جمشید اقبال کی صفات اربعہ پر غور کروں تو باربار سوچنا پڑتا ہے کہ کون سی بات پہلے کی جائے، ان کی ساحرانہ گفتگو، ان کی مسحور کن تحریر، ان کی مشرقی روح شناسی یا ان کی مغرب کی فکر فہمی ۔ گفتگو کی مہارت و روایت سوشل میڈیا کے یاجوج ماجوج کی یلغار سے مر تی جارہی ہے جس سے ڈیوڈ بوہم کا یہ خیال سچ ثابت ہورہا ہے کہ کمیونیکیشن کے اس دور میں سب سے بڑا خطرہ خود کمیونیکیشن کو لاحق ہے۔ سمارٹ سکرین میں گمشدہ نسل میں نہ خوبصورت گفتگو کرنے کی صلاحیت باقی رہی نہ خوبصورت گفتگو سے متمع ہوکر حظ اٹھانے کی قابلیت۔ ایسے قحط و وبا میں جمشید اقبال فن گفتگو کے ماہر و ساحر ہیں۔ جب بولتے ہیں میں سوچتا ہوں ’’ان من البیان لسحرا ‘‘انہیں کے بارے میں ہے۔ زندہ و تابندہ گفتگو کرتے ہیں۔ سامع اور مخاطب کی نبض پر انگلی رکھ کر بولتے ہیں۔ نکتہ آفرینی کیساتھ سہل ممتنع جیسا اسلوب۔ لطافت و ذکاوت سے بھر پور اور علمیت و منطقیت سے لبریز۔ جب ان کو سنتا ہوں لگتا ہے سعدی اور ڈاکٹر جانس کی کسی محفل میں بیٹھا ہوں؛ شفابخش مکالمے کی روایت شاید اردو دنیا میں ان سے شروع ہوکر ان ہی پر ختم ہوکے رہے گی۔
پھر معاملہ صرف گفتار پر ختم نہیں ہوتا کیونکہ ان کی تحریر بھی خاموش نہیں۔ ان کی تحریر بولتی ہے، گاتی ہے۔ ان کا ہر لفظ جاندار اور سانس لینے والا ذی روح ہے۔ جب ان کو پڑھتا ہوں، نہیں ، جب ان کی تحریر سنتاہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک متجسس بچے کی طرح دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھ کر ان کے بیان اور بیانئے میں اردگرد کائنات کو فراموش کردوں ۔ لہٰذا ان کی یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے بار ہا یہ لگا کہ جیسے میں انہیں پڑھ نہیں رہا بلکہ سُن رہا ہوں۔ یقین نہ آئے تو زیرِ نظر کتاب سے اُن کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’خدا کو خالق کہا جاتا تو انسان فنون، ادب، موسیقی اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی اور ممکنہ دنیائیں تخلیق کرنے کے لئے دن رات مصروفِ عمل ہے۔ المختصر، چاہے کوئی صوفی شاعر ہو یا خُدا کا منکر یا پھر ایک سائنس دان یہ سب تخلیق کے عمل میں اسی صفت کو منعکس کررہے ہیں جو پہلے پہل صفتِ خداوندی کے طور پر متعارف کرائی گئی اور انسان میں خوابیدہ کامل ہونے کا امکان اس پر فریفتہ ہوگیا ۔ اس نے کہا ، ہاں میں یہ ہوسکتا ہوں۔ پھر وہ مجنوں بن کر اس لیلیٰ کا آج تک تعاقب کررہا ہے۔ شاید یہ لیلیٰ کبھی اس کے ہاتھ نہ آئے کیونکہ یہ لیلیٰ بھی کیٹس کے یونانی مرتبان Grecian Urn پر نقش وہ محبوبہ ہے جس پر محبوب صدیوں سے جھکا ہوا ہے ۔۔ لیلیٰ ہاتھ نہیں آئے گی تو محبوب بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ‘‘
مجھے الفاظ سے ہمیشہ ہمدردی رہی ہے۔الفاظ کائنات کے سب نازک ذی روح ہیں، اور بنی آدم ہمیشہ ان کے قاتل ۔ جب ہم ہر لفظ کو اس کے اندر چھپی روح کے مطابق استعمال نہیں کرتے ہم اس لفظ کو سولی پر چڑھانے کے مجرم ہوتے ہیں۔ اور یہ گناہ کبیرہ گفتگو و تحریر کے دنیا کے نہایت محتاط و متقی سے بھی سرزد ہوتی رہتی ہے۔ جمشید اقبال الفاظ کی نازک ترین ارواح کو سنبھالنا جانتا ہے۔ الفاظ سے ان کو عشق ہے، اور الفاظ ایسے ذی روح ہیں جو اپنے ہر عاشق کی اہمیت جانتے ہیں اور ایک خود سپردگی کے ساتھ خود کو ان کے حوالے کرتے ہیں۔ الفاظ جمشید اقبال کے ایسے مانوس ساتھی ہیں ہے جو ان کے beck and call پر یاتونه سعیا۔ ۔ ۔ دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔،اور ghost of a chance بن کر نہیں آتے، ان کے اشاروں پر باقاعدہ رقص کرتے ہیں۔
اسی کتاب سے ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں:
’’ کیرکیگارڈ کے نزدیک ایمان عقل سے دُشمنی مول لینے کا نام نہیں، جیسے ہمارے ہاں سمجھایا گیا ہے ، بلکہ اس کے بعد کا ایک مرحلہ ہے۔مثلاً عقل ہمیں امکانات تک لے کر آتی ہے ۔ جیسے ہم عقل کی روشنی میں چلتے چلتے ایک چوراہے پر آتے ہیں لیکن ممکنہ چار راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب جو قوت کرتی ہے اُسے ایمان کہتے ہیں۔ لہٰذا جس نے عقل کا استعمال نہ کیا ، وہ امکانات کے چوراہے پر کبھی نہیں پہنچے گا اور اس چوراہے پر پہنچے بغیر اگر ایمان کا دعویٰ کرے گا تو وہ دراصل اپنی کم عقلی ، کورچشمی ، سُستی اور بھیڑ چال کو ہی ایمان سمجھ رہا ہے‘‘ ۔
جمشید اقبال کا مقام بطور نثر نگار ابدی ہے اور ہم ان کے نثر کے تیغ اصیل کے قتیل۔
گفتگو و تحریر اعلیٰ ہونے کیلئے علمیت اور فکری اثاثہ بھی ہونا چاہیے۔ پھر گفتگو تحریر علم و فکر سب کی صحت کیلئے منطق کی ڈھال بھی لازمی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے آپ پر واضح ہوگا کہ جمشید اقبال منطق کے حفظ و حصار میں ایک زبردست تندرست علمیت، اور توانا فکری سرمائے کے مالک ہیں۔
مشرق کی وجدانی، روحانی دینی روح و روایت کے مطب میں براجمان جمشید اقبال ایک حاذق طبیب ہیں۔ ہر قسم کی جڑی بوٹی ، اکسیر و معجون کی اصل و تاثیر سے واقف۔
لیکن جمشید اقبال کی حاذقیت فقط مشرقی وجدان و معانی تک نہیں۔ وہ ان سب سے بڑھ کر مغرب کی یخ و عمیق فکر کے نباض ہیں اور یہی ان کا سب سے بڑا کمال ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ یہ لیوی اسٹروس کا خیال تھا۔ تاہم راقم کا بھی خیال یہ ہے کہ اگرچہ مہ پارہ بھی پزل حل کرلیتی ہے اور ایک بچے کا طریقہ کار دوسرے بچے کے طریقہ کار سے برتر یا کمتر نہیں ہے لیکن اگر پزل حل کرنے کے بعد سانول سے پوچھا جائے کہ اس نے پزل کیسے حل کیا تو وہ بتا سکتا ہے مگر مہ پارہ نہیں بتا سکتی۔ سانول کسی کو سکھا سکتا ہے، لیکن مہ پارہ نہیں سکھا سکتی۔ وہ بس یہ کہہ سکتی ہے کہ بس مجھ سے ہو گیا۔
اس پر راقم نے کہیں پر ایک نان بائی کی کہانی بھی پڑھی تھی جو انتہائی خستہ نان بناتا ہے لیکن اس کا خیال ہے کہ بس اس سے بن جاتے ہیں۔
سائنس کی زُبان میں ہم نان بائی کے اس طرز کے علم کو مخفی (tacit) علم کہیں گے ۔ اس علم میں نان بائی کے ہاتھوں کی گرمی اور خلوص کی حلاوت بھی شامل ہے جو محسوس کی جاسکتی ہے مگر سکھائی نہیں جاسکتی ۔ لیکن جب یہ گرمی نان بنانے کی ترکیب بنتی ہے تو ایک ایسا طریقہ کار بن جاتا ہے جسے ہر کوئی بار بار دہرا کر مطلوبہ نتیجہ حاصل کرسکتا ہے۔ جب ایسا ہوجاتا ہے تو اصطلاحاً ہم کہیں گے کہ نان بائی کا مخفی علم مجازی (explicit) علم میں بدل گیا ہے۔ اب یہ علم دُوسروں تک منتقل کیا جاسکتا ہے ۔
یہاں پر ایک نکتہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ مخفی یا پُراسرار قسم کا علم مجازی علم میں ڈھلتا ہے تب ہی انفرادی شعبدہ گری اجتماعی ترقی میں بدلتی ہے۔ اس لئے اس طالب علم کا خیال ہے کہ بدوی ذہن کا اسرار اگرچہ دنیا کو جادونگری دکھاتا ہے اور کسی جادوگر، کاہن اور شعبدہ باز کے علم کو پُراسرار قوتوں کا انعام بتاتا ہے مگر یہ ذہن ایسے معاشرے ، ایسے ذہن اور ایسے افراد پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے جو علم اور ترقی پر مبنی معاشرے تشکیل دے سکیں۔ ‘‘
یہ صرف چند مثالیں ہیں اور اس کتاب میں آپ کو بہت سی ایسی مثالیں اور دلائل ملیں گے جو آپ کو چونکا کر رکھ دیں گے۔ المختصر، اس کتاب کے مطالعے کے دوران آپ وجد میں آئیں گے، زندگی لا تعداد رنگوں اور اپنے تمام ممکنہ معانی کے ساتھ آپ پر آشکار بھی ہوگی اور آپ کو تکمیل ِ ذات یعنی عمودی ارتقا کے راستے بھی دکھائے گی۔ لیکن اس میں کما ینبغی غرق ہو جانا اور کما حقہ محو ہونا شرط ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ ڈوب کر نکلیں گے تو زندگی کو ایک نئی آنکھ سے دیکھ پائیں گے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں