفا ہو گئے ہیں۔ کبھی سوچتی ہوں، آگہی بھی موسموں کی طرح ہوتی ہے، بہار میں تو ہر شے روشن لگتی ہے، اور جب خزاں آتی ہے تو روشنی بھی بوجھ سی بن جاتی ہے۔
مجھے لگتا ہے، میں اسی خزاں میں ہوں۔ آگہی نے مجھ سے معصومیت چھین لی اور بدلے میں سکون بھی نہ دیا۔ اب میں جانتی بہت کچھ ہوں، مگر محسوس کچھ بھی نہیں کر پاتی۔

زہرہ
————— —

عبداللہ کا جواب

زہرہ،
یہی آگہی کا پہلا زخم ہے۔ جب انسان جاننے لگتا ہے، تو جینے کا سادہ لطف چھن جاتا ہے۔
زندگی کے پردے اُترنے لگتے ہیں- ہم دیکھتے ہیں کہ ہر منظر کے پیچھے صرف ریت ہے۔
میں بھی کچھ دنوں سے خود سے مکالمہ کر رہا ہوں۔ عجیب ہے، مگر خود سے بات کرنا سب سے خاموش گفتگو ہے۔ اندر کے سوال کبھی ختم نہیں ہوتے، بس ان کے لہجے بدلتے رہتے ہیں۔

تم نے کبھی سوچا ہے؟ جو ہم سمجھنے لگتے ہیں، وہی چیز ہم سے دور چلی جاتی ہے محبت، سکون، یقین۔۔ یہ سب سمجھ جانے کے بعد برقرار نہیں رہتے۔ کیوں؟

عبداللہ
————- —-

زہرہ کا دوسرا خط

عبداللہ،
آپ کی بات درست ہے۔ جو چیز سمجھ میں آ جائے، وہ جادو نہیں رہتی۔ اسی لیے میں نے اب کچھ چیزیں سمجھنے کی کوشش چھوڑ دی ہے۔ میں اب صرف دیکھتی ہوں، جیسے کوئی درویش درختوں کو دیکھ کر چپ ہو جائے۔ نہ کچھ مانگے، نہ کچھ سمجھے، بس موجودگی کو محسوس کرے۔
شاید یہی خاموش آگہی ہے جو سمجھ کے بغیر شعور دیتی ہے۔

زہرہ
————– ——–

عبداللہ کا تیسرا خط

زہرہ،
تمہارے الفاظ میں اب سکون ہے، مگر وہ سکون جو تھکن سے آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے تم نے خود سے لڑتے لڑتے ہتھیار رکھ دیے ہیں۔ مگر جان لو، آگہی کے موسم ہمیشہ خزاں نہیں رہتے۔ کبھی کبھی انہی خشک شاخوں سے نئے پتے بھی نکلتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان تھکنے کے باوجود یقین سے دستبردار نہ ہو۔

مجھے یاد ہے تم نے کہا تھا، “میں حقیقت میں رہتی ہوں، تخیل نہیں لکھ سکتی۔” مگر حقیقت اگر تخیل سے خالی ہو جائے تو وہ پتھر بن جاتی ہے۔ اور تخیل اگر حقیقت سے دور ہو جائے تو خوابوں کا دھوکا۔
اصل آگہی تو ان دونوں کے درمیان توازن ہے۔

عبداللہ
——– ———-

زہرہ کا جواب

عبداللہ،
توازن…شاید یہی لفظ زندگی کا خلاصہ ہے۔ میں نے ہمیشہ ایک انتہا سے دوسری انتہا تک سفر کیا ہے- خواب سے حقیقت، احساس سے منطق، اور اب ادراک سے خاموشی تک۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں، آگہی کے بعد محبت باقی رہ سکتی ہے؟ یا وہ بھی تجزیے میں تحلیل ہو جاتی ہے؟
آپ کے خیال میں علم اور محبت ایک ساتھ جی سکتے ہیں؟

زہرہ
———————————————————-

عبداللہ کا چوتھا خط

زہرہ،
نہیں۔۔ علم اور محبت ایک ہی چراغ میں نہیں جلتے۔ علم دیکھتا ہے، محبت محسوس کرتی ہے۔ اور انسان وہی لمحے جیتا ہے جہاں دیکھنا اور محسوس کرنا ایک ہو جائیں۔
میں سمجھتا ہوں، آگہی کا مقصد علم نہیں، شفقت ہے۔ جو جتنا جانتا ہے، اسے اتنا ہی نرمی سے برتنا سیکھنا چاہیے۔
آگہی کا آخری موسم بہار نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب انسان دوسروں کے دکھ کو اپنے اندر سے گزرنے دیتا ہے، اور پھر بھی خاموش رہتا ہے۔

عبداللہ
———————————————————-

زہرہ کا آخری خط

عبداللہ،
شاید آپ ٹھیک کہتے ہیں- آگہی کا انجام بولنا نہیں، سننا ہے۔ اور محبت کی معراج سمجھانا نہیں، سمجھنا ہے۔ اب میں نہ فکشن لکھنا چاہتی ہوں، نہ حقیقت بیان کرنا۔ میں تو بس اتنا چاہتی ہوں کہ میرے اندر اور باہر ایک سا سکوت ہو جائے۔
یہی سکوت شاید آگہی کا آخری موسم ہے۔

زہرہ

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply